سرینگر؍۱۴مارچ
وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز زور دیا کہ خطے میں سرد پانی کی مچھلی پروری کے شعبے کو مضبوط بنانے اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے سائنسی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار طریقوں کو اپنانا ناگزیر ہے۔
سری نگر کے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں سرد پانی کی مچھلی پروری سے متعلق قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کو اس شعبے کی بحالی اور توسیع کے لیے نئی تکنیکیں تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ماہی پروری کی ترقی پائیدار بنیادوں پر ہو تاکہ میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظام کا تحفظ کیا جا سکے اور مچھلیوں کے ذخائر میں کمی نہ آئے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’سائنس اور تحقیق کو ہماری رہنمائی کرنی چاہیے کہ کون سی نئی تکنیکیں اپنائی جا سکتی ہیں اور کس نوعیت کے مطالعات کی ضرورت ہے تاکہ سرد پانی کی مچھلی پروری کو ایک نئی تحریک مل سکے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس شعبے سے وابستہ لوگوں کی معاشی ترقی کو ترجیح دی جانی چاہیے اور کوششیں اس بات پر مرکوز ہونی چاہئیں کہ مچھلی پالنے والے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو اور اسے محفوظ بنایا جائے۔
بدلتے موسمیاتی رجحانات کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیر میں درجہ حرارت میں اضافہ پہلے ہی محسوس کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا’’کس نے سوچا تھا کہ سری نگر میں فروری کے مہینے میں اتنا گرم موسم دیکھنے کو ملے گا؟ یہاں تک کہ درختوں پر پھول بھی معمول سے بہت پہلے کھلنے لگے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ پھولوں کے جلد کھلنے کی وجہ سے اندرا گاندھی میموریل ٹیولپ گارڈن کو بھی معمول سے پہلے کھولنا پڑا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی قدرتی نظام کو کس طرح متاثر کر رہی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اس طرح کی ماحولیاتی تبدیلیاں سرد پانی کی مچھلی پروری پر بھی اثر انداز ہوں گی، اس لیے ضروری ہے کہ جدید طریقوں کو اپنایا جائے اور ملک کے دیگر حصوں میں رائج بہترین تجربات سے سیکھا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کشمیر میں اس کانفرنس کے انعقاد سے ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور شمال مشرقی ریاستوں جیسے پہاڑی علاقوں کے ساتھ تجربات کے تبادلے کا موقع ملے گا۔
کشمیر میں ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش کی طویل روایت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس شعبے میں خطے کو ایک صدی سے زیادہ کا تجربہ حاصل ہے، کیونکہ ٹراؤٹ مچھلی پہلی بار۱۹۰۰میں یہاں متعارف کرائی گئی تھی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’ہمارا۱۲۶سالہ تجربہ ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنا علم دوسروں کے ساتھ بانٹنا ہوگا اور یہ بھی سیکھنا ہوگا کہ دوسرے ہم سے بہتر کیا کر رہے ہیں‘‘۔
عمرعبداللہ نے امید ظاہر کی کہ مؤثر توجہ اور پالیسی تعاون کے ذریعے بھارت دنیا کے بڑے مچھلی پیدا کرنے والے ممالک میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرے گا جبکہ جموں و کشمیر سرد پانی کی مچھلی پروری کے شعبے میں ایک نمایاں مقام حاصل کرے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کانفرنس میں شریک مندوبین کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پلیٹ فارم مختلف شراکت داروں کو ایک دوسرے سے سیکھنے اور اس شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ طور پر آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔










