ایجنسیز
نئی دہلی؍۶؍ اپریل
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے بھارت،پاکستان سرحد کے پار ڈرون کے ذریعے اسلحہ اور گولہ بارود کی اسمگلنگ کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
حکام کے مطابق اس کے پیچھے ایک بڑے دہشت گردانہ منصوبے کا شبہ ہے جس کا مقصد ملک میں حملے انجام دینا ہو سکتا ہے۔
مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت پر این آئی اے نے اس سلسلے میں ایک مقدمہ درج کیا ہے، جس میں پاکستان میں مقیم مبینہ دہشت گرد کارکن جسویر چوہدری، اس کے بھارتی ساتھی شبھم کمار اور دیگر نامعلوم افراد کے کردار کی جانچ کی جا رہی ہے۔
یہ کیس ابتدائی طور پر رواں سال فروری میں پنجاب پولیس نے درج کیا تھا۔ امرتسر میں اسٹیٹ اسپیشل آپریشنز سیل کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ چوہدری کی ہدایات پر اس کے بھارتی ساتھیوں نے ڈرون کے ذریعے بھارت،پاکستان سرحد پار سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ بم(آئی ای ڈیز) کی بڑی کھیپ حاصل کی۔
اطلاعات کے مطابق اس اسلحے کو پنجاب، دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں دھماکوں کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا تھا۔ اس ضمن میں۱۰فروری کو ریاستی پولیس نے ایف آئی آر درج کی تھی۔
وزارت داخلہ کے حکم میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ ایک ’غیر ملکی عنصر‘ کی جانب سے رچی گئی مجرمانہ سازش سے متعلق ہے، جس کا مقصد بھارت میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینا تھا۔
حکام کے مطابق جرم کی سنگینی، قومی سلامتی پر اس کے ممکنہ اثرات، اور اس کے بین الاقوامی روابط کے پیش نظر اس کیس کی تفتیش این آئی اے کو سونپی گئی ہے تاکہ اس بڑے نیٹ ورک اور سازش کو بے نقاب کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ این آئی اے نے گزشتہ ماہ بھی پنجاب میں ڈرون کے ذریعے اسلحہ گرائے جانے کے ایک اور کیس کی تحقیقات کے لیے ایف آئی آر درج کی تھی۔










