راجوری کے سرکاری ملازم اورپونچھ کے دو خاندانوں کے چھ افراد کا کوئی سراغ نہیں
ایجنسیاں
جموں؍۲۷ جولائی
موسم بہتر ہونے کے بعد فوج نے راجوری ضلع میں فلیش فلڈ میں بہہ جانے والے ایک سرکاری ملازم کی تلاش کے لیے خصوصی تربیت یافتہ ڈاگ اسکواڈ کو بھی سرچ آپریشن میں شامل کر دیا ہے، جبکہ پڑوسی ضلع پونچھ میں لاپتہ دیگر چھ افراد کی تلاش بھی مزید تیز کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق یہ تمام سات افراد۱۹ جولائی سے لاپتہ ہیں، جب شدید بارشوں کے باعث پونچھ اور راجوری کے سرحدی اضلاع میں اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے تھے۔ ان حادثات میں۲۲؍افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جن میں سے زیادہ تر اموات پونچھ کے سرنکوٹ علاقے میں ہوئی تھیں۔
لاپتہ افراد میں سرنکوٹ کے لوئر مرہ علاقے کے ایک ہی خاندان کے چار افراد اور سنگلہ گاؤں کے ایک دوسرے خاندان کے دو افراد شامل ہیں۔
حکام نے بتایا کہ پولیس، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) اور سول انتظامیہ پر مشتمل ریسکیو ٹیمیں دشوار گزار علاقوں اور حالیہ بارشوں سے متاثرہ مقامات پر جل شکتی محکمہ کے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازم عبدالغنی کی تلاش میں مصروف ہیں۔
حکام نے بتایا کہ۱۹ جولائی کو آنے والے فلیش فلڈ کے دوران عبدالغنی ایک واٹر پمپنگ اسٹیشن کے اندر موجود تھے، جو سیلابی ریلے میں بہہ گیا، اور اس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔
ادھر پونچھ کے سب سے زیادہ متاثرہ سرنکوٹ علاقے میں بھی مختلف ایجنسیوں پر مشتمل ٹیموں نے دو خاندانوں کے چھ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں، جو بادل پھٹنے کے بعد آنے والے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے۔
حکام کے مطابق ریسکیو اہلکار دریاؤں کے کناروں، ندی نالوں اور سیلاب سے متاثرہ دیگر مقامات پر مسلسل تلاش کر رہے ہیں، جبکہ بھاری مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹانے، متاثرہ مکانات صاف کرنے اور بند راستوں کو بحال کرنے کا کام بھی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام لاپتہ افراد کا سراغ ملنے تک ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
واضح رہے کہ حالیہ موسلادھار بارشوں نے سڑکوں، پلوں، سرکاری و نجی املاک، رہائشی مکانات اور زرعی اراضی کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا، جبکہ ڈوڈہ اور رام بن اضلاع میں مزید پانچ افراد کی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔
(ایجنسیاں)










