سرینگر؍۲۰؍اپریل
ادھم پور کے مہلک بس سانحے میں زندہ بچ جانے والوں نے شدید خوف و ہراس اور مدد کے لیے بلند ہوتی چیخوں کے مناظر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ فوج کی بروقت اور بہادرانہ امدادی کارروائی نے متعدد جانیں بچائیں۔
پیر کے روز جموں و کشمیر کے ادھم پور میں ایک بھری ہوئی نجی مسافر بس تقریباً۱۰۰میٹر گہری خطرناک ڈھلوان میں جا گری، جس کے نتیجے میں کم از کم۲۱؍ افراد ہلاک اور۲۹دیگر زخمی ہو گئے۔ بس سڑک پر الٹنے سے پہلے ایک آٹو رکشہ کو بھی کچل گئی۔
پہاڑی کے پیچیدہ راستے سے گزرنے والا ایک فوجی قافلہ فوری طور پر موقع پر پہنچا اور شدید نوعیت کے ریسکیو آپریشن کی قیادت کی، جب نجی بس کا ڈرائیور صبح تقریباً۱۰بجے رام نگر کے علاقے میں کاگورٹ گاؤں کے قریب ایک خطرناک اندھے موڑ پر گاڑی پر قابو کھو بیٹھا۔
زندہ بچ جانے والوں کے مطابق چیخ و پکار، مڑی تڑی دھات اور ایک دوسرے میں الجھی لاشوں کے درمیان ہر گزرتا لمحہ امید کو کم کرتا جا رہا تھا۔ یہ دل دہلا دینے والا حادثہ ادھم پور-رام نگر سڑک پر ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً۴۰کلومیٹر دور پیش آیا۔
۳۲ سالہ نیتو رانی، جو سنجے شرما کی اہلیہ ہیں، نے اسپتال کے بستر سے بات کرتے ہوئے کہا’’فوجی اہلکار سب سے پہلے ہمارے پاس پہنچے، وہ افراتفری کے درمیان کسی مسیحا کی طرح نظر آئے۔ انہوں نے ہمیں ملبے سے باہر نکالا۔ میں معجزانہ طور پر بچ گئی ‘ یہ میرے لیے دوسری زندگی سے کم نہیں‘‘۔
ابھی تک خوفزدہ رانی نے حادثے کے بعد کے لمحات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہر طرف مدد کے لیے آوازیں بلند ہو رہی تھیں اور زخمی مسافر مڑی تڑی بس کے اندر پھنسے ہوئے تھے، جب تک کہ امدادی ٹیمیں فوری طور پر نہ پہنچیں اور انہیں نکالنا شروع نہ کیا۔
کمر، ٹانگوں اور چہرے پر چوٹیں آنے کے باوجود انہوں نے بتایا کہ وہ ادھم پور میں اپنے میکے جا رہی تھیں جب یہ حادثہ پیش آیا۔ ان کے مطابق ایک معمول کا سفر پل بھر میں خوفناک خواب میں بدل گیا جب بس خطرناک راستے پر بے قابو ہو گئی۔
انہوں نے کہا’’میں نے اپنا سب کچھ کھو دیا، لیکن زندگی بچ گئی، یہی سب کچھ ہے۔ اب اور کچھ معنی نہیں رکھتا — میں صرف زندہ ہونے پر شکر گزار ہوں‘‘۔ ان کی آواز لرز رہی تھی اور انہوں نے کہا کہ حادثے کے یہ ہولناک لمحات طویل عرصے تک ان کے ذہن میں رہیں گے۔
ایک فوجی جوان، جو ادھم پور سے رام نگر جانے والے قافلے کی قیادت کر رہا تھا، نے بتایا کہ جیسے ہی انہوں نے گاڑی کو پہاڑی سے گرتے دیکھا، وہ فوراً حرکت میں آ گئے۔
انہوں نے کہا’’میں قافلے کی قیادت کر رہا تھا جب راستے میں حادثہ پیش آیا۔ گاڑی تقریباً۱۰۰میٹر کی بلندی سے گری۔ ہم نے فوراً علاقے کو محفوظ بنایا اور ریسکیو آپریشن شروع کیا، اس طرح بڑی مشکل سے کئی قیمتی جانیں بچائیں، جن میں مرد و خواتین شامل تھے‘‘۔
فوجی اہلکاروں کے ساتھ جلد ہی مقامی دیہاتی اور پولیس ٹیمیں بھی شامل ہو گئیں، جن کی قیادت ادھم پور-ریاسی رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس شیو کمار شرما کر رہے تھے۔ سب نے مل کر مڑی تڑی بس کو کاٹ کر زخمیوں کو ترجیحی بنیاد پر باہر نکالا۔
ریسکیو اہلکاروں نے پہلے ملبے میں پھنسے زندہ افراد کو نکالا اور پھر احتیاط سے جاں بحق ہونے والوں کی لاشیں باہر نکالیں۔
سہیل تھاپا کے چچا راجیش نے کہا کہ وہ فوج اور پولیس سمیت تمام ریسکیو ٹیموں کے بروقت اقدام کے لیے شکر گزار ہیں۔۱۹سالہ تھاپا ان طلبہ میں شامل تھا جو بس میں کالج جا رہے تھے اور حادثے میں اس کے سر پر چوٹ آئی۔
حادثے کے دوران بس نے نیچے سڑک پر موجود ایک آٹو رکشہ کو بھی ٹکر ماری اور زبردست زور سے ٹکرا کر الٹ گئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ بس کا اوپری حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور کئی مسافر ملبے میں پھنس گئے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ مڑی تڑی دھات اور ٹوٹے شیشوں کے درمیان زخمی مسافر مدد کے لیے چیخ رہے تھے اور ہر طرف افراتفری کا منظر تھا۔
بعد میں ایک ہائیڈرولک کرین کی مدد سے الٹی پڑی بس کو سیدھا کیا گیا تاکہ اندر پھنسے افراد تک رسائی حاصل کی جا سکے اور حادثے کے مقام سے ملبہ ہٹایا جا سکے۔حادثے کی اصل وجہ تاحال سرکاری طور پر معلوم نہیں ہو سکی، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق ڈرائیور ممکنہ طور پر تیز موڑ کاٹنے میں ناکام رہا۔ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ ایجنسیز










