یہ کوئی انفرادی معاہدہ نہیں بلکہ دوحکومتوں میں عہد ہے :وزیر اعلیٰ
ایجنسیز
جموں؍۲؍اپریل
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ وہ رنجیت ساگر ڈیم سے متعلق زیر التوا وعدوں کا معاملہ اپنے ہم منصب پنجاب کے ساتھ اٹھائیں گے۔
عمرعبداللہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی نے اس منصوبے کی نگرانی کرنے والے بین الحکومتی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کی۔ رنجیت ساگر ڈیم، جسے تھیئن ڈیم بھی کہا جاتا ہے، دریائے راوی پر واقع ایک بڑا۶۰۰ میگاواٹ ہائیڈرو الیکٹرک منصوبہ ہے جو کٹھوعہ (جموں و کشمیر) اور پٹھانکوٹ (پنجاب) کے قریب واقع ہے، اور۲۰۰۱ میں مکمل ہوا تھا۔
بی جے پی کے رکن اسمبلی درشن کمار کے سوال اور ان کے ساتھی شام لال شرما کے ضمنی سوال کے جواب ‘ جس میں پنجاب حکومت کی جانب سے منصوبے سے۲۰ فیصد بجلی کے حصے کی فراہمی میں ناکامی اور متاثرہ خاندانوں کو واجب الادا معاوضے کا ذکر کیا گیا‘میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ۱۹۷۹ میں منصوبے کی تعمیر کے دوران طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں درج وعدوں کی یاد دہانی پنجاب حکومت کو کرائیں گے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’یہ کوئی انفرادی معاہدہ نہیں بلکہ حکومت پنجاب اور حکومت جموں و کشمیر کے درمیان ایک خودمختار عہد ہے، لہٰذا ذمہ داریوں سے روگردانی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہم انہیں باضابطہ طور پر یاد دہانی کرائیں گے اور اس بات پر زور دیں گے کہ وہ اپنے وعدوں کو تسلیم کریں اور پورا کریں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کو رنجیت ساگر ڈیم سے۲۰ فیصد بجلی کا حق حاصل ہے، جو۲۰۱۹ میں پنجاب اسٹیٹ پاور کارپوریشن لمیٹڈ اور جے کے پاور کارپوریشن لمیٹڈ کے درمیان ہونے والے سیلز معاہدے کے مطابق ہے۔
تاہم، ناکافی ترسیلی ڈھانچے کی وجہ سے بجلی کی فراہمی ابھی تک شروع نہیں ہو سکی۔ معاوضے کے حوالے سے عمرعبداللہ نے بتایا کہ کل۸۵ء۴۸کروڑ روپے میں سے تقریباً۷۱ء۱۵ کروڑ روپے پنجاب کی جانب سے جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ تقریباً۱۵ء۹۴کروڑ روپے، بشمول سود، ابھی باقی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ادائیگی میں تاخیر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کچھ دعویداروں نے بارہا نوٹسز کے باوجود آدھار، پین اور بینک تفصیلات جیسے ضروری دستاویزات جمع نہیں کرائے۔ روزگار کے معاملے پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ۸۰۰سے زائد متاثرہ خاندانوں کے مسائل متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھائے گئے ہیں۔
تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اب تک دی جانے والی ملازمتیں توقعات کے مطابق نہیں ہیں اور اس سلسلے میں مزید بات چیت کی ضرورت ہے تاکہ معاہدے اور بعد کی بحالی پالیسیوں کے تحت کیے گئے وعدے مکمل طور پر نافذ کیے جا سکیں۔
عمرعبداللہ نے کہا’’ہماری کوشش یہ بھی ہے کہ رقم جلد از جلد مستحقین تک پہنچے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک تمام ضروری تقاضے اور طریقہ کار مکمل نہیں ہوتے، ادائیگی ممکن نہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا’’ہم اس معاملے کا متعلقہ انتظامیہ کے ساتھ جائزہ لیں گے اور یہ یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ۱۹۷۹ کے معاہدے کے تحت کیے گئے وعدے طے شدہ طریقہ کار اور مدت کے اندر مکمل کیے جائیں‘‘۔
پنجاب حکومت پر مفاہمتی یادداشت کے تحت وعدے پورے نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے شام لال شرما نے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے اٹھائیں۔ انہوں نے کہا’’ہم اپنی طرف سے بھی تعاون کے لیے تیار ہیں۔ چونکہ اب دوسرے مرحلے پر کام جاری ہے، اس لیے یہ تمام زیر التوا معاملات اٹھانے کا درست وقت ہے‘‘۔
درشن کمار نے متاثرہ افراد کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو ملازمت دی گئی ہے، انہیں اکثر باورچی یا مزدور جیسے عہدوں پر تعینات کیا جاتا ہے، جہاں ترقی کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔
عمرعبداللہ نے کہا’’معاہدے میں یہ بھی طے تھا کہ ملازمتیں منصوبے کے قریب دی جائیں گی، مگر اس کے برعکس لوگوں کو پنجاب کے دور دراز علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان، حتیٰ کہ پوسٹ گریجویٹ افراد کو بھی کم درجے کی ملازمتوں میں رکھا جا رہا ہے، جہاں وہ کلرک جیسے کام کرنے پر مجبور ہیں۔‘‘










