نئی دہلی، 12 مارچ (یو این آئی) لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو ایوان میں بولنے سے روکنے پر جمعرات کو اپوزیشن نے زبردست ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی پانچ بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ ایوان میں "ضمنی مطالبات زر کے دوسرے بیچ” پر بحث روک کر اسپیکر اوم برلا نے مسٹر راہل گاندھی کا ان کے دیے گئے نوٹس پر بولنے کے لیے نام لیا۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ "مغربی ایشیا میں جنگ چھڑی ہے۔ اس میں امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ چل رہی ہے۔ اس جنگ کے بہت بڑے نتائج ہوں گے۔ دنیا کا 20 فیصد تیل آبنائے ہرمز سے آتا ہے لیکن اسے بند کر دیا گیا ہے۔ اس کا بہت برا اثر ہوگا خاص طور پر ہم پر، کیونکہ ہمارے تیل اور قدرتی گیس کا ایک بڑا حصہ اسی علاقے سے ہو کر آتا ہے۔ ابھی تو تکلیف کی شروعات ہوئی ہے۔ ریستوراں بند ہو رہے ہیں، ایل پی جی کے تعلق سے گھبراہٹ ہے اور سڑک کنارے خوانچہ فروش متاثر ہو رہے ہیں۔”
انہوں نے کہاکہ "کسی بھی ملک کی بنیاد اس کی توانائی کی حفاظت ہوتی ہے۔ اگر امریکہ یہ طے کرے کہ ہم روس سے گیس یا تیل خرید سکتے ہیں یا نہیں، تو یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ میں سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ یہ پہیلی کیا ہے اور یہ کسی معاہدے سے جڑی لگتی ہے۔ وزیرِ تیل خود کہہ چکے ہیں کہ وہ ایپسٹین کے دوست ہیں۔”
اس کے بعد ایوان میں ہنگامہ شروع ہو گیا۔ اسپیکر اوم برلا نے مسٹر گاندھی کو ٹوکا کہ ‘جس موضوع پر نوٹس دیا ہے اس پر بولیں۔ اس (دوسرے موضوع) پر بولنا ہے تو نوٹس دیں۔’ اتنا کہتے ہی اپوزیشن کے ارکانِ پارلیمنٹ ہنگامہ کرنے لگے۔ مسٹر برلا نے مسٹر پوری سے بولنے کے لئے کہا۔ مسٹر پوری نے جیسے ہی بولنا شروع کیا ‘ایپسٹین-ایپسٹین’ کے نعرے لگے۔ ہنگامے اور نعرے بازی کے درمیان مسٹر پوری نے اپنا بیان مکمل کیا۔
ہنگامہ کرنے والے ارکان سے مسٹر برلا نے کہا کہ جس موضوع پر نوٹس دیا گیا اس پر بولنے کا موقع دیا۔ اپوزیشن لیڈر کا بغیر نوٹس کے کسی موضوع پر بولنا قوانین کے خلاف ہے۔ یہ طریقہ صحیح نہیں ہے کہ جس موضوع پر نوٹس دیا اس پر نہ بولیں۔ پارلیمنٹ قواعد و ضوابط سے چلے گی، کسی کو خصوصی اختیار حاصل نہیں ہے۔ فائننس بل بیچ میں روک کر اپوزیشن لیڈر کو موقع دیا لیکن اس طرح کا رویہ مناسب نہیں ہے۔ ہنگامے کے دوران اسپیکر کرسی سے اٹھ کر چلے گئے، جس کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر جگدمبیکا پال نے ارکان سے اپنی اپنی نشستوں پر جانے کی درخواست کی۔
اس دوران بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے کانگریس پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ ‘بھارت جوڑو یاترا’ کے لیے سوروس نے پیسہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے پارلیمنٹ کو پکنک منانے کی جگہ میں بدل دیا ہے۔ اسپیکر نے رولنگ دی ہے کہ مکر دوار پر کوئی احتجاج نہیں ہوگا لیکن کانگریس پارٹی مکر دوار پر گیس کی قلت کے خلاف احتجاج کر رہی ہے اور ان کی پارٹی کے لیڈر وہیں چائے ناشتہ کر رہے ہیں۔ اس کے خلاف مسٹر گاندھی پر کارروائی ہونی چاہیے۔
مسٹر دوبے کے الزام پر ہنگامہ مزید تیز ہو گیا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی پانچ بجے تک ملتوی کر دی گئی۔










