’جموںکشمیر کی نازک ماحولیات کے تحظ اور طویل مدتی معاشی خوشحالی کے لیے سیاحت کی حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلی ناگزیر‘
وزیراعلیٰ کا پائیدار مستقبل کیلئےکم تعداد کے بجائے معیاری سیاحت اپنانے پر زور‘ کہا پائیدار سیاحت اب انتخاب نہیں بلکہ ضرورت ہے
(ویب ڈیسک)
سری نگر؍۹جولائی
وزیر اعلیٰ‘ عمر عبداللہ نے آج جموں و کشمیر کی سیاحتی حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلی لانے پر زور دیتے ہوئے پالیسی سازوں، سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد اور مقامی برادریوں سے اپیل کی کہ وہ صرف سیاحوں کی تعداد بڑھانے پر مبنی طرزِ سیاحت سے آگے بڑھیں اور ایسی معیاری اور پائیدار سیاحت کا ماڈل اختیار کریں جو خطے کی نازک ماحولیات کا تحفظ کرتے ہوئے طویل مدتی معاشی خوشحالی کو یقینی بنائے۔
وزیر اعلیٰ، محکمہ سیاحت کی جانب سے ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ’پائیدار سیاحت کی منصوبہ بندی—کل کی سیاحت کا ڈیزائن‘ کے موضوع پر منعقدہ کانکلیو کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ماحول کے تحفظ اور اس کے اہم ترین معاشی شعبوں میں سے ایک، یعنی سیاحت، کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے پائیدار سیاحت اب کوئی انتخاب نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔
اپنے کلیدی خطاب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسی سیاحت جس میں پائیداری شامل نہ ہو، بالآخر طویل مدت میں زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا’’پائیداری کے بغیر سیاحت ایک مکمل تباہی ہے۔ یہ چند برس تک تو چل سکتی ہے، لیکن اگر اس کی بنیاد ہی پائیداری پر نہ ہو تو یہ طویل عرصے تک قائم نہیں رہ سکتی‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ یہ کانکلیو ایسے اہم مرحلے پر منعقد کیا گیا ہے جب جموں و کشمیر اپنی سیاحتی حکمتِ عملی کا ازسرِ نو جائزہ لے رہا ہے اور یہ طے کر رہا ہے کہ آیا اس کا مستقبل زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متوجہ کرنے میں ہے یا ایک زیادہ پائیدار سیاحتی معیشت کے ذریعے زیادہ قدر پیدا کرنے میں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا ہم سو سیاحوں سے ایک ایک روپیہ کمانا چاہتے ہیں یا ایسا تجربہ پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ ایک سیاح سو روپے خرچ کرنے پر آمادہ ہو۔ اس سوال کا جواب ہی مستقبل کے تمام سیاحتی ماسٹر پلانز کی بنیاد بننا چاہیے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر آنے والے سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا خیر مقدم کرتے ہیں، تاہم مستقبل میں ممکن ہے کہ سیاحوں کے بہاؤ کو منظم کرنا پڑے تاکہ نہ صرف سیاحتی مقامات محفوظ رہیں بلکہ سیاح بھی ٹریفک جام، ناقص سہولیات اور بے تحاشا بھیڑ کے بجائے پُرسکون ماحول سے لطف اندوز ہو سکیں۔
گزشتہ تین دہائیوں کے دوران جموں و کشمیر کے سیاحتی سفر کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ طویل عرصے تک تنازعہ کا سامنا کرنے کے بعد خطے نے فطری طور پر معمول کے حالات کا پیغام دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو راغب کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کی تھی، تاہم حالیہ عرصے میں سیاحوں کی آمد میں آنے والے اتار چڑھاؤ نے ایک مرتبہ پھر سیاحتی نظام کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’گزشتہ برس پہلگام کے واقعے سے پہلے ہم سیاحوں کی غیر معمولی آمد کی وجہ سے ٹریفک جام سے نمٹ رہے تھے۔ اس کے فوراً بعد ہمیں اس بات کی فکر لاحق ہو گئی کہ ہوٹل اور سیاحتی مقامات خالی ہو گئے ہیں۔ اس سے ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر میں سیاحت کتنی نازک ہے، جہاں ایک ہی واقعہ پورے سیاحتی سیزن کو متاثر کر سکتا ہے‘‘۔
وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار سیاحت کی منصوبہ بندی میں ٹریفک کی مؤثر نگرانی، پارکنگ کے بنیادی ڈھانچے، ٹھوس فضلے کے انتظام، پانی کے تحفظ، تعمیراتی ضابطوں، ہر مقام کی گنجائش اور مقامی برادری کی شرکت جیسے اہم امور کو جامع طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔
مقبول سیاحتی مقامات پر بار بار پیدا ہونے والے ٹریفک جام پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف بنیادی ڈھانچہ تعمیر کر دینا مسئلے کا حل نہیں، جب تک اس کا مؤثر استعمال اور سائنسی بنیادوں پر ٹریفک کا انتظام نہ کیا جائے۔
