ریاستی درجے کی بحالی کے لیے دہلی میں اسی لیے احتجاج کیا‘ سنیل شرما کے بیانات کی کوئی اہمیت نہیں :وزیر اعلیٰ
’محبوبہ مفتی کاجنتا منتر جا کر کشمیریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو درست قرار دینا افسوسناک‘عوام سے معافی مانگیں‘
ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۷جولائی
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کا فیصلہ صرف وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ہی کر سکتے ہیں۔
اننت ناگ ضلع میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا’’ریاستی درجے کی بحالی کا فیصلہ صرف دو افراد کر سکتے ہیں، ایک وزیر اعظم اور دوسرے وزیر داخلہ۔ اسی لیے ہم نے ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے پر دہلی میں احتجاج کیا تھا‘‘۔
وزیر اعلیٰ، جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما کے اس مبینہ بیان پر ردعمل ظاہر کر رہے تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر میں نہ ریاستی درجہ بحال ہوگا اور نہ ہی آرٹیکل۳۷۰ واپس آئے گا۔
عمر عبداللہ نے کہا’’وہ روزانہ دس بیانات دیتے ہیں۔ میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ میں ان کے ہر بیان پر ردعمل دوں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ان معاملات پر وزیر اعظم یا وزیر داخلہ ان سے کوئی مشورہ کریں گے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے طنزیہ انداز میں مزید کہا’’ایک دن وہ نیند سے بیدار ہوں گے اور اخبار میں پڑھیں گے کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کر دیا گیا ہے‘‘۔
اس سے پہلے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی کو جنتا منتر جا کر کشمیریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو درست قرار دینے کے بجائے گھر میں ہی رہنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کو اپنے بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔
اپنے نجی دفتر کے باہر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اقتدار کے منصب پر رہ چکے افراد کے غیر ذمہ دارانہ بیانات عام لوگوں کو اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے سے روکنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے۲۳ جولائی کو مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں جاری احتجاج کی حمایت کے لیے جنتا منتر کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے دہلی میں طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے ماضی میں وادی کشمیر میں پیلٹ گنوں کے استعمال کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر کی صورتحال مختلف تھی کیونکہ وہاں سیکورٹی فورسز عسکریت پسندی سے نبرد آزما تھیں۔
ان کے اس بیان پر نیشنل کانفرنس سمیت مختلف سیاسی جماعتوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا، جبکہ پی ڈی پی نے الزام عائد کیا کہ نیشنل کانفرنس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے محبوبہ مفتی کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا’’جب ایک سابق وزیر اعلیٰ یہ کہتی ہیں کہ کشمیر میں عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لیے طاقت کا استعمال جائز ہے، تو پھر کون اپنے حقوق کے لیے باہر نکلے گا؟ بہتر ہوتا کہ وہ جنتا منتر ہی نہ جاتیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’اگر ہم سیاست دان مرکز کی جانب سے جبر اور طاقت کے استعمال کی حمایت کریں گے تو جب ہم ریاستی درجے کی بحالی کے لیے احتجاج کریں گے تو ہماری حمایت کون کرے گا؟ لوگ باہر نہیں آئیں گے کیونکہ محبوبہ جی نے کہہ دیا ہے کہ ’یہ تو بنتا ہے‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محبوبہ مفتی ریاستی درجے کی بحالی کے لیے نیشنل کانفرنس کے احتجاج میں شرکت کے لیے جنتا منتر نہیں گئیں بلکہ طلبہ کے احتجاج میں شریک ہونے گئیں۔انہوں نے کہا’’وہ جموں و کشمیر کے لیے جنتا منتر نہیں گئیں، لیکن وہاں جا کر انہوں نے عسکریت پسندی کے نام پر طاقت اور اختیارات کے غلط استعمال کو درست قرار دیا‘‘۔
