ادھم پور؍۲۲؍اپریل
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز ادھم پور میں پیش آئے مہلک سڑک حادثے کی ذمہ داری غفلت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں بس آپریٹر کی لاپرواہی سامنے آئی ہے، اور تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد سخت کارروائی کی جائے گی۔
یاد رہے کہ۲۰؍ اپریل کو ضلع ادھم پور کے رام نگر علاقے میں ایک زیادہ سواریاں لادے ہوئے مسافر بس تقریباً۱۰۰ میٹر گہری کھائی میں جا گری تھی، جس کے نتیجے میں کم از کم۲۱؍ افراد جاں بحق اور۵۱زخمی ہو گئے تھے۔
وزیر اعلیٰ، وزیر صحت سکینہ ایتو کے ہمراہ، گورنمنٹ میڈیکل کالج ادھم پور اسپتال پہنچے، جہاں انہوں نے زخمیوں کی عیادت کی اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کی مسلسل نگرانی کی جائے۔
عمر عبداللہ نے متاثرہ خاندانوں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے، مگر اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ حادثہ بس مالک کی ’لاپرواہی‘ کے باعث پیش آیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’جس شخص کو بس چلانے کی ذمہ داری دی گئی، وہ مستقل ڈرائیور نہیں تھا بلکہ اصل ڈرائیور چھٹی پر تھا۔ مالک نے اسٹیئرنگ ایسے شخص کے حوالے کر دیا جو حال ہی میں ٹرک چلا رہا تھا۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ حکومت ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی۔ جب ہم نے اس بس کا ریکارڈ دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس پر پہلے ہی۱۵سے زائد چالان ہو چکے تھے‘‘۔
عمرعبداللہ نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر ادھم پور، منگا شیرپا نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ایک سینئر افسر اس کی جانچ کر رہا ہے۔’’تحقیقات مکمل ہونے دیں، رپورٹ آنے کے بعد جو بھی سفارشات ہوں گی، ان پر عمل کیا جائے گا‘‘۔
خراب سڑکوں کو حادثے کی وجہ قرار دینے کو مسترد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اصل مسئلہ خطرناک ڈرائیونگ عادات ہیں، جیسے تیز رفتاری، زیادہ سواریوں کو بٹھانا اور غلط سمت میں گاڑی چلانا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’اصل چیلنج یہ ہے کہ سڑکوں کو تو بہتر بنایا جا سکتا ہے، مگر ڈرائیوروں کے رویے کو راتوں رات نہیں بدلا جا سکتا۔ غلط سمت میں ڈرائیونگ، تیز رفتاری اور اوورلوڈنگ جیسے عوامل مسلسل لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں‘‘۔
حکومت کی جانب سے جوابدہی کے عزم کو دہراتے ہوئے عمر عبداللہ نے ٹرانسپورٹ آپریٹرز کی ذمہ داری پر بھی زور دیا اور کہا کہ حکام کو قانون کے نفاذ اور عوام کی سفری ضروریات کے درمیان توازن قائم رکھنا پڑتا ہے۔ (ایجنسیاں)ایجنسیز










