جموں: جموں کشمیر کے ضلع پونچھ کے اگلے علاقوں کے اپنے دورے کے دوران آج چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اوپیندر دویدی نے علاقے میں تعینات دستوں کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا اور اگلی چوکیوں پر اہلکاروں سے ملاقات کی۔ انہوں نے جوانوں کے بلند حوصلے اور آپریشنل تیاری کی ستائش کی۔
دورے کے دوران آرمی چیف پونچھ کے گاؤں کمسار بھی گئے جہاں انہوں نے۱۸جموں و کشمیر رائفلز کے صوبیدار (اعزازی کیپٹن) پرویز احمد (ریٹائرڈ) سے ملاقات کی۔ جنرل دویدی اور اس تجربہ کار جے سی او نے متعدد مواقع پر ایک ساتھ خدمات انجام دی تھیں، جن میں وہ عرصہ بھی شامل ہے جب آرمی چیف نے۲۰۰ سے۲۰۰۵کے درمیان بٹالین کی کمان سنبھالی تھی۔
صوبیدار پرویز احمد مارچ۱۹۹۱میں بھارتی فوج میں شامل ہوئے اور۲۸سال کی خدمات کے بعد مارچ۲۰۱۹میں ریٹائر ہوئے۔ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے آپریشنل اور تربیتی دونوں نوعیت کی ذمہ داریاں وسیع پیمانے پر انجام دیں، جن میں تربیتی اداروں میں انسٹرکٹر کے طور پر تقرریاں بھی شامل تھیں۔ انہوں نے مختلف خصوصی کورسز میں نمایاں کارکردگی دکھائی اور اپنی خدمات پر اعزازات حاصل کیے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی صوبیدار پرویز احمد مقامی برادری کے ساتھ سرگرم رہے۔ آپریشن سندور کے دوران انہوں نے علاقے سے واقفیت اور یونٹ کے ساتھ طویل وابستگی کی بنیاد پر لاجسٹک مدد اور مقامی رابطہ کاری میں تعینات دستوں کی معاونت کر کے اہم کردار ادا کیا۔ کشیدگی کے دوران ذاتی خطرات مول لے کر کی گئی ان کی کوششوں پر فوج نے انہیں سراہا۔
سماج میں مسلسل خدمات اور آپریشن سندور کے دوران تعاون کے اعتراف میں آرمی چیف نے دورے کے موقع پر انہیں ویٹرن اچیور ایوارڈ سے نوازا۔ اس موقع پر اہل خانہ، سابق فوجی اور مقامی شہری موجود تھے۔
دورے کے دوران علاقے کے دیگر سابق فوجیوں اور شہریوں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، نے بھی آرمی چیف سے ملاقات کی۔ یہ ملاقاتیں غیر رسمی نوعیت کی تھیں اور جموں و کشمیر کے سرحدی اضلاع میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں، سابق فوجیوں اور شہریوں کے درمیان قریبی تعلق کی عکاسی کرتی تھیں۔
علاقے کے رہائشیوں کے لیے، جہاں فوجی خدمت روزمرہ زندگی سے گہرا تعلق رکھتی ہے، یہ دورہ بھارتی فوج، اس کے سابق اہلکاروں اور مقامی برادریوں کے درمیان مسلسل ربط کو اجاگر کرتا ہے۔










