سرینگر: وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز یہاں انڈیا اے آئی امپیکٹ ایکسپو کا افتتاح کیا جس میں۶۰۰سے زائد اعلیٰ صلاحیت کے حامل اسٹارٹ اپس اور۱۳ ممالک کے پویلین شامل ہیں جو اے آئی ایکو سسٹم میں بین الاقوامی تعاون کو پیش کرتے ہیں۔
مودی نے ایکسپو میں شریک اسٹارٹ اپس سے بھی بات چیت کی۔
وزیر اعظم نے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا اور شرکت کرنے والی کمپنیوں کے نمائندوں سے گفتگو کی۔ وہ کمپنی نمائندوں سے سوالات کرتے نظر آئے تاکہ ان کی پیش کردہ ٹیکنالوجی کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
وزیر اعظم نے مختلف اسٹالز پر نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کئی منٹ گزارے۔
یہ ایکسپو عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں، اسٹارٹ اپس، اکیڈمیا اور تحقیقی اداروں، مرکزی و ریاستی حکومتوں اور بین الاقوامی شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے۔
وزیر اعظم نے صحت کی دیکھ بھال ، تعلیم ، زراعت ، حکمرانی اور صنعت کاری سمیت متنوع شعبوں میں اے آئی کے تبدیلی لانے والے رول پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سمٹ میں ہونے والی بات چیت اختراع ، تعاون اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال پر عالمی گفتگو کو تقویت بخشے گی ، جو ایک ایسے مستقبل کی تشکیل کرے گی جو ترقی پسند، اختراعی اور مواقع پر مبنی ہو ۔
وزیر اعظم مودی نے عالمی اے آئی تبدیلی میں ہندوستان کی قیادت پر زور دیا ، جو اس کے۱۴۰ کروڑ لوگوں کی طاقت ، مضبوط ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر ، متحرک اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم اور جدید ترین تحقیق سے تقویت یافتہ ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت میں ہندوستان کی پیش رفت خواہشات اور ذمہ داری دونوں کی عکاسی کرتی ہے ، جس سے ملک تکنیکی ترقی میں سب سے آگے ہے ۔
مودی نے ایکس پر ایک سلسلہ وار پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے کہا ’’اے آئی پربات چیت کرنے کے لیے دنیا کو ایک جگہ یکجا کیا جارہا ہے!‘‘
آج سے دہلی کے بھارت منڈپم میں ہندوستان اے آئی امپیکٹ سمٹ کی میزبانی کر رہا ہے ۔ میں اس سمٹ کے لیے دنیا بھر کے عالمی رہنماؤں ، صنعت کے قائدین ، اختراع کاروں ، پالیسی سازوں ، محققین اور ٹیک کے شوقین افراد کا گرمجوشی سے خیر مقدم کرتا ہوں ۔ سمٹ کا موضوع سروجن ہتائے ، سروجن سکھائے یعنی سب کی فلاح و بہبود ، سب لی خوشی ہے ، جو انسان پر مرکوز ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے ۔
’’اے آئی آج صحت کی دیکھ بھال ، تعلیم ، زراعت ، حکمرانی اور صنعت کاری سمیت کئی شعبوں میں تبدیلی لا رہا ہے ۔ اے آئی امپیکٹ سمٹ اے آئی کے متنوع پہلوؤں ، جیسے اختراع ، تعاون ، ذمہ دارانہ استعمال اوردیگرموضوعات پر عالمی گفتگو کو تقویت بخشے گا ۔ مجھے یقین ہے کہ سمٹ کے نتائج ایک ایسے مستقبل کی تشکیل میں مدد کریں گے جو ترقی پسند ، اختراعی اور مواقع پر مبنی ہو ‘‘۔
’’میں ہندوستان کے۱۴۰کروڑ لوگوں کا شکرگزار ہوں ، ہمارا ملک مصنوعی ذہانت کی تبدیلی میں صف اول میں ہے ۔ ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے سے لے کر ایک متحرک اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم اور جدید ترین تحقیق تک ، اے آئی میں ہماری پیش رفت عزائم اور ذمہ داری دونوں کی عکاسی کرتی ہے ۔‘‘
۷۰ہزار مربع میٹر سے زائد رقبے پر پھیلا اور۱۰میدانوں پر مشتمل یہ ایکسپو عالمی ٹیکنالوجی فرموں، اسٹارٹ اپس، اکیڈمیا اور تحقیقی اداروں، مرکزی وزارتوں، ریاستی حکومتوں اور بین الاقوامی شراکت داروں کو یکجا کرتا ہے۔
ایکسپو میں۱۳ممالک کے پویلین بھی شامل ہیں جو مصنوعی ذہانت کے نظام میں عالمی تعاون کو پیش کرتے ہیں۔ ان میں آسٹریلیا، جاپان، روس، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، سوئٹزرلینڈ، سربیا، ایسٹونیا، تاجکستان اور افریقہ کے پویلین شامل ہیں۔