عمرعبداللہ نے حالیہ تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ متعلقہ فریقوں سے مناسب مشاورت کے بغیر غیر منصوبہ بند ضابطے نافذ نہیں کیے جانے چاہئیں، کیونکہ بعض حالیہ ٹریفک انتظامی فیصلوں سے سیاحوں اور مقامی ٹرانسپورٹ آپریٹروں دونوں کو نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا’’پائیداری وقتی یا جذباتی ردِعمل کی بنیاد پر قائم نہیں کی جا سکتی۔ ہر اقدام اچھی طرح منصوبہ بند ہونا چاہیے، متعلقہ فریقوں سے مکمل مشاورت کے بعد اٹھایا جانا چاہیے اور اس میں طویل مدتی حل فراہم کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے‘‘۔
وزیراعلیٰ نے سائنسی بنیادوں پر ٹھوس فضلے کے انتظام کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کا ذمہ دار صرف سیاحوں کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ڈل جھیل سے جاری صفائی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچرے کا ایک بڑا حصہ مقامی آبادی سے بھی آتا ہے، اس لیے مقامی برادری کی شرکت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔انہوں نے سنگل یوز پلاسٹک کے خاتمے اور ذمہ دار شہری رویوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا’’فضلے کے انتظام کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، لیکن شہریوں کی بھی اتنی ہی ذمہ داری ہے۔ جب تک ہم گلمرگ، پہلگام، سونہ مرگ اور ڈل جھیل کو اپنے گھروں کی طرح نہیں سمجھیں گے، اس وقت تک پائیداری کا حصول ممکن نہیں ہوگا‘‘۔
پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ خصوصاً سیاحوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے پیش نظر، طویل مدتی آبی انتظامی حکمت عملی کے بغیر پائیدار سیاحت کا حصول ممکن نہیں۔
وزیراعلیٰ نے تعمیراتی ضابطوں اور سیاحتی ماسٹر پلان پر سختی سے عمل درآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا،’’کوئی بھی ماسٹر پلان اتنا ہی مؤثر ہوتا ہے جتنا اس پر عمل درآمد۔ منتخب انداز میں قوانین نافذ کرنے سے عوام میں بے چینی پیدا ہوتی ہے اور اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔ سیاحت کی منصوبہ بندی دفاتر تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے ان مقامی برادریوں کی مشاورت سے تیار کیا جانا چاہیے جو نسلوں سے ان علاقوں میں آباد ہیں‘‘۔
ہر سیاحتی مقام کی گنجائش کا سائنسی انداز میں تعین کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر مقام اپنی الگ ماحولیاتی حساسیت رکھتا ہے، جسے مستقبل کی سیاحتی حکمت عملی کی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا’’سری نگر ماحولیاتی اعتبار سے گلمرگ یا گریز جیسے حساس مقامات کے مقابلے میں کہیں زیادہ سیاحوں کو باآسانی سنبھال سکتا ہے۔ ہم ہر سیاحتی مقام کے لیے یکساں پالیسی اختیار نہیں کر سکتے‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی سیاحت کا سب سے بڑا سرمایہ اس کا بے مثال قدرتی حسن ہے، نہ کہ مصنوعی تفریحی مراکز۔انہوں نے کہا’’ہم ڈزنی لینڈ، یونیورسل اسٹوڈیوز یا لاس ویگاس فروخت نہیں کر رہے۔ لوگ یہاں ہمارے دریا، جھیلیں، پہاڑ، گلیشیئر اور قدرتی مناظر دیکھنے آتے ہیں۔ ان قدرتی اثاثوں کا تحفظ ہر سیاحتی ماسٹر پلان کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے‘‘۔
وزیراعلیٰ نے جموں و کشمیر سے باہر کے سیاحتی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی آمد کا بھی ذکر کیا۔ اگرچہ انہوں نے کہا کہ ان گاڑیوں کی آمد سے یہ اعتماد بحال ہوا ہے کہ کشمیر دوبارہ ایک محفوظ سیاحتی مقام بن گیا ہے، تاہم اس رجحان سے مقامی بنیادی ڈھانچے پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے اور مقامی ٹرانسپورٹ آپریٹروں کی روزی روٹی بھی متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ سیاحت کے زیادہ سے زیادہ فوائد ہمارے اپنے لوگوں کو حاصل ہوں۔ ہمارا مقصد صرف سیاحوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ سیاحت کی قدر اور معیار میں مسلسل اضافہ ہونا چاہیے‘‘۔
معیاری سیاحتی تجربات کی وکالت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ویلیو بیسڈ ٹورازم کے ذریعے مقامات زیادہ آمدنی حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ ماحول پر دباؤ کم ہوتا ہے اور سیاحوں کا تجربہ بھی بہتر بنتا ہے۔انہوں نے کہا’’ویلیو ٹورازم ہی پائیدار سیاحت ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں جن سے مقامی لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہو اور سیاحت آنے والی نسلوں کے لیے بھی ماحولیاتی اور معاشی طور پر پائیدار رہے‘‘۔
وزیراعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ کانکلیو میں ہونے والی گفتگو جموں و کشمیر کے لیے طویل مدتی پائیدار سیاحتی روڈ میپ کی تیاری میں اہم کردار ادا کرے گی اور مستقبل کی پالیسی سازی کے لیے رہنمائی فراہم کرے گی۔









