نئی دہلی،یکم مئی (یواین آئی ) کانگریس نے کمرشل رسوئی گیس سلنڈر کی قیمت میں اضافے کو حکومت کا ‘انتخابی بل’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا براہ راست اثر عام لوگوں کی تھالی پر پڑنا طے ہے۔
کانگریس کے سینئر لیڈر ابھشیک منو سنگھوی اور پارٹی کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حال ہی میں کچھ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے بعد حکومت نے کمرشل گیس سلنڈر کی قیمت میں ایک ہی دن میں 993 روپے کا اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فروری سے اب تک سلنڈر کی قیمتوں میں 1380 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جو کہ تقریباً 81 فیصد کا اضافہ ہے۔
کانگریس لیڈروں نے الزام لگایا کہ اس اضافے سے چائے والا، ڈھابہ، ہوٹل، بیکری اور حلوائی جیسے چھوٹے کاروباریوں کی رسوئی پر پر براہ راست اثر پڑے گا اور اس کا بوجھ آخر کار عام جنتا پر پڑے گا۔ کانگریس نے خدشہ ظاہر کیا کہ گیس کے بعد پیٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی دوران کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی سلنڈر کی قیمت بڑھانے پر حکومت کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا، "میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ انتخابات کے بعد مہنگائی کی گرمی آئے گی۔ آج کمرشل گیس سلنڈر میں 993 روپے کا ایک ہی دن میں سب سے بڑا اضافہ ہوا ہے۔ یہ انتخابی بل ہے۔ فروری سے اب تک 1380 روپے کا اضافہ، صرف تین مہینوں میں 81 فیصد کا اضافہ۔ چائے والا، ڈھابہ، ہوٹل، بیکری، حلوائی—ہر کسی کی رسوئی پر بوجھ بڑھا ہے اور اس کا اثر آپ کی تھالی پر بھی پڑے گا۔ پہلا وار گیس پر، اگلا وار پیٹرول-ڈیزیل پر۔”










