ئی دہلی، 10 جولائی (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن کے دورہ ہند سے جہاں دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی توانائی آئی، وہیں ان کے موجودہ دورے سے دونوں کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک واضح مقاصد اور ٹھوس نتائج کے ساتھ باہمی تعاون کو آگے بڑھائیں گے۔ مسٹر مودی نے اپنے اعزاز میں نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کی طرف سے دی گئی ضیافت کے دوران اپنے خطاب میں ہندستانی وفد کے گرمجوشی بھرے استقبال کے لیے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال وزیر اعظم لکسن کے دورہ ہند سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی توانائی آئی تھی اور موجودہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندستان اور نیوزی لینڈ نے اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح پر لے جانے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک واضح مقاصد اور ٹھوس نتائج کے ساتھ تعاون کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو صنعتوں، کسانوں اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع کھولنے والا بتایا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں دونوں ممالک کی تجارت میں 50 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے اور آزاد تجارتی معاہدہ اگلے پانچ برسوں میں تجارت کو دوگنا کرنے کا مضبوط اساس بنے گا۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کے ہندستان میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے عزم کا استقبال کیا۔
انہوں نے مالیاتی ٹیکنالوجی (فن ٹیک)، زراعت، ڈیری، فوڈ پروسیسنگ، روایتی ادویات، دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک نے ہند-بحرالکاہل خطے میں سمندری تعاون کے ایک فریم ورک پر اتفاق کیا ہے۔ مسٹر مودی نے ہندستانی برادری کے تعاون کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے درمیان تعلقات دونوں ممالک کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ انہوں نے ثقافتی تعاون کے معاہدے، تعلیم اور کھیل کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کا بھی ذکر کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندستان اور نیوزی لینڈ عالمی سطح پر قابل اعتماد شراکت دار ہیں اور اقوامِ متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر دونوں ممالک کی یکساں سوچ ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف تعاون کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کی تشکیل کا بھی ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے ماؤری نئے سال ’ماتاریکی‘ کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اسے ہندستان میں قدیم زمانے سے ’کرتیکا نکشتر‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم لکسن کی دوستی اور عزم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک باہمی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔










