ادھم پور اور ملحقہ علاقوں میں شدید سے انتہائی شدید بارش کا امکان‘ عوام اور سیاحوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت
ایجنسیاں
سرینگر؍۲۷ جولائی
محکمہ موسمیات کے علاقائی مرکز سرینگر نے۲۸ جولائی سے جموں و کشمیر میں بارش اور گرج چمک کے ایک تازہ سلسلے کی پیش گوئی کرتے ہوئے حساس علاقوں میں شدید سے انتہائی شدید بارش اور اچانک سیلاب (فلیش فلڈ) کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ۲۷ جولائی کو دوپہر کے بعد سے شام تک کئی مقامات پر بارش اور گرج چمک کا امکان ہے، جس کے بعد موسم میں بہتری متوقع ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ۲۸ سے۳۱ جولائی کے دوران وادی کشمیر میں بیشتر مقامات پر ہلکی سے درمیانی درجے کی بارش اور گرج چمک کے کئی سلسلے متوقع ہیں، جبکہ چند اضلاع میں بالخصوص صبح سویرے اور سہ پہر یا شام کے اوقات میں مختصر مگر شدید بارش ہوسکتی ہے۔
اسی دوران جموں ڈویژن میں بھی بیشتر مقامات پر ہلکی سے درمیانی درجے کی بارش اور گرج چمک متوقع ہے، تاہم چند اضلاع میں شدید اور موسلادھار بارش کے ساتھ مختصر وقفوں میں انتہائی شدید بارش کا امکان ہے۔ خاص طور پر ادھم پور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں رات، صبح اور سہ پہر یا شام کے اوقات میں شدید سے انتہائی شدید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ محکمہ کے مطابق۳۰؍اور۳۱ جولائی کو موسمی سرگرمی اپنے عروج پر ہوگی۔
یکم اور۲؍ اگست کو بھی کئی مقامات پر ایک یا دو مرتبہ بارش اور گرج چمک کا امکان ہے، جبکہ۳؍اور۴؍اگست کو بھی متعدد علاقوں میں بارش اور گرج چمک کے ساتھ جموں ڈویژن کے چند اضلاع میں شدید اور موسلادھار بارش ہوسکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے اپنی ایڈوائزری میں خبردار کیا ہے کہ۲۸ سے۳۱ جولائی کے دوران جموں ڈویژن کے بعض اضلاع میں شدید بارش اور مختصر وقفوں میں انتہائی شدید بارش متوقع ہے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ شدید بارش اور موسلادھار بارش کے باعث حساس علاقوں میں اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔ محکمہ کے مطابق۳۰ جولائی کو ادھم پور اور ملحقہ علاقوں میں شدید سے انتہائی شدید بارش کا زیادہ امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے عوام، سیاحوں، مسافروں اور ٹرانسپورٹروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ مشوروں پر عمل کریں اور حساس و خطرناک علاقوں کا رخ کرنے سے گریز کریں۔
ادھرادھم پور ضلع میں پیر کے روز ایک تازہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث۲۵۰ کلومیٹر طویل جموں،سرینگر قومی شاہراہ بند ہوگئی، جس کے نتیجے میں سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں، جبکہ ڈوڈہ ضلع میں مرکزی پل میں مبینہ دراڑوں کی اطلاع کے بعد حفاظتی معائنے کے پیش نظر اسے عارضی طور پر ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔
ٹریفک محکمہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ادھم پور کے دیول علاقے میں پیر کی صبح قومی شاہراہ پر مٹی کا ایک بڑا تودہ آ گرا، جس کے باعث دونوں اطراف سے گاڑیوں کی آمدورفت معطل کر دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ شاہراہ کی بندش کے باعث تقریباً۱۷۰۰ ٹرک اور متعدد مسافر گاڑیاں ادھم پور اور بانہال کے درمیان پھنس گئیں۔ خراب سڑک کی مرمت کے دوران گاڑیوں کو سنگل کیرج وے سے گزارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مسافر گاڑیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے، تاہم مرمتی کام مکمل ہونے تک جموں سے سرینگر، ڈوڈہ، رام بن اور پٹنی ٹاپ یا ان علاقوں سے جموں کی طرف کسی نئی گاڑی کو جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
