صدر دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے حادثے میں جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کیا‘مرکز کا امداد کا اعلان
جموں؍۲۰ ؍اپریل
جموں و کشمیر کے ضلع ادھم پور میں پیر کے روز ایک زیادہ مسافروں سے بھری بس تقریباً۱۰۰میٹر گہری کھائی میں جا گری، جس کے نتیجے میں کم از کم۲۱؍افراد ہلاک اور۵۱دیگر زخمی ہو گئے، حکام نے بتایا۔
بس سڑک پر الٹنے سے قبل ایک آٹو رکشہ کو بھی کچل گئی۔
حکام کے مطابق رام نگر سے ادھم پور جا رہی نجی بس کا ڈرائیور صبح تقریباً۱۰ بجے کاگورٹ گاؤں کے قریب ایک اندھے موڑ پر گاڑی پر قابو کھو بیٹھا، جس کے بعد وہاں سے گزرنے والے فوجی قافلے نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔
بتایا گیا کہ بس میں۶۵سے زائد مسافر سوار تھے، جن میں خواتین اور طلبہ بھی شامل تھے، جو زیادہ تر روزانہ سفر کرنے والے تھے۔
ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل ثابت ہوا کیونکہ بس مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھی اور اس کا اوپری حصہ تقریباً الگ ہو گیا تھا۔
صدر دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کیا، جبکہ وزیر اعظم نے ہلاک شدگان کے لواحقین کے لیے۲لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے۵۰ہزار روپے امداد کا اعلان بھی کیا۔
اس دوران مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پیر کے روز ادھم پور بس حادثے میں جانیں گنوانے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
ایکس پر جاری اپنے پیغام میں شاہ نے کہا کہ ادھم پور میں پیش آنے والا سڑک حادثہ نہایت افسوسناک ہے۔
شاہ نے کہا’’میں اس حادثے میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ مقامی انتظامیہ پوری مستعدی کے ساتھ راحت اور ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہے۔ میں زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہوں۔‘‘
ڈی آئی جی ادھم پور-ریاسی رینج شیو کمار شرما کے مطابق۱۵؍افراد موقع پر ہی ہلاک ہوئے جبکہ چار افراد بعد میں اسپتال میں دم توڑ گئے، اور مزید دو شدید زخمی افراد بھی دوران علاج جاں بحق ہو گئے جس سے ہلاکتوں کی تعداد۲۱ ہو گئی۔
ہلاک ہونے والوں میں ٹیلو رام، پریم ناتھ، کارتار چند، سوم راج، رام چند، گیتا دیوی، رومل سنگھ، شاردہ دیوی، سنی، وشالی دیوی، پشپ راج، رامولو رام، گلابو دیوی، جلم سنگھ، کیسر سنگھ، کانتا دیوی اور انیتا دیوی شامل ہیں، جو سب کے سب رام نگر کے رہائشی تھے۔
ریسکیو آپریشن میں مقامی لوگوں نے بھی اہم کردار ادا کیا جبکہ پولیس کی ٹیمیں، بشمول ایس ایس پی اور ایس ایچ او رام نگر، موقع پر پہنچ گئیں۔ بعد ازاں بس کو ہائیڈرولک کرین کے ذریعے سیدھا کیا گیا۔
ایک فوجی اہلکار نے بتایا کہ انہوں نے گاڑی کو پہاڑی سے گرتے ہی فوری کارروائی شروع کی اور کئی قیمتی جانیں بچانے میں کامیاب رہے۔
چیف سیکریٹری اٹل ڈلو کے مطابق۵۱ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے، جن میں۴۳؍ادھم پور ضلع اسپتال‘۶رام نگر اسپتال جبکہ۲شدید زخمیوں کو جی ایم سی جموں منتقل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ زخمیوں کے علاج کے لیے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
چیف سیکریٹری نے کہا کہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے، اوورلوڈنگ کو روکا جائے، گاڑیوں کی فٹنس یقینی بنائی جائے اور ڈرائیوروں کے لائسنس اور طبی معائنے کی تصدیق کی جائے۔
سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، جموں و کشمیر کانگریس کے صدر طارق حمید قرہ اور بی جے پی کے ریاستی صدر ست شرما نے بھی اس واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
مرکزی وزیر جتیندر سنگھ، جو ادھم پور حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں، نے بھی اس سانحے پر افسوس کا اظہار کیا اور توقع ہے کہ وہ منگل کی شام زخمیوں کی عیادت کے لیے اسپتال جائیں گے۔ایجنسیز










