جموں: جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر عبد الرحیم راتھر نے جمعہ کو حکومت پر زور دیا کہ خوراک میں ملاوٹ کے خلاف قانونی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائے، جب کہ ارکان نے پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں باسی گوشت اور غیر معیاری پنیر کی بڑی مقدار ضبط ہونے پر تشویش ظاہر کی۔
نیشنل کانفرنس کے اراکین اسمبلی سیف اللہ میر، مبارک گل، پیرزادہ فاروق احمد شاہ اور حسنین مسعودی کے مشترکہ سوال کے جواب میں وزیر صحت سکینہ ایتو نے ایوان کو بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران دسمبر۲۰۲۵ تک جموں و کشمیر میں۱۶۷۶معائنوں کے دوران۱۲ہزار۱۸۳کلوگرام سے زائد باسی گوشت، جس کی مالیت۲۹لاکھ۱۹ ہزار روپے سے زیادہ تھی، تلف کیا گیا۔
اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ جموں خطے میں۷۶۶۵کلوگرام ملاوٹی پنیر، جس کی مالیت۱۶لاکھ۳۲ہزار روپے سے زائد تھی، ضبط کیا گیا۔
ایتو نے بتایا کہ گوشت اور گوشت کی مصنوعات کے۱۴۴جبکہ پنیر کے۱۷۳نمونے جموں و کشمیر کے اندر اور باہر فوڈ لیبارٹریوں میں تجزیے کے لیے بھیجے گئے۔انہوں نے کہا کہ گوشت اور گوشت کی مصنوعات کے تمام۱۴۴نمونوں کی رپورٹس موصول ہو چکی ہیں جن میں ایک غیر معیاری اور۱۷غیر محفوظ قرار پائے۔
اسی طرح۱۷۳میں سے۱۵۷پنیر کے نمونوں کی رپورٹس موصول ہوئیں جن میں۴۷غیر معیاری اور ایک غیر محفوظ قرار پایا۔
ایتو نے تسلیم کیا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں فوڈ ٹیسٹنگ کی دونوں لیبارٹریوں ایک سری نگر اور ایک جموں میں تکنیکی عملے کی کمی ہے، اور ہر ایک میں منظور شدہ۱۹اسامیوں کے مقابلے میں۱۱خالی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بھرتی قواعد کو حتمی شکل دینے کے بعد۲۲خالی اسامیوں کو بھرتی ایجنسیوں کے سپرد کیا جائے گا۔
وزیر نے کہا کہ خوراک میں ملاوٹ روکنے اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے محکمہ فوڈ سیفٹی نے نفاذی اقدامات تیز کر دیے ہیں جن میں خوراکی اداروں کے باقاعدہ معائنے، نامزد لیبارٹریوں کے ذریعے نمونوں کی جانچ اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی شامل ہے، جس میں لائسنس کی معطلی یا منسوخی، جرمانے اور مقدمہ چلانا شامل ہیں۔
وزیر نے کہا کہ سری نگر اور جموں سمیت مختلف اضلاع میں غیر محفوظ گوشت اور گوشت کی مصنوعات فروخت کرنے میں ملوث پائے جانے والے۱۸فوڈ بزنس آپریٹرز کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے اور زیادہ تر کیس زیر کارروائی ہیں۔
بنیادی سوال پر ضمنی سوال میں سی پی آئی (ایم) کے ایم ایل اے ایم وائی تاریگامی اور بی جے پی کے بلونت سنگھ منکوٹیا نے تجاویز پیش کیں اور نفاذی کارروائی، بین محکمہ جاتی رابطہ، قانونی پیروی اور احتیاطی اقدامات سے متعلق مزید تفصیلات طلب کیں تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
جب وزیر نے کئی خامیوں کا اعتراف کیا جن میں سخت کارروائی کے نفاذ میں پولیس پر حکومت کے اختیار کی کمی بھی شامل تھی تو اسپیکر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ سیفٹی اور خوراکی مصنوعات سے متعلق قانون میں ضروری ترامیم لا کر خلا پر کیا جائے۔
راتھر نے کہا’’اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ موجودہ دفعات اس رجحان کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں تو حکومت ایکٹ میں ترمیم کے لیے بل کیوں پیش نہیں کرتی؟ حکومت کو چاہیے اسے ترمیم کرے، فوڈ سیفٹی محکمہ کے اختیارات بڑھائے اور انہیں مؤثر بنائے تاکہ اس سلسلے میں کوئی شکایت نہ رہے‘‘ اور زور دیا کہ عوامی صحت پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
میر نے اس معاملے کو ’جموں و کشمیر کے عوام کے لیے انتہائی اہم‘قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ ایسی کھیپیں ٹول پوسٹوں سے کیسے گزر گئیں اور پولیس، فوڈ سیفٹی حکام اور میونسپل اداروں کے کردار پر وضاحت مانگی۔
شاہ، مسعودی اور گل نے بھی پالیسی نفاذ میں نظامی کمزوریوں پر تشویش ظاہر کی، عملے کی کمی، مقامی ٹیسٹنگ انفراسٹرکچر کی ناکافی حالت اور بیرونی لیبارٹریوں سے رپورٹس میں تاخیر کو اجاگر کیا۔انہوں نے سخت تعزیری دفعات بشمول ملاوٹ میں ملوث کاروباروں کو سیل کرنے کا مطالبہ کیا۔
تاریگامی نے اختیارات کی واضح تقسیم اور پولیس کے ساتھ مضبوط رابطہ کاری پر زور دیتے ہوئے خصوصی نفاذی نظام پر غور کی تجویز دی۔
منکوٹیا نے حکومت سے کہا کہ نجی رکن کے بل کا انتظار کرنے کے بجائے موجودہ اسمبلی اجلاس میں ہی ترامیم لائی جائیں۔










