لیہہ؍۱۴مارچ
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے ہفتہ کے روز ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت حراست ختم کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے کے لیے مثبت قدم قرار دیا۔
تاہم سکسینہ نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں’’احتجاج اور تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘‘۔ اور عوام کی خواہشات اور خدشات سے متعلق تمام معاملات مختلف فریقوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔
مرکزی حکومت نے ہفتہ کے روز اعلان کیا کہ اس نے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی قومی سلامتی ایکٹ کے تحت حراست کو فوری طور پر منسوخ کر دیا ہے۔ وانگچک کو لیہہ میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد تقریباً چھ ماہ قبل گرفتار کیا گیا تھا، جن میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
مرکز کے مطابق یہ فیصلہ لداخ میں امن کو فروغ دینے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب سپریم کورٹ نے منگل کے روز وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت۱۷مارچ تک ملتوی کر دی تھی، جس میں ان کی حراست کو چیلنج کیا گیا تھا۔
وانگچک کو۲۶ستمبر۲۰۲۵کو حراست میں لیا گیا تھا، جو لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور اسے آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کے مطالبات کے سلسلے میں لیہہ میں ہونے والے احتجاج کے دو دن بعد عمل میں آئی تھی۔
لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’’لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے وانگچک کی حراست ختم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ لداخ میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے ماحول کو فروغ دینے کی جانب مرکز کا ایک مثبت قدم ہے‘‘۔
بیان میں کہا گیا کہ سکسینہ نے واضح کیا کہ لداخ میں احتجاج اور تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور عوام کی خواہشات اور خدشات سے متعلق تمام مسائل مختلف فریقوں، کمیونٹی رہنماؤں اور شہریوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔
لیہہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کے مطالبات کی حمایت میں جاری تحریک کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں وزارتِ داخلہ کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات بھی جاری ہیں۔
۴ فروری کو وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے کی صدارت میں ہونے والی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کے اجلاس میں لداخ کی دو نمایاں تنظیموں ‘لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس ‘نے دیگر مطالبات کے ساتھ وانگچک کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا تھا










