جمہوریت کا بنیادی وصف یہی ہے کہ ہر شہری، ہر گروہ اور ہر خطہ اپنے خیالات، نظریات اور مطالبات کو پُرامن طور پر پیش کر سکے۔ اختلافِ رائے نہ صرف جمہوریت کا حسن ہے بلکہ اس کی بقا کی ضمانت بھی۔ اسی اصول کے تحت اگر جموں کو کشمیر سے الگ کر کے ایک علیحدہ ریاست بنانے کی بات کی جا رہی ہے تو اصولی طور پر اس مطالبے کو محض اس بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ موجودہ انتظامی یا سیاسی ڈھانچے سے متصادم ہے۔ سوال مطالبہ کرنے کے حق کا نہیں، بلکہ اس مطالبے کی بنیاد، دائرہ اور صداقت کا ہے۔
جموں کو ایک علیحدہ ریاست بنانے کی وکالت گزشتہ کچھ برسوں سے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں میں سنائی دے رہی ہے۔ اس وکالت کا مرکزی استدلال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ جموں کے ساتھ دہائیوں سے امتیازی سلوک کیا گیا، کشمیر نے سیاسی، انتظامی اور مالی وسائل پر غلبہ رکھا، اور ایک علیحدہ ریاست ہی اس احساسِ محرومی کا حل ہے۔ لیکن جمہوری مکالمہ اس وقت سنجیدہ اور نتیجہ خیز بنتا ہے جب دعووں کے ساتھ حقائق بھی سامنے رکھے جائیں۔
یہ ایک بنیادی سوال ہے کہ کیا واقعی جموں کے ساتھ منظم، مسلسل اور ادارہ جاتی سطح پر امتیاز ہوا ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کی ٹھوس مثالیں کہاں ہیں؟ آج تک کوئی مستند اعداد و شمار، سرکاری دستاویز یا غیر جانبدار رپورٹ سامنے نہیں آ سکی جو یہ ثابت کرے کہ جموں کو کشمیر کے مقابلے میں کم فنڈز ملے، ترقیاتی منصوبوں میں جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا، یا بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں دانستہ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مختلف ادوار میں، مختلف حکومتوں کے تحت، جموں اور کشمیر—دونوں خطوں میں ترقیاتی عدم توازن پر بات ہوتی رہی ہے، مگر یہ عدم توازن محض خطوں کے درمیان نہیں بلکہ اضلاع، تحصیلوں اور دیہی و شہری علاقوں کے درمیان بھی موجود رہا ہے۔ اسے صرف’کشمیر بمقابلہ جموں‘کے بیانیے میں محدود کرنا ایک پیچیدہ حقیقت کو حد سے زیادہ سادہ بنا دینا ہے۔
اس پورے مباحثے میں ایک اور اہم نکتہ جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وہ یہ ہے کہ علیحدہ جموں ریاست کا مطالبہ پورے جموں خطے کا متفقہ مطالبہ نہیں۔ جموں خطہ دس اضلاع پر مشتمل ہے، مگر اس مطالبے کی آواز بنیادی طور پر جموں ضلع یا چند مخصوص علاقوں تک محدود دکھائی دیتی ہے۔ باقی اضلاع‘چاہے وہ پیر پنجال ہوں یا چناب ویلی—میں اس حوالے سے کوئی ہمہ گیر عوامی تحریک، اجتماعی قرارداد یا واضح سیاسی اتفاق سامنے نہیں آیا۔
جمہوریت میں اکثریت اور نمائندگی کی اہمیت مسلم ہے۔ اگر کسی مطالبے کو پورے خطے کی خواہش قرار دیا جائے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ خواہش خطے کے مختلف حصوں میں واضح، منظم اور اجتماعی صورت میں ظاہر ہو۔ بصورتِ دیگر، یہ اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں محدود جغرافیائی یا سیاسی مفاد کو پورے خطے کی آواز کے طور پر پیش نہ کیا جا رہا ہو۔
یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ جموں و کشمیر کی تاریخ میں انتظامی تقسیم کو کبھی بھی مکمل اور دیرپا حل کے طور پر قبول نہیں کیا گیا۔ لداخ کی علیحدگی اس کی تازہ مثال ہے۔ لداخ کو یونین ٹیریٹری بنانے کے وقت یہی دلیل دی گئی تھی کہ اس سے مقامی لوگوں کو بہتر حکمرانی، براہِ راست مرکز سے رابطہ اور زیادہ ترقی حاصل ہوگی۔ مگر آج خود لداخ میں آئینی تحفظ، ریاستی درجہ اور سیاسی اختیارات کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ یہ تجربہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انتظامی علیحدگی مسائل کا فوری حل تو دکھائی دے سکتی ہے، مگر اس کے نتائج ہمیشہ توقعات کے مطابق نہیں ہوتے۔
اسی تناظر میں نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا یہ کہنا کہ جموں اور کشمیر کو الگ کرنے کا خیال ان کی جماعت کے ایجنڈے میں کبھی نہیں رہا، محض ایک سیاسی موقف نہیں بلکہ ریاستی وحدت کے تصور کا اظہار ہے۔ اگرچہ ان کے بیان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر اسے یکسر نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ ایک ایسے رہنما کی رائے ہے جو دہائیوں سے اس ریاستی سیاست کا حصہ رہا ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ جموں کو علیحدہ ریاست بنانے کی بات کی جا رہی ہے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس بات کو کس بنیاد پر، کن دلائل کے ساتھ اور کس دائرے میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر واقعی جموں کے کچھ حصوں کو انتظامی ناانصافی، وسائل کی غیر مساوی تقسیم یا سیاسی نظر اندازی کا سامنا ہے تو اس کا حل سب سے پہلے شفاف تحقیق، وائٹ پیپر اور ادارہ جاتی جائزے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آج تک کسی حکومت—چاہے وہ مرکز کی ہو یا ریاست کی—نے اس معاملے پر کوئی جامع وائٹ پیپر جاری نہیں کیا جو اس بحث کو جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر لے آتا۔
جمہوریت صرف مطالبات پیش کرنے کا نام نہیں، بلکہ ان مطالبات کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے کا بھی نام ہے۔ ایک علیحدہ ریاست کا قیام محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں ہوتا؛ اس کے ساتھ معاشی وسائل کی تقسیم، سکیورٹی انتظامات، سیاسی نمائندگی، اور سماجی ہم آہنگی جیسے سنگین سوالات جڑے ہوتے ہیں۔ جموں و کشمیر جیسے حساس خطے میں، جہاں تاریخ، شناخت اور جغرافیہ پہلے ہی نازک توازن میں بندھے ہیں، کسی بھی قسم کی نئی تقسیم غیر معمولی احتیاط کی متقاضی ہے۔
آخرکار، یہ سوال صرف جموں یا کشمیر کا نہیں، بلکہ جمہوری طرزِ فکر کا ہے۔ کیا ہم مسائل کا حل مزید لکیریں کھینچنے میں تلاش کریں گے، یا موجودہ ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے انصاف، شفافیت اور بہتر حکمرانی کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے؟ اختلافِ رائے جمہوریت کی جان ہے، مگر تقسیم کو واحد حل بنا لینا جمہوری کمزوری کی علامت بھی بن سکتا ہے۔
جموں، کشمیر اور لداخ—تینوں خطوں کے مسائل حقیقی ہیں اور ان کا اعتراف ضروری ہے۔ مگر ان مسائل کا حل جذباتی نعروں یا ادھورے بیانیوں میں نہیں، بلکہ سنجیدہ مکالمے، ٹھوس حقائق اور ذمہ دار سیاست میں مضمر ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف جمہوریت کو مضبوط کرتا ہے بلکہ خطے کے مستقبل کو بھی غیر ضروری انتشار سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔





