سرینگر: جموں و کشمیر حکومت نے ہفتہ کو کہا کہ یونین ٹیریٹری میں تمام سطحوں پر اسکولوں تک رسائی۹۸فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جو قومی تعلیمی پالیسی(این ای پی)۲۰۲۰کے مطابق تعلیمی شعبے میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
قانون ساز اسمبلی میں تحریری جواب میں حکومت نے کہا کہ مساوات، شمولیت اور معیار پر توجہ کے باعث داخلوں میں اضافہ، ڈراپ آؤٹ شرح میں کمی اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئی ہے۔
حکومت کے مطابق جموں و کشمیر میں شرح خواندگی۱۹۶۱میں 11.03 فیصد سے بڑھ کر۲۰۱۱میں 68.74 فیصد ہو گئی جبکہ اسکولی داخلوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یونین ٹیریٹری میں۲۴ہزار۱۳۷؍اسکول ہیں جن میں۱۸ہزار۷۲۴ سرکاری اور۵ہزار۴۱۳دیگر انتظامیہ کے زیرِ انتظام ہیں۔
جواب میں بتایا گیا کہ تعلیمی سال۲۰۲۴۔۲۵کے دوران پری پرائمری سے بارہویں جماعت تک طلبہ کی مجموعی تعداد 26.17 لاکھ سے زائد رہی۔
صنفی شمولیت پر روشنی ڈالتے ہوئے حکومت نے کہا کہ لڑکیوں کا مجموعی انرولمنٹ تناسب (GER) کئی سطحوں پر اوسط سے زیادہ رہا۔۲۰۲۴۔۲۰۲۵میں پرائمری سطح پر لڑکیوں کا انرولمنٹ تناسب 114.5، اپر پرائمری میں 80.0 اور سیکنڈری میں 67.5 رہا، جو بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ جیسے اقدامات کے اثرات ظاہر کرتا ہے۔
حکومت کے مطابق ڈراپ آؤٹ شرح میں نمایاں کمی آئی ہے؛ پرائمری میں 1.5 فیصد، اپر پرائمری میں 3.2 فیصد اور سیکنڈری میں 12.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ اسکولوں تک رسائی تمام سطحوں پر۹۸فیصد سے زیادہ جبکہ گراس ایکسس ریشو بھی۹۸فیصد سے اوپر ہے۔ طلبہ کے اگلی جماعتوں میں منتقلی کی شرح میں بھی بہتری آئی ہے؛ پرائمری سے اپر پرائمری 94.8 فیصد، ایلیمنٹری سے سیکنڈری 90.7 فیصد اور سیکنڈری سے ہائیر سیکنڈری 72.9 فیصد رہی۔
بنیادی سہولیات میں اضافہ ہوا ہے؛ 90.84 فیصد اسکولوں میں طالبات کے بیت الخلا، 88.49 فیصد میں طلبہ کے بیت الخلا، 75.10 فیصد میں لائبریری، 91.44 فیصد میں بجلی، 39 فیصد میں کمپیوٹر اور 49 فیصد میں انٹرنیٹ دستیاب ہے، تاہم ڈیجیٹل ڈھانچہ اب بھی توجہ کا مرکز ہے۔
حکومت نے کہا کہ سمگرہ شکشا ابھیان، پی ایم پوشن، پی ایم شری اور اُللّاس جیسی اسکیموں نے تعلیمی نظام مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس وقت تقریباً 1.85 لاکھ بچے سرکاری پری پرائمری کلاسوں میں زیر تعلیم ہیں جبکہ 1,350 اسکولوں میں ووکیشنل تعلیم شروع کی گئی جس سے تقریباً 1.54 لاکھ طلبہ مستفید ہو رہے ہیں۔
نگرانی اور تعلیمی نتائج بہتر بنانے کے لیے ودیا سمیक्षा کیندر قائم کیا گیا ہے جس میں اے آئی چیٹ بوٹس اور ڈیجیٹل اسٹوڈیوز شامل ہیں۔ 3,008 آئی سی ٹی اور کمپیوٹر اسسٹڈ لرننگ لیبز قائم کی جا چکی ہیں جبکہ مزید 2,036 آئی سی ٹی لیبز اور 4,272 اسمارٹ کلاس رومز زیر تعمیر ہیں۔
بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے تحت۲۰۲۴۔۲۰۲۵میں۱۷۶۶؍اسکولی کام مکمل کیے گئے جبکہ نومبر۲۰۲۵۔۲۰۲۶تک مزید۹۴۶کام مکمل ہوئے۔ کنڈرگارٹن تعلیم کو۱۳ہزار۸۰۴آیا کی معاونت سے توسیع دی گئی۔
حکومت نے مزید بتایا کہ پی ایم شری اسکیم کے تحت۳۹۶؍اسکولوں کی اپ گریڈیشن منظور کی گئی اور قومی تعلیمی پالیسی۲۰۲۰کے مطابق وسائل کے بہتر استعمال کے لیے۷۴۶؍اسکول کمپلیکس قائم کیے گئے ہیں۔
تعلیم تک مزید رسائی بڑھانے کے لیے حکومت جے کے ای پاتھشالا کے نام سے مفت ٹی وی چینل شروع کر رہی ہے جو مقامی زبانوں میں نصابی اسباق نشر کرے گا، جس سے خاص طور پر دور دراز علاقوں کے طلبہ کو فائدہ ہوگا۔










