یقین کریں کہ بھیک مانگنا آسان نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے ۔ یہ ایک فن ہے ‘ ایسا فن جس کا ہر کوئی بھکاری ماہر نہیں ہو سکتا ہے ……. بالکل بھی نہیں ہو سکتا ہے ۔ اس فن میں جتنی مہارت ‘ اتنی زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کی ضمانت بھی ہے ۔لیکن جیسا کہ ہم نے کہا کہ اس میں ہر ایک ماہر ہو ‘ یہ ضروری نہیں کہ ……. کہ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے ‘ بالکل بھی نہیں ۔ ماہ رحمت اپنے پورے جو بن پر ہے …….یہ کمانے کا بھی مہینہ ہے ‘ کوئی اس میں نیکیاں کمانے ……. زیادہ نیکیاں کمانےکا ہدف طے کرتا ہے تو کوئی روپے پیسے ۔اپنے بھکاری حضرات کیلئے بھی یہ مہینہ سچ میں کمانے کا مہینہ ہے کہ اس میں بھکاریوں کی آمدنی میں سچ میں اضافہ ہو تا ہے …….اُن کی بھی جو بھیک مانگنے کا فن نہیں جانتے ہیں یا اس میں زیادہ مہارت نہیں رکھتے ہیں ۔ ایک بھکاری سیدھا گھر کے اندر گھس گیا اور اس دراندازی پر پہلے تو معذرت کی لیکن جلد ہی مدعے پر آگیا اور سوال کیا ……. تقاضہ کیا ‘ ماہ رحمت کا واسطہ بھی دیا کہ اس کے پاس کھانے پینے کیلئے کچھ نہیں ہے ……. اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور کہا کہ اس کے پاس بس یہی ایک سو روپے کا ایک نوٹ ہے ‘ جس سے وہ اپنے بچوں کی کفالت نہیں کر سکتا ہے ……. بالکل بھی نہیں کر سکتا ہے ۔ اس نے جیب سے ایک سو روپے کا نوٹ نکالا تاکہ یقین دلا سکے کہ اس کے پاس واقعی میں ایک سو روپے کا ہی نوٹ ہے ……. لیکن اسے اس کی نا تجربہ کاری کہیں یا کچھ اور کہ ایک سو روپےنکالنے کے دوران اس کی جیب سے پانچ سو کے دو نوٹ نیچے گر گئے …….زمین پر گر گئے ۔بھکاری نے بڑے اطمینان سے پانچ سو روپے کے یہ دو نوٹ اٹھائے اور……. کسی شرمندگی یا گھبراہٹ کے بغیر اطمینان بھرے لہجے میں کہا :صاحب ! مہنگائی ہے ‘ مہنگائی کے اس دور میں ہزاروں کیا لاکھوں روپے بھی کم پڑ جاتےہیں ……. اور یہ کہتے ہو ئے وہ چل دیا ۔ اس کے جانے کے بعد ہم اب بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا یہ بھکاری بھیک مانگنے میں ماہر تھا یا نو سکھیا ؟سو روپے نکالنے کے ودران اس کا جھوٹ پکڑا گیا ……. لیکن مہنگائی کا رونا رو کر اس نے اس جھوٹ کو کچھ اس طرح سنبھالا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا اور …….اور چلتا بنا ۔ ہے نا؟




