نئی دہلی، 13 جولائی (یو این آئی) سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کے مدرسوں میں اپنی تقرری کو منظوری دینے کا مطالبہ کرنے والے 350 اساتذہ اور دیگر اسٹاف کی عرضی پیر کو مسترد کر دی مغربی بنگال مدرسہ سروس کمیشن ایکٹ 2008 کو کلکتہ ہائی کورٹ کی سنگل جج بنچ نے غیر آئینی قرار دیا تھا، جس کے بعد ان سبھی کی ملازمت چلی گئی تھی۔ عدالت نے بعد میں اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ عرضی گزاروں نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ان کی تقرری مستقل تھی اس لیے انہیں مغربی بنگال کی گرانٹ ان ایڈ اسکیم کے تحت تنخواہ ملنی چاہیے۔
جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس اے جی مسیح کی بنچ نے متعلقہ عرضیوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ وہ سماعت کے قابل نہیں ہیں۔ عدالت عظمی میں 361 سے زیادہ عرضی گزاروں نے 40 سے زیادہ عرضیاں دائر کی تھیں۔ اعلیٰ عدالت نے مارچ 2016 کے کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
اس سے پہلے چھ جنوری 2020 کو سپریم کورٹ نے 2008 کے قانون کو آئینی طور پر درست بتایا تھا۔
سپریم کورٹ نے ان عرضیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 13 عرضی گزاروں کے معاملات گزشتہ حکم کے بعد اس کے سامنے رکھے گئے تھے۔ اعلیٰ عدالت نے کہا تھا کہ اگر یہ 13 عرضیاں اسے راضی کرنے میں کامیاب رہتی ہیں تو باقی عرضی گزاروں کے دعووں کی بھی جانچ کی جائے گی، تاہم کوئی بھی عرضی عدالت کو اپنی بات نہیں سمجھا سکی۔










