بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

فنڈنگ بحران :پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کی یونیورسٹی بند‘۸ہزارطلبہ متاثر

 حکومت کی جانب سے ملنے والی باقاعدہ گرانٹس کئی برسوں سے جمود کا شکار ‘طویل تعطل تعلیمی کیلنڈر کو نقصان پہنچا سکتا ہے :ماہرین

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-02-14
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
فنڈنگ بحران :پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کی یونیورسٹی بند‘۸ہزارطلبہ متاثر
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج

جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری

سرینگر: یہاں موصول ہونے والی رپورٹوں کے مطابق مظفرآباد میں یونیورسٹی آف ’آزاد جموں و کشمیر‘ میں اساتذہ اور ملازمین کی جانب سے غیر ادا شدہ تنخواہی اضافوں پر احتجاج کے بعد تدریسی اور انتظامی کام معطل کر دیا گیا ہے، جس سے تمام پانچ کیمپس بند ہو گئے اور۸ہزارسے زائد طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی۔
عملے کا کہنا ہے کہ انہیں گزشتہ آٹھ ماہ سے حکومت کی منظور شدہ تنخواہی اضافہ اور الاؤنسز موصول نہیں ہوئے، جن میں ایڈہاک ریلیف الاؤنس اور ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کے تحت ادائیگیاں شامل ہیں۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ اگرچہ سرکاری نوٹیفکیشن جاری کیے گئے تھے، لیکن یونیورسٹی کو ان پر عمل درآمد کے لیے درکار فنڈز کبھی موصول نہیں ہوئے، جس سے ملازمین اپنے قانونی واجبات سے محروم رہے۔
یونیورسٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹس کے مطابق یہ تعطل عارضی بدانتظامی کے بجائے ایک گہرے ساختیاتی مالی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔
اندرونی مالی تخمینوں کے مطابق مالی سال ۲۰۲۵۔۲۶ کے لیے مظفر آباد کی یونیورسٹی کی متوقع آمدنی تقریباً 1.85 ارب روپے ہے جبکہ اخراجات 2.52 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں، جس سے سالانہ خسارہ۶۷۰ملین روپے سے زیادہ بنتا ہے۔ جب سابقہ واجبات اور حالیہ تنخواہی اضافے شامل کیے جائیں تو فنڈنگ کا خلا ایک ارب روپے سے بڑھ جاتا ہے۔
یونیورسٹی کے کل اخراجات کا۸۵فیصد سے زیادہ لازمی مدات جیسے تنخواہوں اور پنشن سے وابستہ ہے۔ تنخواہیں تقریباً۶۳ فیصد اخراجات پر مشتمل ہیں جبکہ پنشن۲۲فیصد سے زیادہ ہے، جس سے لیبارٹریوں، انفراسٹرکچر کی مرمت اور تعلیمی ترقی کے لیے محدود فنڈز باقی رہتے ہیں۔
قبل ازیں ڈان اخبار نے رپورٹ کیا تھا کہ یونیورسٹی پر مالی دباؤ اس وقت بڑھ گیا جب اس کے سابقہ ملٹی کیمپس نظام کی تنظیم نو کی گئی۔ جب میرپور، کوٹلی اور راولا کوٹ کیمپس کو علیحدہ جامعات کا درجہ دیا گیا تو آمدنی پیدا کرنے والے اثاثے تقسیم ہو گئے، مگر پنشن اور ریٹائرمنٹ کی ذمہ داریاں بڑی حد تک’یونیورسٹی آف آزاد جموںکشمیر‘ کے پاس ہی رہیں۔ اس عدم توازن نے تقریباً۵۶۰ملین روپے سالانہ کے مستقل پنشن بوجھ میں اضافہ کیا۔
اسی دوران حکومت کی جانب سے ملنے والی باقاعدہ گرانٹس کئی برسوں سے تقریباً جمود کا شکار ہیں۔ گزشتہ سال ایک مرتبہ ملنے والی خصوصی گرانٹ نے عارضی ریلیف تو دیا مگر ساختیاتی خسارہ ختم نہ کر سکی۔ پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وفاقی معاونت جاری ہے، مگر تنخواہوں اور پنشن کے بڑھتے اخراجات کے باعث مجموعی بجٹ میں اس کا حصہ مؤثر طور پر کم ہوتا جا رہا ہے۔
پالیسی تبدیلیوں نے آمدنی کے ذرائع کو مزید کمزور کیا ہے۔ تعلیمی تجزیہ کاروں کے مطابق نجی بی ایس سی/بی ایس سی ؍اور ایم اے/ایم ایس سی پروگراموں کے خاتمے‘ جو کبھی فیس آمدنی کا بڑا ذریعہ تھے ‘سے یونیورسٹی کو سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ سرکاری کالجوں میں بی ایس پروگراموں کی توسیع نے داخلوں کو بھی منتقل کر دیا، جس سے ٹیوشن آمدنی کم ہوئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے کفایتی اقدامات متعارف کرائے ہیں جن میں نئی بھرتیوں پر پابندی، غیر تنخواہی اخراجات میں کمی اور توانائی بچت اقدامات شامل ہیں۔ تاہم حکام تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اقدامات طویل مدتی فنڈنگ خلا کو بند نہیں کر سکتے۔
تعلیمی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ طویل تعطل تعلیمی کیلنڈر کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور خطے میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو کمزور کر سکتا ہے۔ مذاکرات جاری رہنے کے دوران طلبہ اور والدین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران مقبوضہ جموںکشمیر میں سرکاری اعلیٰ تعلیمی نظام کے مالی ماڈل کی وسیع تر کمزوریوں کو اجاگر کرتا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’عوامی صحت پر سمجھوتہ نہیں ہوسکتا‘:باسی گوشت معاملے پر  اسمبلی اسپیکر کابیان

