سرینگر؍۴مئی
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ ‘عمر عبداللہ نے پیر کے روز مختلف محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے محکموں کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت پر زور دیا۔
’دربار موو‘ کے تحت سول سیکریٹریٹ کے دوبارہ کھلنے کے فوراً بعد، وزیر اعلیٰ نے دفاتر کا معائنہ کیا اور مجموعی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ملازمین اور عوام کے لیے دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر کے مطابق’’انہوں نے اہم شعبوں کا دورہ کیا جن میں وزراء کے چیمبرز، افسران کے کمرے، کلریکل ہالز اور نئی تعمیر شدہ عوامی انتظار گاہ شامل ہیں۔ اس دوران انہوں نے عملے اور شہریوں سے بات چیت بھی کی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے گا تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی کے معیار کو بڑھایا جا سکے‘‘۔
بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے انتظامی سیکریٹریوں کے ساتھ ایک اجلاس کی صدارت کی، جس میں نائب وزیر اعلیٰ، کابینہ وزراء اور وزیر اعلیٰ کے مشیر بھی موجود تھے۔انہوں نے ہدایت دی کہ کاموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے، زمینی سطح پر احکامات پر مؤثر عملدرآمد کیا جائے اور محکموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی قائم کی جائے۔
عمرعبداللہ نے اسٹیٹس محکمہ کو بھی ہدایت دی کہ ملازمین کے لیے مناسب رہائشی سہولیات سمیت دیگر انتظامات کو یقینی بنایا جائے اور دفاتر کے کام کاج کو ہموار بنایا جائے۔
اس سے پہلے جموں و کشمیر حکومت کا مرکزی دفتر، سول سیکریٹریٹ، پیر کے روز یہاں دوبارہ کھول دیا گیا، جو کہ۱۵۰ سال پرانی دو سالہ روایت ’دربار موو‘ کا حصہ ہے، حکام نے بتایا۔
وزیر اعلیٰ‘عمر عبداللہ کو موسمِ گرما کے دارالحکومت میں دفاتر کے دوبارہ کھلنے پر رسمی گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جو ایک ہفتہ قبل جموں میں بند کیے گئے تھے۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر نے اپنے سرکاری ایکس ہینڈل پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا،’’دربار موو، جسے گزشتہ سال جموں میں دوبارہ شروع کیا گیا، جموں و کشمیر میں حکمرانی کے تسلسل کی نئی بحالی کی علامت ہے، جس کے تحت کئی برسوں کے بعد مکمل سیکریٹریٹ موسمِ گرما کے دارالحکومت منتقل ہو رہا ہے‘‘۔
دربار مووکی روایت کے تحت حکومت چھ ماہ کے سردیوں کے دوران جموں میں اور گرمیوں کے دوران سرینگر میں کام کرتی ہے۔ یہ روایت۱۸۷۲میں (مہاراجہ گلاب سنگھ) نے دونوں خطوں میں شدید موسمی حالات سے بچنے کے لیے شروع کی تھی۔
یہ روایت آزادی کے بعد بھی جاری رہی تاکہ کشمیر اور جموں دونوں خطوں کو چھ ماہ تک حکمرانی کے فوائد فراہم کیے جا سکیں۔
دارالحکومت کی منتقلی کا عمل۲۰۲۱میں لیفٹیننٹ گورنر‘منوج سنہا کے دور میں روک دیا گیا تھا، لیکن عمر عبداللہ نے۲۰۲۵میں، اقتدار سنبھالنے کے ایک سال بعد، اسے دوبارہ بحال کر دیا۔
دربار موو سے قبل جموں و کشمیر کے موسمِ گرما کے دارالحکومت سرینگر میں سڑکوں اور فٹ پاتھوں کی مرمت اور خوبصورتی کا کام کیا گیا۔
گڑھوں والی سڑکوں کو درست کیا گیا اور سول سیکریٹریٹ سمیت دیگر سرکاری دفاتر کی منتقلی سے پہلے انہیں نیا رنگ و روغن دیا گیا۔










