لوگ خواہ مخواہ شور کرتے ہیں ‘ کیوں کرتے ہیں یہ بات ہماری اس نا سمجھ ‘ سمجھ میں نہیں آ رہی اور اس لئے نہیں آ رہی ہے کہ جو شور کررہے ہیں …….وزیرا علیٰ عمرعبداللہ کے پیش کئے گئے بجٹ پر کررہے ہیں ‘ کیا ان کی سمجھ……. نا سمجھ ‘ سمجھ میں بجٹ کا پیچیدہ معاملہ آگیا جو وہ اتنا شو ر کررہے ہیں کہ بجٹ ایسا ہونا چاہئے یا ویسا ہو نا چاہئے …….اور یہ بھی سچ ہے کہ بات صرف اس بجٹ پر شور کرنے ‘ اس کی تنقید کرنے والوں کی ہی نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے کہ با ت ان کی بھی ہے جو اس بجٹ کو مثالی اور متوازن قرار دے رہے ہیں ……. بات ان کی بھی ہے کہ آپ ان سے بھی پوچھ ہی لیجئے کہ کیا وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ کہہ سکتے ہیں یا یہ کہنے کو تیار ہیں کہ ان کی نا سمجھ ‘ سمجھ میں بجٹ آگیا اور اسی کے مطابق وہ اس پر اپنا ردعمل بھی ظاہر کررہے ہیں ……. اللہ میاں کی قسم کوئی ایک بھی ایسا کرنے کو تیار نہیں ہو گا اور ……. اور اس لئے نہیں ہو گا کیونکہ یہ جو بجٹ ہے ‘ یہ نمبروں کا کھیل ہے ‘ ہندسوں کا گورکھ دھندہ ہے اور کچھ نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے اور یہ ہر کسی کی سمجھ میں آجائے ‘ ایسا ہو نہیں سکتاہے ‘ ایسا نہیں ہو تا ہے ……. لیکن صاحب سیاستدانوں کو تو سیاست کرنی ہے‘ اگر یہ سیاست نہیں کریں گے تو کیا کریں گے کہ ……. کہ یہی ان کا کام دھندہ ہے …….اسی لئے کوئی اس بجٹ کو خبراب‘ مایوکس کن ‘بنجر قرار دے رہا ہے تو کسی کی نظر میں یہ ایک مثالی اور متوازن بجٹ ہے……. جبکہ ایسا ویسا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بجٹ بنجر ہے اور نہ مثالی ہے …….یہ بجٹ ہے …….ہندسوں کا پھیر بدل ہے ‘ نمبروں کا کھیل ہے اور کچھ نہیں ہے …….اس لئے نہیں ہے کیونکہ اسے بنانے والے بھی یہ خوب جانتے ہیں کہ بجٹ ……. جموں کشمیر کا بجٹ …….اصل بجٹ کہاں سے آتا ہے اور جہاں سے آتا ہے ‘ اہم یہ ہے کہ وہاں سے کیا آئے ‘ کیسا آئے …….اور کتنا آئے یہی ایک بات ‘ یہی ایک حقیقت جموںکشمیر کے بجٹ کی شکل وصورت طے کرتی ہے …….اور کوئی بات نہیں ‘ بالکل بھی نہیں ۔شور کرنے والے شور کریں کہ ان کے شور کرنے سے کچھ نہیں ہو گا اور اس لئے نہیں ہو گا کہ ان کی نا سمجھ ‘ سمجھ میں یہ بات نہیں آئے گی …….بالکل بھی نہیں آئےگی کہ یہ جو بجٹ ہےیہ نمبروں کا کھیل ہے جو ان کی اور نہ ہماری نا سمجھ ‘ سمجھ نہیں آئے گا۔ ہے نا؟