Next Post

’جموں کشمیر میںدو برسوں میں۲۱ہزار سے زائد کینسر کیسز رپورٹ‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج
اہم ترین

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج

2026-07-21
جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری
اہم ترین

جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری

2026-07-21
 بارش سے سرینگر کے کئی علاقے زیرِ آب‘ نکا س آب کا ناقص نظام پھر بے نقاب
اہم ترین

 بارش سے سرینگر کے کئی علاقے زیرِ آب‘ نکا س آب کا ناقص نظام پھر بے نقاب

2026-07-21
جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی
اہم ترین

جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی

2026-07-21
 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر
اہم ترین

 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر

2026-07-21
 موجودہ شکل میں سندھ   طاس معاہدہ دوبارہ نافذ   نہیں ہوگا:حکومتی ذرائع
اہم ترین

 موجودہ شکل میں سندھ  طاس معاہدہ دوبارہ نافذ  نہیں ہوگا:حکومتی ذرائع

2026-07-21
چنار بک فیسٹیول میں شبھانشو شکلا  نے خلائی سفر کے دلچسپ قصے سنائے
اہم ترین

چنار بک فیسٹیول میں شبھانشو شکلا نے خلائی سفر کے دلچسپ قصے سنائے

2026-07-21
سے ۵۱اگست تک جموں صوبے میں شدید بارشوں کا امکان خراب موسم کے باعث پونچھ میں دوسرے روز بھی اسکول بند رہے
اہم ترین

 شدید بارش، آندھی اور بجلی گرنے کے خدشات کے باعث بجلی کے کھمبوں، تاروں اور  ٹرانسفارمروںسے دور رہنے کی اپیل 

2026-07-21
Next Post
’جموں کشمیر میںدو برسوں میں۲۱ہزار سے زائد کینسر کیسز رپورٹ‘

’جموں کشمیر میںدو برسوں میں۲۱ہزار سے زائد کینسر کیسز رپورٹ‘

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.