، تضادات کی سماعت کے لیے ‘اپیلٹ ٹربیونلز’ بنائے جائیں گے
نئی دہلی، 10 مارچ (یواین آئی) سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل سے خارج لوگوں کی شکایات سننے کے لیے ایک ‘اپیلٹ ٹریبونل’ کی تشکیل کا حکم دیا ہے۔ یہ ٹربیونلز سابق چیف جسٹس اور ہائی کورٹس کے سابق ججوں پر مشتمل ہوں گے۔
ایک آزاد اپیلی میکانزم کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے منگل کو کہا کہ کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کچھ سابق چیف جسٹس اور دو یا تین سابق ججوں (کلکتہ ہائی کورٹ یا پڑوسی ریاستوں کو ترجیح دیتے ہوئے) کے نام تجویز کر سکتے ہیں۔ ناموں کو حتمی شکل دینے کے بعد الیکشن کمیشن انہیں اپیلٹ ٹریبونل کے طور پر نوٹیفائڈ کرے گا۔ اس کے بعد وہ ایس آئی آر کے عمل سے پیدا ہونے والی اپیلوں کی سماعت کریں گے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جیسے ہی چیف جسٹس ضمنی فہرستوں کی اشاعت کے حوالے سے مناسب سفارش کریں، الیکشن کمیشن اس پر فوری ایکشن لے۔
قبل ازیں، ریاستی حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان جاری کشمکش کی روشنی میں سپریم کورٹ نے ایس آئی آر کے دعووں کو سنبھالنے کے لیے مغربی بنگال اور پڑوسی ریاستوں سے عدالتی افسران کی تعیناتی کی ہدایت دی تھی۔ مغربی بنگال حکومت اور الیکشن کمیشن کو بھی سختی سے ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ریاست میں ووٹر لسٹوں کی جاری خصوصی گہری نظر ثانی میں مصروف عدالتی افسران کو تمام ضروری سامان اور سہولیات فراہم کریں۔ اس حکم نامے کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت اور انصاف پسندی کو یقینی بنانا ہے تاکہ کسی بھی اہل شہری کے جمہوری حقوق متاثر نہ ہوں۔










