اپنے کشمیر میں تو صرف موسم گرم ہے ‘وہ بھی دن میں کہ شبانہ سردی سے تو جسم میں دوڈتا لہو بھی جم جائے ……موسم کے علاوہ یہاں سب کچھ ٹھنڈا ہے ……یخ ہے ‘منجمد ہے ……سیاست بھی کہ ……کہ سیاسی محاذ پر کچھ نہیں ہو رہا ہے ‘ بالکل بھی نہیں ہو رہا ہے ……اس کے برعکس جموں ……اپنے جموں میں موسم گرم ہے یا نہیں لیکن سیاست گرم ہے …… گرما گرم ۔جموں کو ایک علیحدہ ریاست بنانے پر سیاست گرم ہے ۔ اب جموں ایک الگ ریاست بننا چاہئے یا نہیں ‘ صاحب اس پر ہم کوئی بات نہیں کریں گے کہ …… کہ یہ چھوٹا منہ بڑی بات ہو جائےگی ……اس لئے ہم اس پر اپنے لب سی لیں گے …… لیکن …… لیکن صاحب ایک بات ہم ضرور کہیں گے کہ …… کہ جس کسی نے بھی یہ مطالبہ پیش کیا ……علیحدہ جموں ریاست کا مطالبہ ……یہ کمال کا ماسٹر اسٹروک ہے …… بڑا کمال کا۔ اس لئے کمال کا کہ اس نے تو جموںکشمیر کے بیانیے کو ہی تبدیل کر کے رکھ دیا …… بدل کے رکھ دیا ۔ اس مطالبے سے پہلے جموںکشمیر کےریاستی درجے کی بحال کی بات ہو رہی تھی …… بات بات اور ہر ایک بات پر یہی ایک بات ہو رہی ہے …… کوئی دوسری بات ‘ کوئی دوسرا اشو تھا ہی نہیں …… اپنے وزیر اعلیٰ ہر ایک خامی ‘ ہر ایک کوتاہی ‘ ہر ایک کمی کے جواب میں ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ پیش کرتے تھے …… لیکن صاحب اب نہیں کہ …… کہ بحث اس پر ہو رہی ہے کہ جموںکو کشمیر سے الگ کرکے ایک علیحدہ یاست بنائی جائے یا نہیں ……اس کے علاوہ کوئی اور بات ہو ہی نہیں رہی ہے …… اب تو اس پر ردعمل بھی آرہا ہے …… کشمیر سے آرہا ہے ۔ یہ مطالبہ جموںشہر میں پیش کیا گیا اور ردعمل اب سرینگر سے آنا شروع ہو گیا ہے اور…… اور اپنے قائد ثانی‘اعلیٰ حضرت جناب داکٹر فاروق صاحب بھی اب اس پر بات کرنے لگے ہیں ……اب وادی کا ردعمل کیا ہے اور کیا نہیں ……قائد ثانی کیا کہہ رہے ہیں اور کیا نہیں ‘ اس سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ ……کہ اگر ہمیں کسی بات میں دلچسپی ہے تو اس ایک بات میں ہے کہ …… کہ کیسے بیانیہ بدل جاتا ہے یا بدل دیا جاتا ہے ……کہ اب جموں کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی نہیں بلکہ جموں کیلئے ایک علیحدہ ریاست بنانے کی بات ہو رہی ہے ……اس پر بحث ہو رہی ہے ۔ہے نا؟




