لداخ کو ریاست کا درجہ اور آئین چھٹے شیڈول کے تحت تحفظ فراہم کرنے کے مطالبات کو قبول کیا جائے:حنفیہ
(ندائے مشرق ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۴مارچ
لداخ کے رہنماؤں نے ہفتہ کے روز ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی جودھپور جیل سے رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے باقی زیرِ حراست افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
وانگچک کو ہفتہ کے روز اس وقت جیل سے رہا کر دیا گیا جب مرکزی حکومت نے ان کی حراست کو فوری طور پر منسوخ کر دیا۔
رتاناڑا پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او دنیش لکھاوت نے کہا’’انہیں آج دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے مرکزی حکومت کے حکم کے بعد جیل سے رہا کیا گیا‘‘۔ان کی اہلیہ گیتانجلی انگمو رہائی کی رسمی کارروائیاں مکمل کرنے کے لیے یہاں موجود تھیں۔
یہ رہائی اس وقت عمل میں آئی جب چند دن بعد۱۷مارچ کو سپریم کورٹ میں انگمو کی جانب سے دائر حبسِ بے جا (ہیبیس کارپس) کی درخواست پر سماعت ہونی ہے، جس میں کارکن کی۱۹۸۰کے قانون کے تحت حراست کو چیلنج کیا گیا ہے۔یہ قانون حکام کو بغیر مقدمہ چلائے کسی شخص کو۱۲ماہ تک حراست میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔
لداخ کے رکنِ پارلیمان محمد حنیفہ نے ان کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت تحفظ فراہم کرنے کے مطالبات کو قبول کیا جائے۔
حنیفہ نے کہا’’ہم سونم وانگچک کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن دیگر افراد کو بھی رہا کیا جانا چاہیے اور حکومت کو ان لوگوں کے خلاف درج مقدمات بھی واپس لینے چاہئیں جنہوں نے احتجاج میں حصہ لیا تھا‘‘۔
مرکزی وزارتِ داخلہ نے اپنے بیان میں مرکز کے زیر انتظام علاقے میں امن و قانون کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہڑتالوں اور احتجاج کے موجودہ ماحول نے معاشرے کے پُرامن کردار کو نقصان پہنچایا ہے اور اس کے منفی اثرات معاشرے کے مختلف طبقات پر پڑے ہیں، جن میں طلبہ، ملازمت کے خواہشمند نوجوان، کاروباری حلقے، ٹور آپریٹرز اور سیاح شامل ہیں، جس سے مجموعی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے‘‘۔
تاہم حنیفہ نے کہا کہ احتجاج آئینی حق ہے اور حکومت سے اپیل کی کہ اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔
ممبر پارلیمنٹ نے کہا’’اگر ہماری آواز کسی اور طریقے سے نہیں سنی جاتی تو احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ ہم نے پہلے دن سے ہمیشہ پُرامن احتجاج کیا ہے اور ہم پُرامن احتجاج پر یقین رکھتے ہیں۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہماری آواز حکومت تک پہنچے‘‘۔
حنیفہ نے مزید کہا’’ہم ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ ان مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جائے‘‘۔
کرگل سے تعلق رکھنے والے سیاست دان اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کے رکن سجاد کرگلی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ڈیلدان نامگیال اور سمانلا درجی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی کہ دیگر زیر حراست افراد کے خلاف تمام الزامات غیر مشروط طور پر واپس لیے جائیں۔
کرگلی نے کہا’’سونم وانگچک کے خلاف این ایس اے کی منسوخی ایک خوش آئند قدم ہے، تاہم ہمارے جائز حقوق کے لیے جدوجہد جاری رہے گی‘‘۔
وانگچک کو۲۶ستمبر۲۰۲۵کو حراست میں لیا گیا تھا، جو لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور اسے آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کے مطالبات کے سلسلے میں لیہہ میں ہونے والے احتجاج کے دو دن بعد عمل میں آئی تھی۔ان احتجاجی مظاہروں میں۲۲پولیس اہلکاروں سمیت۴۵ سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔










