چودھری نے سیکورٹی میں ’کوتاہی‘ پر پولیس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کارروائی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا
وئب ڈیسک
سرینگر؍۹ جولائی
جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی (این ایل یو) کے قیام کا مطالبہ کرنے والے نوجوانوں کے ایک گروپ نے جمعرات کو ضلع کٹھوعہ میں جموں و کشمیر کے ڈپٹی وزیر اعلیٰ سریندر چودھری کی عوامی تقریب میں مبینہ طور پر خلل ڈالنے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو تقریب کے مقام سے باہر نکال دیا۔
یہ واقعہ ہیرانگر میں ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کے سلسلے میں منعقدہ ایک عوامی تقریب کے دوران پیش آیا۔
ڈپٹی وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے سیکورٹی میں اس خامی کے لیے پولیس کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کی قیادت ایڈووکیٹ کیتن کمار کر رہے تھے، جنہوں نے نعرے بازی کی اور پمفلٹ لہراتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کشمیر کی طرز پر جموں میں بھی نیشنل لا یونیورسٹی قائم کرنے کا اپنا وعدہ پورا کیا جائے۔
حکومت سے اس وعدے میں تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے کیتن کمار نے کہا کہ جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کا اعلان ابھی تک عملی شکل کیوں اختیار نہیں کر سکا۔ پولیس کے مطابق کیتن کمار مبینہ طور پر تقریب کے مقام پر واقع ہال میں داخل ہوئے اور احتجاج شروع کر دیا۔
پولیس اہلکاروں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے مظاہرین کو نہ صرف ہال بلکہ تقریب کے مقام سے بھی باہر نکال دیا۔ بعد ازاں مظاہرین نے مقام کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا، ڈپٹی وزیر اعلیٰ کے خلاف نعرے بازی کی اور کہا کہ جب تک جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی قائم نہیں کی جاتی، ان کی تحریک جاری رہے گی۔
کیتن کمار نے کہا’’ہم صرف ڈپٹی وزیر اعلیٰ سے یہ پوچھنا چاہتے تھے کہ جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کا حکومتی وعدہ کب پورا کیا جائے گا‘‘۔
احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی، تاہم بعد میں صورتحال پر قابو پا لیا گیا۔
واقعے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے سیکورٹی میں خامی پر پولیس کو ذمہ دار قرار دیا اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا’’یہاں امن و قانون کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔ میں ڈپٹی وزیر اعلیٰ ہوں، تقریب میں پولیس کی سیکورٹی موجود تھی، اس کے باوجود ایک شخص اسٹیج تک پہنچ گیا اور وہاں موجود افراد پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ متعلقہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کی غفلت کا نتیجہ ہے‘‘۔
چودھری نے مزید کہا’’اگر مظاہرین کو کوئی شکایت تھی تو انہیں ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کرنا چاہیے تھا۔ احتجاج کے نام پر کسی کو اسٹیج پر چڑھنے، عوامی پروگرام میں خلل ڈالنے یا حملہ کرنے کی کوشش کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘‘۔
نائب وزیر اعلیٰ نے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) اور انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سے مطالبہ کیا کہ وہ متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کریں، واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور اس میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں۔










