جموں: جموں و کشمیر میں موذی مرض کینسر کے کیسز تشویشناک رفتار سے بڑھ رہے ہیں، جہاں سال۲۰۲۳میںدس ہزار۶۵۷اور۲۰۲۴ میں۱۱ہزار ۱۶۶ نئے مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔
یہ تفصیلات رکن اسمبلی پلوامہ وحید پرہ کی جانب سے بیماریوں کے علاج سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں حکومت نے ایوان میں پیش کی ہیں۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں سب سے زیادہ پائے جانے والے کینسر اقسام میں پَھپھڑوں، بریسٹ، منہ، سروائیکل، پروسٹیٹ، پانکریاٹک اور معدے کے کینسر شامل ہیں۔
حکام نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں کوئی ایسا غیر معمولی یا عوامی صحت کے لیے منفرد خطرہ رکھنے والا مرض رپورٹ نہیں ہوا، تاہم عام طور پر گیسٹرو اِنٹیسٹائنل اور دیگر مہلک کینسر کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جموں ڈویژن میں گزشتہ تین برسوں کے دوران مجموعی طور پر۶۸۰۴جبکہ کشمیر ڈویژن میں۲۵ہزار۶۲۱مریض سامنے آئے۔ ۲۰۲۲ سے۲۰۲۴کے مجموعی مریضوں میں مردوں اور عورتوں کی تعداد بھی تقریباً یکساں بتائی گئی ہے۔
حکومت نے بتایا کہ کینسر اور دیگر جان لیوا امراض کا علاج وادی اور جموں میں مختلف اعلیٰ طبی اداروں میں کیا جا رہا ہے، جن میں شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (سکمز) ، گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں، اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ جموں, صدر ہسپتال ، بون اینڈ جوانٹ ایس ایم جی ایس اور ڈسٹرکٹ ہسپتال شامل ہیں۔
ایوان کو مزید کہا گیا کہ سکمز صورہ میں پیٹ سکین سہولت دستیاب ہے، جبکہ جی ایم سی سری نگر کے لیے جدید پیٹ اسکین یونٹ کی خریداری کی منظوری دے دی گئی ہے جس پر قریب۱۶کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ جموں ڈویژن میں یہ سہولت اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ جموں میں میسر ہے، جبکہ نجی سطح پر بھی نارایانا سپر اسپیشلٹی ہسپتال ککریال (کٹرا) اور امریکن آنکولوجی انسٹی ٹیوٹ میں یہ سروس دستیاب ہے۔
حکومت نے آگاہ کیا کہ کینسر کی جلد تشخیص اور روک تھام کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات جاری ہیں، جن میں مختلف ٹیسٹوں کے ذریعے اسکریننگ، این پی سی ڈی سی ایس پروگرام، ریفرل سسٹم، عوامی بیداری مہمات، تعلیمی اداروں اور این جی اوز کے ساتھ اشتراک سے آگاہی پروگرام اور سانبا و کٹھوعہ میں ایمز وجے پورہ کے ساتھ مشترکہ کینسر اسکریننگ کیمپس شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں کینسر کے علاج کے لیے اس وقت صرف میڈیکل کالجز میں ہی سپیشلسٹ آنکولوجی ڈاکٹرز دستیاب ہیں، جبکہ ڈسٹرکٹ سطح پر ابتدائی اسکریننگ اور ریفرل سروس فراہم کی جاتی ہے۔
حکومت کے مطابق ٹرمینل امراض کے علاج، جدید سہولیات کی فراہمی اور جلد تشخیص کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل اقدامات جاری ہیں۔










