نئی دہلی، 7 جنوری (یو این آئی) دہلی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف آتشی کے سکھ گروؤں سے متعلق دیے گئے ایک بیان پر بدھ کے روز ہنگامہ آرائی کے بعد اسمبلی کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی بی جے پی کے اراکینِ اسمبلی نے محترمہ آتشی پر سکھ گروؤں کی توہین کا الزام عائد کرتے ہوئے ان سے معافی کا مطالبہ کیا۔ اس معاملے کو لے کر حکمراں جماعت کے اراکین نے اسمبلی میں زبردست ہنگامہ کیا، جس کے نتیجے میں ایوان کی کارروائی دو مرتبہ ملتوی کرنی پڑی۔
اسمبلی اسپیکر وجیندر گپتا نے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف آتشی ایک گھنٹے کے اندر ایوان میں اپنا موقف پیش کریں، جس کے بعد اس معاملے پر فیصلہ کیا جائے گا۔ دو مرتبہ کی معطلی کے بعد جب کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو مسٹر گپتا نے کہا کہ موقع دیے جانے کے باوجود محترمہ آتشی نے کوئی اطلاع نہیں دی۔ اس پر عام آدمی پارٹی کے رکنِ اسمبلی مکیش اہلاوت نے ایوان کو بتایا کہ وہ گوا چلی گئی ہیں۔ اس پر اسپیکر نے کہا کہ کل وہ آلودگی پر بحث کا مطالبہ کر رہی تھیں اور آج گوا چلی گئی ہیں، یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے ۔ ہنگامہ جاری رہنے پر ایوان کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
اس سے قبل کابینہ وزیر منجیندر سنگھ سرسا، رکنِ اسمبلی اروِندر سنگھ لولی اور رکنِ اسمبلی تروندر سنگھ مارواہ نے محترمہ آتشی پر گرو تیغ بہادر کی توہین کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معافی مانگنی چاہیے ۔
کابینہ وزیر کپل مشرا نے کہا کہ گروؤں کے احترام پر جاری بحث کے دوران حزبِ اختلاف کے نامناسب تبصروں سے ایوان کی حرمت مجروح ہوئی ہے ، لہٰذا عام آدمی پارٹی کو معافی مانگنی چاہیے ۔ مسٹر سرسا نے کہا کہ گرو تیغ بہادر کے احترام پر بحث ہو رہی تھی، اس دوران حزبِ اختلاف نے جس طرح کے الفاظ استعمال کیے ، انہیں دہرایا نہیں جا سکتا۔ اگر وہ گرو کا احترام نہیں کر سکتے تو انہیں توہین کا بھی کوئی حق نہیں ہے ۔










