بہت سے لوگ حیران ہیں کہ یہ کیا ہو رہاہے اور……اور کیوں ہو رہا ہے ن۔ صاحب ! کیا ہو رہاہے اور جو ہو رہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے اسے سمجھنا اتنا بھی مشکل نہیں ہے ……بالکل بھی نہیں ہے کہ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے ……بالکل بھی نہیں ہے ۔ بات سیدھی سی ہے کہ جموں، کشمیر سے پیچھے نہیں رہنا چاہتا ہے اور نہ کشمیر، جموں سے ۔ دونوں میں ایک دوسرے کو پچھاڑنے کا کھیل ‘ دہائیوں سے جاری ہے ……اور اب کے تو اس میں شدت بھی آگئی ہے …… اتنی شدت کہ اپنے سجاد لون صاحب جموں اور کشمیر میں ’طلاق ‘ کی بات کررہے ہیں جبکہ شام لال شرما پہلے ایک علیحدہ جموں ریاست کا مطالبہ میز پر رکھ چکے ہیں …… ایسے میں اس بات کو سمجھنا اور بھی زیادہ آسان ہے کہ اگر جموں میں اس وقت کشمیر سے زیادہ ٹھنڈ ہے تو کیوں ہے…… کشمیر میں چلہ کلاں ہے اور ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کشمیر میں جموں سے زیادہ ٹھنڈ ہو لیکن …… اب کئی دنوں سےکشمیر میں جموں کے مقابلے میں دن کا درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے ……جموں میں ٹھنڈ ہو تی ہے اور ……اور اس لئے ہو تی ہے کیونکہ جموں‘ کشمیر کو بتانا چاہتا ہے کہ بھئی ہم بھی کسی سےکم نہیں ……بالکل بھی نہیں ۔ ٹھہر جائیے ……صاحب ٹھہر جائیے کہ…… کہ کشمیر بھی معصوم نہیں ہے ……بالکل بھی نہیں ہے ……اس نے بھی جموں کو غیر مبہم اور واضح پیغام دیا تھا…… گرما میں دیا تھا ‘ جھلستی گرمی میں دیا تھا جب سرینگر میں جموں کے مقابلے میں زیادہ درجہ حرارت درج ہوا تھا …… جب جموں ٹھنڈا تھا اور سرینگر گرما تھا …… گرماگرم تھا ۔صاحب ہو نا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ مقابلہ آرائی ……یہ ایک دوسرے کو پچھاڑنے کا کھیل ‘ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کا جذبہ‘ صرف موسم تک ہی محدود رہتا ……یہ دونوں خطوں کے لوگوں کی عام زندگیوں میں اور اذہان میں داخل نہیں ہو تا …… لیکن صاحب ایسا نہیں ہے کہ ……کہ اسے عام لوگوں کی سوچ میں داخل کیا گیا اور……اور داخل کرنے والے سیاستدان ہیں ……کوئی اور نہیں ‘ بالکل بھی نہیں ۔یقینا اس میں دونوں خطوں کے سیاستدان شامل ہیں…… لیکن …… لیکن اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے ……بالکل بھی نہیں کر سکتا ہے کہ کشمیر میں کبھی بھی نہیں …… بالکل بھی نہیں کشمیر کو جموں سے الگ کرنے کی بات تک نہیں ہو ئی ……ایک الگ کشمیر ریاست کا مطالبہ سامنے نہیں آیا ……بالکل بھی نہیں آیا ۔ ہے نا؟




