ایجنسیز
سرینگر؍۲۸؍اپریل
حزبِ اختلاف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی) نے منگل کے روز جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے محکمہ مال کے ریکارڈ میں اردو کو لازمی زبان کی فہرست سے خارج کرنے کے خلاف احتجاج کیا اور کہا کہ اس فیصلے کے ‘دور رس ثقافتی اثرات‘ مرتب ہوں گے۔
التجا مفتی کی قیادت میں پارٹی کارکنان یہاں شیرِ کشمیر پارک میں جمع ہوئے اور حکومت کے اس فیصلے کے خلاف مظاہرہ کیا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے التجانے کہا’’یہ ہماری ثقافت اور تہذیب پر حملہ ہے۔ جموں و کشمیر کے لوگ کشمیری، ڈوگری، گوجری اور پہاڑی جیسی مختلف زبانیں بولتے ہیں، لیکن اردو ان سب کے درمیان ایک مشترکہ ربط کا کردار ادا کرتی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اردو کو محکمہ مال کے ریکارڈ سے ہٹایا جا رہا ہے اور یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب نیشنل کانفرنس برسرِ اقتدار ہے۔
التجا نے مزید کہا کہ محکمہ مال کے ریکارڈ سے اردو زبان کو نکالنا محض ایک دفتری فیصلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی اقدام بھی ہے جس کے ’دور رس ثقافتی اثرات‘ سامنے آئیں گے۔










