نئی دہلی، 2 مارچ (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ یورینیم کی فراہمی اور ’اسمال ماڈیولر ری ایکٹر‘ (ایس ایم آر) تعاون سے متعلق جو معاہدہ مودی حکومت نے کینیڈا کے ساتھ کیا ہے، اسی نوعیت کے 2008 میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اُس وقت سخت مخالفت کی تھی۔
کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے پیر کے روز ایک بیان میں بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نے 2008 میں امریکہ کے ساتھ سول نیوکلیئر ڈیل کی تھی، تو بی جے پی نے اس کی پرزور مخالفت کی تھی۔ لیکن آج بی جے پی کی قیادت والی حکومت اسی طرح کے معاہدے پر کینیڈا کے ساتھ دستخط کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2008 میں ہونے والے معاہدے کی بدولت ہی آج کینیڈا کے ساتھ جوہری تعاون کا معاہدہ ممکن ہوا ہے۔
ہندوستان اور کینیڈا نے یورینیم کی فراہمی اور چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کی تعمیر میں تعاون کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی کمپنی ’‘جی ای‘ کی جانب سے تارا پور میں ہندوستان کے پہلے تجارتی جوہری ری ایکٹر کی فراہمی کے بعد، کینیڈا کلپکم اور دیگر مقامات پر ’ہیوی واٹر ری ایکٹرز‘ نصب کرنے میں ہندوستان کی مدد کر رہا تھا۔ تاہم، 18 مئی 1974 کو پوکھرن میں ہونے والے پرامن ایٹمی دھماکے کے بعد یہ امداد روک دی گئی تھی۔ ان ری ایکٹرز کو دراصل کینیڈا ڈیوٹیریم یورینیم ری ایکٹرز کہا جاتا تھا۔
مسٹر جے رام رمیش نے مزید کہا کہ ’’کینیڈا اور ہندوستان کے درمیان آج جو معاہدہ ہوا ہے، وہ صرف اکتوبر 2008 میں ہونے والے ہندوستان-امریکہ جوہری معاہدے کی وجہ سے ممکن ہو پایا ہے۔ اس وقت یہ معاہدہ مکمل طور پر ڈاکٹر منموہن سنگھ کے اصرار اور ثابت قدمی کی وجہ سے ہوا تھا، جبکہ اس وقت بی جے پی نے اس کی کڑی مخالفت کی تھی۔‘‘
پارٹی نے کہا کہ یورینیم کی سپلائی کے ساتھ ساتھ ایس ایم آر ٹیکنالوجی میں تعاون پر اتفاق ہوا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ معاہدہ ہندوستان کی توانائی کی حفاظت اور صاف توانائی کے اہداف کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ کانگریس نے زور دے کر کہا کہ یہ پیش رفت اس بات کی مثال ہے کہ 2008 کا جوہری معاہدہ ہندوستان کے طویل مدتی اسٹریٹجک اور توانائی کے مفادات کے لیے کتنا فیصلہ کن تھا۔