عمرعبداللہ نے سوال اٹھایا’’وہ اس کا جواز کیسے پیش کر سکتی ہیں؟ کیا عسکریت پسندی کی وجہ سے بچوں کو انصاف نہیں ملنا چاہیے؟ کیا پاسپورٹ روک دیے جائیں؟ کیا قوانین نافذ نہ کیے جائیں؟ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس کی کیا توجیہہ ہو سکتی ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محبوبہ مفتی کی پرانی عادت رہی ہے کہ وہ دہلی میں ایک اور کشمیر میں دوسری زبان بولتی ہیں۔انہوں نے کہا’’ایک لمحے کے لیے مان لیتے ہیں کہ وہ وہاں کسی کو خوش کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، لیکن انہوں نے مختلف مقامات پر مختلف باتیں کرنے کی اپنی پرانی عادت نہیں چھوڑی‘‘۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی کو اپنے بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔انہوں نے کہا’’اگر وہ میڈیا کو بلا کر یہ کہہ دیتیں کہ وہ جذبات میں آ گئی تھیں اور انہیں اپنے بیان پر افسوس ہے، تو ان کا قد کم نہ ہوتا۔ لیکن معافی مانگنے کے بجائے وہ زخموں پر نمک چھڑک رہی ہیں۔ ان کے ایک ایم ایل اے کہہ رہے ہیں کہ یہ اے آئی ہے۔ کیا ہم بے وقوف ہیں؟‘‘
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا’’اب آپ لوگوں کی عقل کو چیلنج کر رہے ہیں کہ یہ اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو ہے۔ جو کچھ آپ نے کہا وہ افسوسناک تھا، کم از کم اسے تسلیم تو کریں۔ آپ نے نہ۲۰۱۵ میں بی جے پی کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر معافی مانگی اور نہ ہی۲۰۱۶کے حالات پر افسوس کا اظہار کیا، اب آپ کہہ رہی ہیں کہ یہ تو بنتا ہے‘‘۔
گزشتہ ہفتے اننت ناگ میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پر کی گئی گرفتاریوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ محبوبہ مفتی عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لیے ہراساں کرنے کے طریقہ کار کا دفاع کر رہی ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا’’ہمارا مسئلہ یہی ہے کہ محبوبہ مفتی اسی چیز کو جائز قرار دے رہی ہیں۔ جب ذمہ دار لوگ زمینی حقیقتوں کو نظر انداز کرتے ہیں تو ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک طرف ہم ان گرفتاریوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور دوسری طرف وہ ملک کے دارالحکومت جا کر ان کا جواز پیش کرتی ہیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کشمیر واپس آ کر گرفتاریوں کی مخالفت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، انہیں دہلی میں ہی اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے تھی کیونکہ وہاں پورے ملک کا میڈیا موجود تھا اور سب کی نظریں جنتا منتر پر تھیں، لیکن وہاں انہوں نے ان کارروائیوں کو درست قرار دیا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے خلاف ہیں کیونکہ عوام کی حمایت کے بغیر عسکریت پسندی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔انہوں نے کہا’’ہم کسی حد تک اسے قابو میں تو رکھ سکتے ہیں، لیکن آخری مرحلہ طے کرنے کے لیے عوام کا تعاون ضروری ہے۔ اگر ہم گھروں پر بلڈوزر چلائیں، لوگوں کو گرفتار کریں اور انہیں ظلم کا نشانہ بنائیں گے تو وہ ہمارا ساتھ نہیں دیں گے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا’’ذرا تصور کریں کہ جن ڈھائی ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا، ان سے تقریباً پندرہ ہزار لوگ وابستہ ہوں گے۔ ہم نے پندرہ ہزار لوگوں کو اپنے سے دور کر دیا۔ پھر عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں کامیاب کیسے ہوں گے؟‘‘
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے پر تبصرہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس کا اصل کریڈٹ طلبہ کو جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے مطالبات پر ثابت قدم رہے۔انہوں نے کہا’’دیر آید درست آید۔ اگر انہیں استعفیٰ دینا ہی تھا تو پہلے دینا چاہیے تھا، اتنی دیر کیوں کی؟ یہ کسی ایک کی جیت نہیں ہے۔ کامیابی کے بہت سے دعوے دار ہوتے ہیں جبکہ ناکامی لاوارث ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کریں گے، لیکن حقیقت میں اس کے مستحق صرف طلبہ ہیں‘‘۔










