نئی دہلی، 04 اپریل (یو این آئی) مئی میں برکس کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی صدارت کے لیے ہندوستان کی تیاریوں کے دوران، مغربی ایشیا میں بڑھتا ہوا تنازعہ ایک مشکل سفارتی چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ رکن ممالک کے درمیان تقسیم اور بلاک کے اندر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں حائل رکاوٹیں اس امتحان کو مزید کٹھن بنا رہی ہیں۔
سفارت کار اور مغربی ایشیا کے ماہر انل تریگونایت کا کہنا ہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں ہموار نتائج کی توقع رکھنا مشکل ہے، خاص طور پر ایران اور خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتے ہوئے ‘اعتماد کے فقدان’ کے پیش نظر۔
انہوں نے کہا، "خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان مزید گہرا ہو گیا ہے، کیونکہ امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے بہانے ان ممالک پر بار بار حملے کیے گئے۔ ان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ایک کلیدی مسئلہ ہے۔”
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی ) کے ممالک کو اس بحران میں مزید دھکیل دیا ہے، کیونکہ تہران خطے میں جوابی حملے کر رہا ہے۔ اگرچہ خلیجی ریاستوں کو براہِ راست سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے، لیکن وہ اپنی دیرینہ سکیورٹی وابستگیوں کی وجہ سے واشنگٹن کی حمایت پر مجبور ہیں۔
اس کشمکش نے امریکی پالیسی کے ساتھ وابستگی کی قیمت کو واضح کر دیا ہے، خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘غزہ امن منصوبے’ کے تناظر میں، جسے خطے کے کئی ملکوں نے اسٹریٹجک طور پر ناقص قرار دیا ہے۔ یہ منصوبہ جو استحکام کے راستے کے طور پر پیش کیا گیا تھا، اس نے الٹا خلیجی ممالک کو ایک پرخطر پوزیشن میں چھوڑ دیا ہے جہاں وہ امریکی اقدامات کی حمایت بھی کر رہے ہیں اور علاقائی کشیدگی کا خمیازہ بھی بھگت رہے ہیں۔
تریگونایت نے واضح کیا کہ اگر دشمنی فوری طور پر ختم بھی ہو جائے، تب بھی اعتماد کی بحالی میں کافی وقت لگے گا۔ تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ برکس کی تاریخ رہی ہے کہ اس میں باہمی اختلافات رکھنے والے ممالک شامل رہے ہیں، اس لیے یہ اب بھی رابطے کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کر سکتا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکی سکیورٹی ضمانتوں سے بڑھتی ہوئی مایوسی نے خلیجی ممالک کو اپنی اسٹریٹجک اور معاشی شراکت داریوں میں تنوع لانے پر مجبور کیا ہے، جس کی وجہ سے برکس جیسے گروپوں میں ان کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "ہندوستان، جو کہ اس وقت صدارت کر رہا ہے، پہلے ہی تمام رکن ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ہوشیار اور ماہرانہ سفارت کاری کے ذریعے ہندوستانی قیادت اس کے اثرات کو کم کرنے میں کامیاب رہے گی۔”
وسیع تر جغرافیائی سیاسی ڈائنمکس کا جائزہ لیتے ہوئے تریگونایت نے کہا کہ امریکہ بغیر کسی واضح حکمت عملی کے اس تنازعے میں داخل ہوا اور اپنے مقاصد مسلسل بدل رہا ہے۔ انہوں نے کہا، "میرے خیال میں امریکہ، خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک آنے والے خطرے کا ڈردلا کر اس جنگ میں شامل کیا۔ واشنگٹن بغیر کسی حکمت عملی کے اس میں اترا اور مسلسل جنگ کے نئے مقاصد ایجاد کرتا رہا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے مالی اخراجات، جن کا تخمینہ 30 بلین ڈالر سے زائد ہے، بڑھ رہے ہیں اور واشنگٹن اب خلیجی ممالک کی طرف دیکھ رہا ہے کہ وہ اس کا بوجھ بانٹیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے اسٹریٹجک مقامات پر قبضے یا زمینی فوج اتار کر جنگ کو وسعت دی تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔
عالمی اثرات پر تریگونایت نے کہا کہ اگرچہ روس کو اپنی تیل کی برآمدات پر دباؤ کم ہونے سے فائدہ پہنچ سکتا ہے، لیکن وہ اپنے جاری تنازعہ کی وجہ سے محدود ہے، جبکہ چین ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان اپنے مفادات کا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ طویل عدم استحکام کسی کے حق میں نہیں ہوگا۔
بحران کے دوران، ہندوستان نے ایران اور خلیجی ممالک دونوں کے ساتھ اپنے مضبوط تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک نازک سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ تریگونایت نے کہا، "ہندوستان ایک قابلِ اعتماد ثالث رہا ہے اور تمام فریقین اس کا احترام کرتے ہیں۔”
دریں اثنا، روسی نائب وزیر خارجہ آندرے رودینکوف کے مطابق، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف 14-15 مئی کو برکس وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی کا دورہ کرنے والے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ ملاقات ہندوستانی صدارت کے تحت برکس سربراہ اجلاس کے فریم ورک اور کلیدی نتائج کو شکل دینے میں مدد دے گی۔ لاوروف کی ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور دیگر حکام سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
ہندوستان، جس نے یکم جنوری کو برکس کی صدارت سنبھالی تھی، اس نے "انسانیت مقدم” کے نقطہ نظر کا خاکہ پیش کیا ہے جس میں لچک، اختراع، تعاون اور پائیداری پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ یہ گروپ دنیا کی تقریباً نصف آبادی کی نمائندگی کرتا ہے۔










