پارلیمنٹ میں خواتین کیلئے مخصوص نشستوں سے متعلق ترمیمی بل مسترد ہونے پر وزیر اعظم کا سخت ردعمل ‘ اپوزیشن پر وار
یہ آئین اور ملک کی خواتین کے خلاف ایک جرم ہےجس کیلئے کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے ذمہ دار ہیں:وزیر اعظم
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۸؍اپریل
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز کہا کہ اپوزیشن نے خواتین کے لیے مخصوص نشستوں سے متعلق ترمیمی بل کو مسترد کر کے ’’بھروُن ہتیا‘‘ (نسوانی جنین کشی) کا ارتکاب کیا ہے۔
پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے اختتام کے چند گھنٹوں بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے خواتین سے معافی بھی طلب کی، کیونکہ جمعہ کو یہ بل لوک سبھا میں مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکا۔
مودی نے کہا کہ پورے ملک کے سامنے کانگریس اور اس کے اتحادیوں نے اس نیک کوشش کو ختم کر دیا۔ ان کے بقول کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے جیسی جماعتیں اس عمل کی ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ آئین اور ملک کی خواتین دونوں کے خلاف ایک جرم ہے۔
جمعہ کے روز حکومت اس بل کو منظور کرانے میں ناکام رہی جس کے لیے دو تہائی اکثریت درکار تھی۔ ایوان میں۲۹۸؍ارکان نے بل کے حق میں جبکہ۲۳۰نے اس کے خلاف ووٹ دیا، جس کے باعث یہ منظور نہ ہو سکا۔
حکومت کا ارادہ تھا کہ لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد۵۴۳سے بڑھا کر۸۵۰کی جائے اور خواتین کے لیے۳۳ فیصد نشستیں مخصوص کی جائیں۔ اس سلسلے میں تین باہم مربوط بل پیش کیے گئے تھے، تاہم بنیادی آئینی ترمیمی بل کی ناکامی کے بعد دیگر دو بلوں کو ووٹنگ کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔
قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ملک کی خواتین، خصوصاً ماؤں سے معافی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی ترقی رک گئی ہے اور کوششوں کے باوجود وہ اس قانون میں ترمیم کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
مودی نے کہا کہ کانگریس، ڈی ایم کے، ترنمول کانگریس اور سماجوادی پارٹی کی خود غرض سیاست کے باعث ملک کی خواتین کو نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے مطابق کچھ جماعتیں قومی مفاد کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دیتی ہیں، جس کا خمیازہ ملک اور خواتین کو بھگتنا پڑتا ہے۔
وزیر اعظم نے اپوزیشن کو موقع پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خواتین کے حقوق چھین لیے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ بل کو منظور کرنے کے لیے مطلوبہ دو تہائی حمایت حاصل نہ ہو سکی، لیکن ملک کی تمام خواتین حکومت کے ساتھ ہیں۔
مودی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اس بل کی شکست پر اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے تالیاں بجانا خواتین کی خودداری پر حملہ ہے۔ ان کے مطابق ایک عورت ہر بات بھول سکتی ہے لیکن اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو کبھی نہیں بھولتی۔
وزیر اعظم نے خبردار کیا کہ ملک کی خواتین ان رہنماؤں کو ضرور یاد رکھیں گی جنہوں نے اس بل کی شکست پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جماعتیں اکیسویں صدی کی خواتین کو کم تر سمجھ رہی ہیں، حالانکہ خواتین ہر چیز کو دیکھ اور سمجھ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم کسی سے کچھ چھیننے کے لیے نہیں بلکہ خواتین کو ان کا حق دینے کے لیے تھی، تاکہ انہیں برابر کا حصہ دار بنایا جا سکے۔ یہ ایک سنجیدہ اور مخلصانہ کوشش تھی کہ ملک کی نصف آبادی کو ان کا جائز حق دیا جائے اور انہیں ترقی کے سفر میں برابر کا شریک بنایا جائے۔
مودی نے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے نہ صرف آج کی خواتین کی توہین کی بلکہ آئین سازوں کے وژن کو بھی مجروح کیا ہے، اور انہیں اس کا جواب دینا پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق حکومت اس بل کو دوبارہ پیش کرنے کے امکانات پر غور کر رہی ہے اور مختلف جماعتوں سے حمایت حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ اسے دوبارہ پارلیمنٹ میں منظور کرایا جا سکے۔










