سرینگر: یہاں موصول ہونے والی رپورٹوں کے مطابق مظفرآباد میں یونیورسٹی آف ’آزاد جموں و کشمیر‘ میں اساتذہ اور ملازمین کی جانب سے غیر ادا شدہ تنخواہی اضافوں پر احتجاج کے بعد تدریسی اور انتظامی کام معطل کر دیا گیا ہے، جس سے تمام پانچ کیمپس بند ہو گئے اور۸ہزارسے زائد طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی۔
عملے کا کہنا ہے کہ انہیں گزشتہ آٹھ ماہ سے حکومت کی منظور شدہ تنخواہی اضافہ اور الاؤنسز موصول نہیں ہوئے، جن میں ایڈہاک ریلیف الاؤنس اور ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کے تحت ادائیگیاں شامل ہیں۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ اگرچہ سرکاری نوٹیفکیشن جاری کیے گئے تھے، لیکن یونیورسٹی کو ان پر عمل درآمد کے لیے درکار فنڈز کبھی موصول نہیں ہوئے، جس سے ملازمین اپنے قانونی واجبات سے محروم رہے۔
یونیورسٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹس کے مطابق یہ تعطل عارضی بدانتظامی کے بجائے ایک گہرے ساختیاتی مالی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔
اندرونی مالی تخمینوں کے مطابق مالی سال ۲۰۲۵۔۲۶ کے لیے مظفر آباد کی یونیورسٹی کی متوقع آمدنی تقریباً 1.85 ارب روپے ہے جبکہ اخراجات 2.52 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں، جس سے سالانہ خسارہ۶۷۰ملین روپے سے زیادہ بنتا ہے۔ جب سابقہ واجبات اور حالیہ تنخواہی اضافے شامل کیے جائیں تو فنڈنگ کا خلا ایک ارب روپے سے بڑھ جاتا ہے۔
یونیورسٹی کے کل اخراجات کا۸۵فیصد سے زیادہ لازمی مدات جیسے تنخواہوں اور پنشن سے وابستہ ہے۔ تنخواہیں تقریباً۶۳ فیصد اخراجات پر مشتمل ہیں جبکہ پنشن۲۲فیصد سے زیادہ ہے، جس سے لیبارٹریوں، انفراسٹرکچر کی مرمت اور تعلیمی ترقی کے لیے محدود فنڈز باقی رہتے ہیں۔
قبل ازیں ڈان اخبار نے رپورٹ کیا تھا کہ یونیورسٹی پر مالی دباؤ اس وقت بڑھ گیا جب اس کے سابقہ ملٹی کیمپس نظام کی تنظیم نو کی گئی۔ جب میرپور، کوٹلی اور راولا کوٹ کیمپس کو علیحدہ جامعات کا درجہ دیا گیا تو آمدنی پیدا کرنے والے اثاثے تقسیم ہو گئے، مگر پنشن اور ریٹائرمنٹ کی ذمہ داریاں بڑی حد تک’یونیورسٹی آف آزاد جموںکشمیر‘ کے پاس ہی رہیں۔ اس عدم توازن نے تقریباً۵۶۰ملین روپے سالانہ کے مستقل پنشن بوجھ میں اضافہ کیا۔
اسی دوران حکومت کی جانب سے ملنے والی باقاعدہ گرانٹس کئی برسوں سے تقریباً جمود کا شکار ہیں۔ گزشتہ سال ایک مرتبہ ملنے والی خصوصی گرانٹ نے عارضی ریلیف تو دیا مگر ساختیاتی خسارہ ختم نہ کر سکی۔ پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وفاقی معاونت جاری ہے، مگر تنخواہوں اور پنشن کے بڑھتے اخراجات کے باعث مجموعی بجٹ میں اس کا حصہ مؤثر طور پر کم ہوتا جا رہا ہے۔
پالیسی تبدیلیوں نے آمدنی کے ذرائع کو مزید کمزور کیا ہے۔ تعلیمی تجزیہ کاروں کے مطابق نجی بی ایس سی/بی ایس سی ؍اور ایم اے/ایم ایس سی پروگراموں کے خاتمے‘ جو کبھی فیس آمدنی کا بڑا ذریعہ تھے ‘سے یونیورسٹی کو سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ سرکاری کالجوں میں بی ایس پروگراموں کی توسیع نے داخلوں کو بھی منتقل کر دیا، جس سے ٹیوشن آمدنی کم ہوئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے کفایتی اقدامات متعارف کرائے ہیں جن میں نئی بھرتیوں پر پابندی، غیر تنخواہی اخراجات میں کمی اور توانائی بچت اقدامات شامل ہیں۔ تاہم حکام تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اقدامات طویل مدتی فنڈنگ خلا کو بند نہیں کر سکتے۔
تعلیمی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ طویل تعطل تعلیمی کیلنڈر کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور خطے میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو کمزور کر سکتا ہے۔ مذاکرات جاری رہنے کے دوران طلبہ اور والدین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران مقبوضہ جموںکشمیر میں سرکاری اعلیٰ تعلیمی نظام کے مالی ماڈل کی وسیع تر کمزوریوں کو اجاگر کرتا ہے۔










