ایجنسیاں
نئی دہلی؍۲۷ جولائی
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم، نیز وزیر مملکت برائے وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں’پبلک ایگزامینیشنز (انسدادِ ناجائز ذرائع) ترمیمی بل۲۰۲۶’ پیش کیا۔
اس ترمیمی بل کا مقصد پبلک ایگزامینیشنز (انسدادِ ناجائز ذرائع) ایکٹ‘۲۰۲۴ کو مزید مؤثر بناتے ہوئے امتحانات میں پرچہ لیک، منظم بدعنوانیوں اور نقل جیسے جرائم کے خلاف سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔
بل کے تحت فوری تحقیقات، خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں کے ذریعے جلد سماعت، خصوصی سرکاری وکلاء کی تقرری، اپیلوں کا مقررہ مدت میں فیصلہ اور مزید سخت سزاؤں کی تجاویز شامل کی گئی ہیں تاکہ امتحانی بدعنوانیوں کی مؤثر روک تھام کی جا سکے۔
حکومت کے مطابق حالیہ برسوں میں مختلف عوامی امتحانات میں پرچہ لیک اور منظم بے ضابطگیوں کے واقعات سامنے آنے کے بعد موجودہ قانون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ مجوزہ ترامیم کا مقصد جوابدہی میں اضافہ، جرائم کے خلاف مؤثر بازدار اثر پیدا کرنا اور عوامی امتحانات کی شفافیت و سالمیت کا تحفظ کرنا ہے۔
بل میں تجویز دی گئی ہے کہ ناجائز ذرائع استعمال کرنے والوں کے لیے کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا مقرر کی جائے، جبکہ موجودہ قانون میں یہ سزا کم از کم تین سال اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال ہے۔
اسی طرح زیادہ سے زیادہ جرمانہ۱۰ لاکھ روپے سے بڑھا کر۵۰ لاکھ روپے کرنے کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے۔بل کے مطابق اگر کوئی سروس فراہم کرنے والی ایجنسی امتحانی بدعنوانی میں ملوث پائی جاتی ہے تو اس پر عائد کیے جانے والے زیادہ سے زیادہ جرمانے کو ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر پانچ کروڑ روپے کیا جائے گا، جبکہ عوامی امتحانات کے انعقاد سے اس کی نااہلی کی مدت چار سال سے بڑھا کر آٹھ سال کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
ترمیمی بل میں ایسی ایجنسیوں کے انتظامی عہدیداروں کے لیے بھی سخت سزاؤں کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے تحت انہیں کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا دی جا سکے گی، جبکہ زیادہ سے زیادہ جرمانہ بھی ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر پانچ کروڑ روپے کیا جائے گا۔










