تو کیا صاحب جموںکشمیر کا ریاستی درجہ بحال …….جلد بحال ہونے جارہا ہے ؟ جناب یہ ایسا سوال ہے جس میں ہماری کوئی دلچسپی نہیں ہے ……. اور بالکل بھی نہیں ہے ۔ ہم تو صاحب سمجھتے ہیں کہ اس سوال کے کوئی معنی ہی نہیں ہیں ‘ اس لئے ہم اس پر زیادہ بات نہیں کرتے ہیں ……. بالکل بھی نہیں کرتے ہیں ۔ یقین کریں کہ ہم آج بھی اس کا ذکر نہیں چھیڑ دیتے لیکن ……. لیکن کہنے والوں کاکہنا ہے کہ اپنے مرکزی وزیر قانون ‘شریمان میگھوال جی نے کہا ہے……. وہ بھی کشمیرمیںکہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ جموں کشمیر کا ریاستی درجہ جلد بحال ہو جائے گا اور اس ضمن میں لوگوں …….جموںکشمیر کے لوگوں کو جلد خبر ملے گی ۔ اب یہ جناب ٹھہرے مرکزی وزیر ……. وہ بھی قانون اور انصاف کے وزیر اور اگر واقعی ایسا ہونے والا ہے تو انہیں خبر ہو گی …….اس لئے خبر ہو گی کہ اس ضمن میں جو آئین سازی کرنی ہو گی اس میں ان کی وزارت کا بھی عمل دخل ہوگا اور سو فیصد ہوگا …….اس لئے اگر شریمان میگھوال جی ایسا کہہ رہے ہیں تو ممکن ہے کہ انہیں کچھ معلوم ہو گا ……. ہم اور آپ سے زیادہ ہی معلومات ہوں گی اور ان معلومات کی بنا پر ہی یہ جناب ایسا کہہ رہے ہیں …….ورنہ اب تک کئی وزرا اور لیڈر جموںکشمیر آئے اور ریاستی درجے کی جلد بحالی کی نوید سنائی لیکن ……. لیکن پھر کچھ نہیں ہوا ۔ اور اگر کچھ نہیں ہوا تو کم از کم ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے …….اور اس لئے نہیں ہے کیونکہ ہمارا جاننا اور ماننا ہے کہ ریاستی درجہ ضرور بحال ہو گا ‘ اس میں دو رائے نہیں ‘ کوئی شک و شبہ نہیں ……. لیکن اپنے وقت پر بحال ہو گا …….اس سے آگے اور نہ پیچھے …….ایک دن بھی آگے پیچھے اور نہ پیچھے ۔اس لئے صاحب کون کیا کہتا ہے ‘ کب کہتا ہے اور کہاں کہتا ہے ……. دہلی میں کہتا ہے یا سرینگر میں کہتا ہے ……. صاحب اس کے کوئی معنی نہیں ہیں ……. بالکل بھی نہیں ہیں …….معنی اگر ہیں تو صرف اس ایک بات کے کہ وہ وقت کب آئے گا ……. وہ وقت جب جموں کشمیر کا ریاستی درجہ بحال ہوجائے گا ……. یا بحال ہونے کا وقت آئے گا ۔ بس یہی ایک بات اہم ہے …….سوفیصد اہم ۔ باقی سب گپ شپ ہے اور کچھ نہیں ……. بالکل بھی نہیں ۔ ہے نا؟




