نئی دہلی، 3 فروری (یو این آئی) راجیہ سبھا میں منگل کو ملک کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے آل انڈیا ایجوکیشن سروس قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ وقفہ صفر کے دوران اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے گووند بھائی لال جی بھائی ڈھولکیا نے کہا کہ سول سروسز امتحان سے پورے ملک میں بہترین افسران مل رہے ہیں۔ اس کے پیش نظر ملک میں اچھے اساتذہ کی دستیابی کو بڑھانے کے لیے آل انڈیا ایجوکیشن سروس قائم کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام کو نئی بلندیوں پر لے جانے اور علم میں ہندوستان کو عالمی رہنما بنانے میں یہ سروس انتہائی اہم ثابت ہوگی۔ ممبر نے مزید کہا کہ یہ سروس ہندستان کو سال 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بنانے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔
بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے دیبایش سامنترے نے مطالبہ کیا کہ جب بھی صدرجمہوریہ، نائب صدر جمہوریہ یا وزیر اعظم اراکین پارلیمنٹ کے حلقہ میں کسی عوامی تقریب میں شرکت کے لیے جائیں تو اراکین کو بھی اس تقریب میں شرکت کے لیے مدعو کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں نائب صدرجمہوریہ کٹک کے ان کے حلقہ میں سبھاش چندر بوس کے مجسمے کی نقاب کشائی تقریب میں گئے تھے، لیکن ضلع مجسٹریٹ نے انہیں (ایم پی) کو اس تقریب میں مدعو نہیں کیا، جبکہ دیگر عوامی نمائندوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ راجیہ سبھا کی توہین ہے اوراس کے لیے کٹک کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو استحقاق کی خلاف ورزی کا نوٹس دیا جانا چاہئے۔
بی جے پی کے سکندر کمار نے ہماچل پردیش میں سابق فوجیوں کے لیے کینٹین کی سہولیات کی کمی کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ 3,000 سے زیادہ سابق فوجی ایک ہی کینٹین پر منحصر ہیں، جس میں روزانہ زیادہ بھیڑ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق فوجیوں کو کینٹین کی سہولیات تک رسائی کے لیے 30 سے 35 کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔
کانگریس کے رنجیت رنجن نے ہیلتھ انشورنس کمپنیوں کی من مانی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ سخت ضابطوں کے بغیر یہ کمپنیاں من مانی طور پر دعووں کو مسترد کر رہی ہیں۔ وہ دعوؤں میں تاخیر کے لیے متعدد دستاویزات کا مطالبہ کرتی ہیں اور تکنیکی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے دعووں کو مسترد کر رہی ہیں۔ انہوں نے انشورنس کمپنیوں کے لیے سخت رہنما اصولوں کا مطالبہ کیا۔
جے ڈی (یو) کے سنجے جھا نے سوشل میڈیا پر بچوں کو فحش مواد سے بچانے کے لیے سخت ضابطوں کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فون کا زیادہ استعمال بچوں کی آنکھوں پر بھی منفی اثر ڈال رہا ہے۔
اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی خودکشی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے راشٹریہ جنتا دل کے پروفیسر منوج کمار جھا نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سالوں میں ہراسانی کی وجہ سے 40 طلبہ نے خودکشی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔










