ایجنسیز
نئی دہلی؍۴ مئی
بارہمولہ کے رکن پارلیمنٹ شیخ عبدالرشید عرف انجینئر رشید نے پیر کے روز دہلی ہائی کورٹ سے درخواست کی کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک مقدمے میں انہیں دی گئی ایک ہفتے کی عبوری ضمانت کے حکم میں ترمیم کی جائے تاکہ وہ اپنے علیل والد کے پاس جا سکیں، جنہیں سرینگر سے دہلی کے ایمس منتقل کیا گیا ہے۔
جسٹس پرتھیبا ایم سنگھ اور جسٹس مدھو جین پر مشتمل بنچ، جس نے عبوری ضمانت کے دوران رکن پارلیمنٹ کو سرینگر تک محدود رکھا تھا، نے معاملہ منگل کے لیے سماعت پر مقرر کرتے ہوئے ان سے دہلی میں ایک مقامی پتہ فراہم کرنے کو کہا۔
رشید کے سینئر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دہلی میں انہیں بطور رکن پارلیمنٹ ایک فلیٹ الاٹ کیا گیا ہے۔تاہم عدالت نے واضح کیا کہ انہیں ایسی جگہ قیام کی اجازت نہیں دی جا سکتی جہاں دیگر اراکین پارلیمنٹ بھی رہتے ہوں۔
بنچ نے کہا’’یہ کافی نہیں ہے۔ آپ ایم پی ہاؤس میں نہیں رہ سکتے جہاں دیگر اراکین بھی موجود ہوں۔ یہ سکیورٹی کا مسئلہ ہوگا‘‘۔اس پر وکیل نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ کسی نجی رہائش کا پتہ فراہم کریں گے۔
قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ عدالت نے عملاً انہیں حراستی پیرول دیا ہے اور اب انہیں دہلی سے باہر رہنے کی ضرورت نہیں، اس لیے انہیں جیل سے ہی اپنے والد سے ملاقات کی اجازت دی جا سکتی ہے، خاص طور پر جب ان کی عبوری ضمانت۶ مئی کو ختم ہو رہی ہے۔
حراستی پیرول کے تحت قیدی کو مسلح پولیس اہلکاروں کی نگرانی میں متعلقہ مقام تک لے جایا جاتا ہے۔این آئی اے کے وکیل نے مزید بتایا کہ درخواست گزار کے والد کی حالت مستحکم ہے اور انہیں خاندان کی درخواست پر ایمس دہلی منتقل کیا گیا ہے۔
رشید کے وکیل نے کہا کہ عبوری ضمانت کے بعد انہیں۳۰؍اپریل کو رہا کیا گیا اور وہ اسی روز سرینگر پہنچے، تاہم والد کی طبیعت بگڑنے پر انہیں ایمس دہلی منتقل کیا گیا، مگر عدالتی پابندی کے باعث وہ خود دہلی نہیں جا سکے۔
سینئر وکیل نے کہا’’میں سرینگر میں پھنس گیا ہوں، مجھے آنے کی اجازت نہیں۔ وہ یہاں ہیں اور میں وہاں ہوں‘‘۔
عدالت نے۲۸؍ اپریل کو عبوری ضمانت دیتے ہوئے شرط رکھی تھی کہ وہ یا تو اسپتال جا سکتے ہیں جہاں ان کے والد زیر علاج ہوں یا اپنے گھر پر رہیں گے، اور ہر وقت کم از کم دو سادہ لباس پولیس اہلکار ان کے ساتھ رہیں گے۔
یہ حکم اس اپیل کی سماعت کے دوران دیا گیا تھا جس میں۲۴؍ اپریل کے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا جس میں انہیں عبوری ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
انجینئر رشید کو۲۰۱۷کے دہشت گردی کی مالی معاونت کے کیس میں مبینہ طور پر علیحدگی پسندوں اور دہشت گرد تنظیموں کی مدد کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں۲۰۱۹سے دہلی کی تہاڑ جیل میں رکھا گیا ہے۔
اکتوبر۲۰۱۹میں چارج شیٹ دائر ہونے کے بعد، مارچ۲۰۲۲میں ایک خصوصی این آئی اے عدالت نے ان اور دیگر کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات۱۲۰بی (مجرمانہ سازش)‘۱۲۱(حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنا) اور۱۲۴ ؍ اے (بغاوت) کے تحت فرد جرم عائد کی، جبکہ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت دہشت گردی اور اس کی مالی معاونت سے متعلق الزامات بھی شامل کیے گئے۔ (ایجنسیاں)










