تمل ناڈو میں ٹی وی کے کی جیت‘کیرالا میں یو ڈی ایف کامیاب
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۴مئی
ملک کی چار اہم ریاستوں‘مغربی بنگال، آسام، تمل ناڈو، کیرالا اور پڈوچیری یونین ٹیریٹری‘میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے شاندار کار کردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔بی جے پی نےمغربی بنگال میں ممتا بینرجی کے ۱۵ سالہ دور کو ختم کیا ہے جبکہ آسام میں اس نے دو بارہ الیکشن جیت لیا ہے ۔
تمل ناڈو میں فلم ایکٹر وجے کمار کی جماعت ‘ٹی وی کےنے شاندار جیت درج کرکے وہاں کی روایتی حریف سیاسی جماعتوں ڈی ایم کے اور اے آئی ڈی ایم کے کو شکست دی ہے ۔ کیرالا میں کانگریس کے قیادت والے اتحاد ‘ یو ڈی ایف نے فتح حاصل کی ہے ۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مشرقی ریاست مغربی بنگال میں سب سے بڑی سیاسی تبدیلی دیکھنے میں آئی، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے۲۹۴رکنی اسمبلی میں ۲۰۸ نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔ ریاست میں طویل عرصے سے برسراقتدار ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو اس بار واضح دھچکا لگا اور وہ ۷۹نشستوں تک محدود ہو کر رہ گئی، جبکہ دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے باقی نشستیں حاصل کیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بنگال میں یہ نتیجہ ایک بڑی عوامی تبدیلی کی علامت ہے، جہاں ووٹرز نے نئے سیاسی متبادل کو ترجیح دی۔
شمال مشرقی ریاست آسام میں بی جے پی کی قیادت میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) نے اپنی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر اقتدار حاصل کر لیا ہے۔۱۲۶ رکنی اسمبلی میں این ڈی اے نے۱۰۲نشستیں حاصل کیں، جبکہ کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو۲۳نشستیں مل سکیں۔ باقی نشستیں دیگر جماعتوں کے حصے میں آئیں۔
جنوبی ریاست تمل ناڈو میں اس بار سب سے حیران کن اور غیر متوقع نتائج سامنے آئے، جہاں ایک نئی سیاسی جماعت نے روایتی دراوڑی سیاست کو چیلنج کرتے ہوئے نمایاں کامیابی حاصل کی۔۲۳۴ رکنی اسمبلی میں نئی جماعت‘ٹی وی کے نے ۱۰۷ نشستیں جیت کر سب سے بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی، جبکہ دراوڑی منیتر کژگم (ڈی ایم کے) کو۷۴نشستیں اور آل انڈیا انا دراوڑ منیتر کژگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کو۵۲نشستیں ملیں۔ باقی نشستیں دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے حاصل کیں۔
کیرالا میں کانگریس کی قیادت والے متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) نے واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ جما لیا۔۱۴۰رکنی اسمبلی میں یو ڈی ایف نے ۸۹ نشستیں جیتیں، جبکہ بائیں بازو کے اتحاد (ایل ڈی ایف) کو۳۵نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ دیگر جماعتوں نے محدود نشستیں حاصل کیں۔
مرکزی زیر انتظام خطہ پڈوچیری میں نتائج نسبتاً مستحکم رہے، جہاں این ڈی اے اتحاد نے۳۰ رکنی اسمبلی میں۱۸ نشستیں حاصل کر کے اپنی حکومت برقرار رکھی، جبکہ کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو۶نشستیں ملیں اور دیگر جماعتوں کے حصے میں۶ نشستیں آئیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ان انتخابات میں ووٹنگ کی شرح خاصی بلند رہی، خاص طور پر مغربی بنگال میں تقریباً۹۳ فیصد ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا، جو ایک نمایاں جمہوری رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ دیگر ریاستوں میں بھی ووٹنگ کا تناسب حوصلہ افزا رہا۔ خواتین اور نوجوان ووٹروں کی بڑی تعداد نے انتخابی عمل میں بھرپور شرکت کی، جسے جمہوریت کے استحکام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان انتخابات کے نتائج نے نہ صرف ریاستی سطح پر بلکہ قومی سیاست میں بھی نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ایک جانب بعض ریاستوں میں اقتدار کی تبدیلی نے سیاسی جماعتوں کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی پر مجبور کیا ہے، تو دوسری جانب کامیاب جماعتوں کے لیے عوامی توقعات پر پورا اترنا ایک بڑا امتحان ہوگا۔
ان نتائج کے بعد ملک میں سیاسی سرگرمیاں مزید تیز ہونے کا امکان ہے، جبکہ آئندہ انتخابات کے لیے مختلف جماعتیں اپنی صف بندیوں اور حکمت عملیوں کو ازسرنو ترتیب دیتی نظر آئیں گی۔