ایکسپو میں۳۰۰سے زائد منتخب نمائشی پویلین اور براہ راست مظاہرے بھی شامل ہوں گے جو تین موضوعاتی دائروں انسان، سیارہ اور ترقی کے تحت ترتیب دیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ ایکسپو میں۶۰۰سے زائد اعلیٰ صلاحیت کے حامل اسٹارٹ اپس شامل ہیں، جن میں سے کئی عالمی سطح پر قابل اطلاق اور بڑے پیمانے پر آبادی کے لیے حل تیار کر رہے ہیں۔ یہ اسٹارٹ اپس ایسے عملی حل پیش کریں گے جو پہلے ہی حقیقی دنیا میں استعمال ہو رہے ہیں۔
دریں اثنا ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود انحصاری اور محفوظ ڈیجیٹل صلاحیت کے وژن کے مطابق خود کو ڈیٹا پر مبنی، اے آئی سے لیس فورس کے طور پر تیار کرنے کی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہندوستانی فوج نے پیر سے یہاں شروع ہونے والی ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ میں دوہرے استعمال والی اے آئی ٹیکنالوجیز کا بڑے پیمانے پر مظاہرہ کیا ہے۔
فوج نے کانفرنس میں مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایپلی کیشنز کی نمائش کی جن کا تعلیم، آفات کے بندوبست، سائبر سکیورٹی، ٹرانسپورٹ سکیورٹی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے تحفظ جیسے شعبوں میں وسیع تر دوہرا استعمال اور اہمیت ہے۔ کانفرنس میں پیش کی گئی فوج کی یہ کوششیں ایک محفوظ، نیٹ ورک سے لیس اور اے آئی کے حامل ایکو سسٹم کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہیں۔ ہر مقامی نظام دفاعی تیاریوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ شہری تحفظ، آفات سے نمٹنے کی صلاحیت، ڈیجیٹل سکیورٹی اور قوم کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ فوج نے جن ٹیکنالوجیز کی نمائش کی ہے ان میں ایک اے آئی سے لیس خودکار تشخیصی نظام کو کسی بھی ’لرننگ مینجمنٹ سسٹم‘ سے جوڑا جا سکتا ہے۔ یہ امتحان، جوابات کے تجزیے، نمبر دینے کے ساتھ ساتھ فیڈ بیک بھی دیتا ہے۔
سیم یو این ٹیکنالوجی جغرافیائی ذہانت، منظم رپورٹنگ اور اے آئی تجزیہ کو یکجا کرنے والا مقامی ویب پر مبنی پلیٹ فارم ہے جو مشن کی منصوبہ بندی، نگرانی، ہم آہنگی اور فوری ردعمل کے لیے حقیقی وقت میں صورتحال سے آگاہی فراہم کرتا ہے۔ یہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹرز اور اسمارٹ سٹی کنٹرول رومز کے لیے مفید ہے۔ ’ایکم‘ محفوظ، ماڈیولر، ایئر گیپڈ کلاؤڈ پلیٹ فارم ہے جو اے آئی چیٹ، دستاویز اور پریزنٹیشن، کثیر لسانی ترجمہ اور ملٹی میڈیا جنریشن بوٹس جیسی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ یہ مکمل ڈیٹا خودمختاری کو یقینی بناتا ہے۔
اے آئی پر مبنی فوجی موسمیاتی اور آفات کی پیش گوئی کا نظام ہندوستان کا پہلا ہائبرڈ فوجی موسمیاتی فیصلہ ساز معاون نظام ہے جو کثیر ایجنسی سائنسی اعداد و شمار اور اے آئی/ایم ایل ماڈلنگ کے ذریعے۳سے۷دن پہلے زمین کھسکنے، سیلاب اور برفانی تودوں کے تعلق سے پیش گوئی کرتا ہے۔ یہ آفات کے بندوبست کی اتھارٹیوں اور سرحدی علاقوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔
’اے آئی فیشل ریکگنیشن سسٹم‘ تصویر اور ویڈیو پر مبنی شناخت اور تصدیق کا نظام ہے جو حفاظتی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مددگار ہے۔ ’نبھ درشتی‘، موبائل سے لیس ٹیلی میٹری رپورٹنگ سسٹم ہے جو مقام، تصاویر اور وقت کے نشان زد مشاہدات کو اے آئی بیک اینڈ کے ذریعے حقیقی وقت میں ظاہر کرتا ہے۔ یہ آفات کی رپورٹنگ اور تلاش و بچاؤ کی مہمات میں معاون ہے۔ ڈرائیور تھکان کی شناخت کا نظام ایک پورٹیبل اے آئی آلہ ہے جو ڈرائیور میں سستی کی کیفیت کا حقیقی وقت میں پتہ لگا کر وارننگ دیتا ہے۔ گاڑیوں کی ٹریکنگ کا نظام جی پی ایس ٹیلی میٹری اور اے آئی تجزیہ پر مبنی فلیٹ مانیٹرنگ سسٹم ہے جو لاجسٹکس اور راستوں کی بہتری میں مددگار ہے۔
ڈیپ فیک ویڈیو شناخت کا نظام مصنوعی یا تبدیل شدہ میڈیا کی شناخت کرنے والا اے آئی سسٹم ہے جو غلط معلومات اور اطلاعاتی جنگ کا مقابلہ کرتا ہے۔ ’پرو ایکٹو موبائل سیکورٹی سسٹم‘اے آئی سے چلنے والا موبائل حفاظتی حل ہے جو غیر معمولی رویے، میلویئر اور مشتبہ ڈیٹا کی منتقلی کی شناخت کرتا ہے۔ مشین لرننگ پر مبنی ویب ایپلی کیشن فائر وال ایک اے آئی فائر وال ہے جو ایس کیو ایل انجکشن، کراس سائٹ اسکرپٹنگ، بوٹ حملوں اور دیگر سائبر خطرات کا حقیقی وقت میں پتہ لگا کر اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی حفاظت کرتا ہے۔