عہدیدار کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے ملبہ ہٹانے اور ٹریفک جلد بحال کرنے کے لیے مشینری اور عملہ تعینات کر دیا ہے۔
ترجمان نے عوام سے اپیل کی کہ شاہراہ کو محفوظ قرار دیے جانے اور دوبارہ کھولنے تک سفر سے گریز کریں کیونکہ مزید لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑی سے پتھر گرنے کا خطرہ برقرار ہے۔ انہوں نے لوگوں کو افواہوں پر کان نہ دھرنے اور سڑک کی تازہ صورتحال جاننے کے لیے صرف ٹریفک پولیس کے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری معلومات پر اعتماد کرنے کا مشورہ دیا۔
دریں اثنا، حکام نے بتایا کہ سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان۳۸۲۳؍امرناتھ یاتریوں پر مشتمل۱۴۰ گاڑیوں کے قافلے کو یکطرفہ ٹریفک بحال ہونے کے بعد متاثرہ مقام سے بالٹال بیس کیمپ کی طرف روانہ ہونے کی اجازت دی گئی۔انہوں نے کہا کہ دوسرے ٹنل ٹیوب کے آئندہ چند گھنٹوں میں فعال ہونے کے بعد معمول کی ٹریفک بحال کر دی جائے گی۔ ٹریفک کی عارضی معطلی کا مقصد بحالی کے کام کو تیز رفتاری اور بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کرنا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ مسلسل بارشوں کے باعث مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑی سے پتھر گرنے کے سبب قومی شاہراہ تین روز تک بند رہنے کے بعد اتوار کو بحال کی گئی تھی، تاہم امرناتھ یاترا کے قافلے کے گزرنے کے بعد رام بن-بانہال سیکشن کے گنگرو علاقے میں ملبہ ہٹانے کے لیے دوبارہ تقریباً پورا دن ٹریفک معطل رہی۔
ادھر، ڈوڈہ میں پل ڈوڈہ کو اتوار کی رات مبینہ دراڑوں کی اطلاع ملنے کے بعد احتیاطی طور پر ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔
محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) کے ایگزیکٹو انجینئر انیل مہرا نے بتایا کہ انجینئروں کے معائنے میں معلوم ہوا کہ یہ ساختی دراڑیں نہیں بلکہ تعمیر کے دوران شٹرنگ کے جوڑوں پر کنکریٹ کے اوور لیپ کی وجہ سے بننے والے نشانات ہیں۔
مہرا نے کہا’’حالیہ شدید بارشوں کے بعد پل میں دراڑیں پڑنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ احتیاطی تدبیر اور عوامی تحفظ کے پیش نظر رات کے وقت پل کو ٹریفک کے لیے بند کیا گیا۔ پیر کی صبح تفصیلی معائنے کے بعد ہماری ابتدائی رائے ہے کہ یہ ساختی دراڑیں نہیں ہیں‘‘۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ڈیزائن انسپیکشن اینڈ کوالٹی کنٹرول کے ماہرین کی ایک ٹیم کو بھی پل کا آزادانہ معائنہ اور معیار کی جانچ کے لیے طلب کیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پل میں کوئی ساختی خرابی موجود نہ ہو۔
مہرا نے کہا کہ ماہرین کی جانب سے پل کو محفوظ قرار دیے جانے کے بعد اسے دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔ فی الحال ٹریفک کو متبادل گنپت پل سے گزارا جا رہا ہے۔ اگر ماہرین کسی خرابی کی نشاندہی کرتے ہیں تو اس کی فوری مرمت کے بعد ہی پل کو دوبارہ کھولا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔










