بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے اور اس کی جمہوری روایتوں کی بنیاد عوامی مینڈیٹ کے احترام پر قائم ہے۔ آزادی کے بعد سے ملک میں بے شمار انتخابات ہوئے، کئی حکومتیں آئیں اور گئیں، مگر ایک روایت ہمیشہ برقرار رہی کہ عوام جس جماعت کو اقتدار سونپتے ہیں، اقتدار کی منتقلی آئینی اور جمہوری طریقے سے انجام پاتی ہے۔ یہی روایت بھارت کے وفاقی ڈھانچے، آئین اور جمہوری استحکام کی اصل روح بھی ہے۔ لیکن مغربی بنگال اسمبلی انتخابات۲۰۲۶ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے اس روایت کو ایک غیر معمولی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق بی جے پی نے۲۹۴ رکنی اسمبلی میں۲۰۷نشستیں حاصل کیں جبکہ ممتا بنرجی کی جماعت صرف۸۰نشستوں تک محدود رہی۔ ایسے واضح نتائج کے بعد عام طور پر یہی توقع کی جاتی ہے کہ سبکدوش ہونے والی حکومت عوامی فیصلہ قبول کرتے ہوئے اقتدار چھوڑ دے گی تاکہ نئی منتخب حکومت کام شروع کر سکے۔ مگر ممتا بنرجی نے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے استعفیٰ دینے سے صاف انکار کر دیا۔
ممتا بنرجی کا مؤقف یہ ہے کہ انتخابات شفاف نہیں تھے، الیکشن کمیشن نے بی جے پی کے ساتھ مل کر نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی اور ان کی جماعت کی تقریباً سو نشستیں ’چرائی‘ گئیں۔ جمہوریت میں کسی بھی سیاسی جماعت یا رہنما کو انتخابی نتائج پر اعتراض کرنے، عدالت سے رجوع کرنے یا قانونی چارہ جوئی کا مکمل حق حاصل ہے۔ یہی جمہوریت کا حسن بھی ہے کہ ہر فریق کو اپنی بات رکھنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ لیکن اس حق کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کوئی منتخب وزیراعلیٰ عوامی مینڈیٹ کو ماننے سے ہی انکار کر دے اور اقتدار چھوڑنے سے انکاری ہو جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ جمہوری روایات، سیاسی اخلاقیات اور آئینی ذمہ داریوں کا مجموعہ ہے۔ آئین میں اگرچہ یہ واضح طور پر درج نہیں کہ انتخاب ہارنے کے بعد وزیراعلیٰ فوراً استعفیٰ دے، مگر پارلیمانی جمہوریت کی روح یہی تقاضا کرتی ہے کہ جب کوئی حکومت اسمبلی میں اکثریت کھو دے تو وہ اقتدار میں رہنے کا اخلاقی اور آئینی جواز بھی کھو دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں ماضی میں بڑی سے بڑی سیاسی شکست کے باوجود وزرائے اعلیٰ اور وزرائے اعظم نے وقار کے ساتھ اقتدار منتقل کیا۔
ممتا بنرجی کا یہ کہنا کہ’میں نہیں ہاری، اس لیے استعفیٰ نہیں دوں گی‘، دراصل ایک خطرناک نظیر قائم کر سکتا ہے۔ اگر ہر شکست خوردہ رہنما یہی مؤقف اختیار کر لے تو پھر انتخابی نتائج کی حیثیت کیا رہ جائے گی؟ پھر ہر انتخاب کے بعد سیاسی بحران، آئینی تصادم اور انتظامی افراتفری جنم لے گی۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف جمہوری اداروں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہوتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت کی سیاست میں الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالات پہلے بھی اٹھتے رہے ہیں۔ مختلف اپوزیشن جماعتیں حالیہ برسوں میں مہاراشٹر، ہریانہ اور بہار کے انتخابات کے حوالے سے بھی اعتراضات کرتی رہی ہیں۔ اس لیے اگر ممتا بنرجی کو انتخابی عمل پر اعتراضات ہیں تو انہیں قانونی اور آئینی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ عدالتیں موجود ہیں، الیکشن ٹربیونل موجود ہیں اور آئینی ادارے بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن اقتدار سے چمٹے رہنا اور عوامی فیصلے کو تسلیم نہ کرنا جمہوری مزاج کے خلاف ہے۔
اس بحران نے مغربی بنگال کے گورنر کے کردار کو بھی اہم بنا دیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل۱۶۴(۱) کے تحت وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ گورنر کی ’شنودی‘ تک اپنے عہدے پر برقرار رہتی ہے۔ ایسی صورت میں جب واضح ہو جائے کہ وزیراعلیٰ کے پاس اسمبلی کی اکثریت موجود نہیں، گورنر انہیں اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔ اگر وہ ایسا نہ کر سکیں تو گورنر انہیں برطرف کر کے اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کی دعوت دے سکتے ہیں۔
سینئر وکیل مہیش جیٹھ ملانی نے بھی ممتا بنرجی کے رویے کو جمہوری نظام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن کی طرف سے نتائج کی توثیق کے بعد وزیراعلیٰ اپنی اخلاقی حیثیت کھو دیتی ہیں اور اگر وہ پھر بھی عہدے سے چمٹی رہیں تو گورنر کو انہیں برطرف کر دینا چاہیے۔ اگرچہ ان کے بیانات سخت اور جارحانہ ہیں، مگر اس سے یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ اس معاملے نے ملک میں ایک سنجیدہ آئینی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
یہ صورتحال صرف مغربی بنگال تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات پورے ملک کی سیاست اور جمہوری ڈھانچے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ روایت قائم ہو گئی کہ شکست خوردہ حکومتیں اقتدار چھوڑنے سے انکار کر سکتی ہیں تو مستقبل میں ہر انتخاب کے بعد سیاسی عدم استحکام پیدا ہوگا۔ بھارت جیسے کثیر الجماعتی اور وفاقی ملک میں یہ رجحان انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
جمہوریت میں اصل طاقت عوام کے ووٹ کی ہوتی ہے۔ سیاسی جماعتیں اور رہنما عوامی مینڈیٹ کے ذریعے ہی اقتدار حاصل کرتے ہیں اور اسی مینڈیٹ کے تحت اقتدار سے رخصت بھی ہوتے ہیں۔ اقتدار مستقل نہیں ہوتا، مگر جمہوری اقدار مستقل ہونی چاہئیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بالغ جمہوریت میں شکست کو بھی وقار کے ساتھ قبول کرنا سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
ممتا بنرجی ماضی میں خود جمہوریت، وفاقیت اور آئینی حقوق کی علمبردار رہی ہیں۔ انہوں نے مرکز کی کئی پالیسیوں کے خلاف مضبوط آواز بلند کی اور خود کو عوامی حقوق کی محافظ کے طور پر پیش کیا۔ ایسے میں ان سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ بھی جمہوری روایتوں کا احترام کریں گی۔ اگر انہیں نتائج پر اعتراض ہے تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتی ہیں، مگر اقتدار چھوڑنے سے انکار جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ مغربی بنگال میں آئینی بحران کو مزید گہرا ہونے سے بچایا جائے۔ گورنر، عدلیہ اور دیگر آئینی اداروں کو بھی اپنی ذمہ داریاں دانشمندی سے ادا کرنی ہوں گی تاکہ ملک کی جمہوری ساکھ متاثر نہ ہو۔ سب سے بڑھ کر سیاسی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جمہوریت صرف جیتنے کا نام نہیں بلکہ ہار کو تسلیم کرنے کا حوصلہ بھی جمہوری عمل کا بنیادی حصہ ہے۔





