(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۴ مئی
مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی زبردست جیت پر ریاست کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو کہا کہ بنگال کے عوام نے دراندازوں اور ان کے ہمدردوں کو ایک مضبوط پیغام بھیجا ہے، اور واضح کیا کہ تسکین (ایپیسمنٹ) کی سیاست کرنے والی جماعتیں یہ سبق کبھی نہیں بھولیں گی۔
ایکس پر پوسٹس کے ایک سلسلے میں، انہوں نے کہا کہ زبردست عوامی مینڈیٹ خوف، تسکین، اور دراندازوں کو تحفظ دینے والوں کے لیے عوام کے جواب کی عکاسی کرتا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا’’بنگال کے عوام کو لاکھوں سلام۔یہ ٹی ایم سی کے خوف پر جناب نریندرا مودی جی میں اعتماد کی جیت ہے۔ میرے جیسے ہر بی جے پی کارکن کے لیے یہ فخر کا لمحہ ہے کہ گنگوتری میں ماں گنگا کے منبع سے لے کر گنگا ساگر تک، آج بی جے پی کا بھگوا پرچم ہر جگہ فخر سے لہرا رہا ہے‘‘۔
شاہ نے بنگال میں بی جے پی کی ’تاریخی فتح‘ کو لاتعداد کارکنوں کی قربانیوں، جدوجہد اور شہادت کا نتیجہ قرار دیا۔
وفاقی وزیر داخلہ کاکہنا تھا ’’یہ ان خاندانوں کے صبر کی جیت ہے جنہوں نے تشدد برداشت کرنے کے باوجود بھگوا پرچم کو کبھی نہیں چھوڑا۔ بی جے پی کے صفر سے آج زبردست اکثریت تک کے اس جفا کش سفر میں، میں ان تمام کارکنوں کو سلام کرتا ہوں جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں، تشدد برداشت کیا، اذیتیں جھیلیں، پھر بھی نظریے کے راستے سے کبھی نہیں ہٹے—اور ان کے خاندانوں کو بھی۔ بنگال کے عوام نے اس زبردست اکثریت کے ذریعے ان تمام شہید بی جے پی کارکنوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے‘‘۔
مرکزی وزیر داخلہ نے اعتماد کا اظہار کیا کہ بنگال نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں اس اعتماد کے ذریعے جو امیدیں اور تمنائیں ظاہر کی ہیں، وہ پوری ہوں گی۔انہوں نے کہا ’’بنگال کے عوام نے دراندازوں اور ان کے ہمدردوں کو ایسا سبق سکھایا ہے کہ تسکین (ایپیسمنٹ) کی سیاست میں ملوث جماعتیں کبھی نہیں بھول پائیں گی‘‘۔
شاہ نے یہ بھی عزم کیا کہ بی جے پی بنگال کی کھوئی ہوئی شان واپس لانے کے لیے انتھک محنت کرے گی، یہ ایک مقدس سرزمین ہے جو چیتنیہ مہاپربھو، سوامی ویویکانند، کوی گرو ٹیگور، نیتا جی سبھاش چندر بوس، اور ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی جیسی عظیم شخصیات کا گھر رہی ہے، ساتھ ہی ’سونار بنگال‘ کے خواب کو پورا کرنے کی کوشش کرے گی۔










