سرینگر/۳۰ دسمبر
اسپیشل این آئی اے عدالت، سری نگر نے منگل کے روز پولیس اسٹیشن کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر (سی آئی کے) میں درج ایف آئی آر نمبر۰۷/۲۰۲۰کے تحت ملک مخالف پروپیگنڈا اور علیحدگی پسندانہ غلط معلومات سے متعلق ایک مقدمے میں مفرور ملزمان کے خلاف اشتہاری کارروائی (پروکلیمیشن) جاری کی ہے۔
ایک ترجمان نے بیان میں کہا’’ملک مخالف پروپیگنڈا اور علیحدگی پسندانہ غلط معلومات کے خلاف ایک بڑی کارروائی کے تحت، این آئی اے ایکٹ کے تحت نامزد اسپیشل جج، سری نگر کی معزز عدالت نے ضابط فوجداری ۱۹۷۳ کی دفعہ ۸۲ کے تحت پولیس اسٹیشن کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر (سی آئی کے) میں درج ایف آئی آر نمبر۰۷/۲۰۲۰کے ملزمان کے خلاف اشتہاری کارروائی جاری کی ہے‘‘۔
بیان میں کہا گیا’’یہ مقدمہ تعزیراتِ ہند کی دفعات۱۵۳اے؍اور۵۰۵؍ اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کی دفعہ ۱۳ کے تحت سنگین جرائم سے متعلق ہے، جو قابلِ اعتبار خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر درج کیا گیا، جن سے وادی کے اندر اور باہر موجود علیحدگی پسند قوتوں کے اشارے پر کام کرنے والے بے اصول سماج دشمن اور ملک دشمن عناصر کی ایک منظم سازش کا انکشاف ہوا‘‘۔
بیان کے مطابق’’تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ عناصر خود کو نیوز پورٹلز، صحافیوں اور فری لانسرز کے طور پر پیش کر رہے تھے، جبکہ حقیقت میں وہ فیس بک، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور واٹس ایپ جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جعلی، من گھڑت، اشتعال انگیز، علیحدگی پسند اور سیاق و سباق سے ہٹ کر مواد تیار کر کے اپ لوڈ اور پھیلانے میں ملوث تھے۔ اس ڈیجیٹل غلط معلوماتی مہم کا واضح مقصد سڑکوں پر تشدد بھڑکانا، معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنا، سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانا، امن و امان کو متاثر کرنا اور بڑے پیمانے پر بے چینی پیدا کرنا تھا، تاکہ ملک مخالف جذبات کو فروغ دیا جا سکے اور بھارت کے اتحاد کے خلاف نفرت پیدا کر کے علیحدگی پسند ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے‘‘۔
بیان میں مزید کہا گیا’’تحقیقات کے دوران ملزمان کی شمولیت مضبوطی سے ثابت ہوئی، جن میں مبین احمد شاہ ولد مرحوم علی محمد شاہ، ساکن ڈاک والی کالونی، جواہر نگر، ضلع سری نگر؛ عزیز الحسن عشائی عرف ٹونی عشائی ولد نذیر احمد عشائی، ساکن ڈاک والی کالونی، جواہر نگر، ضلع سری نگر؛ اور رفعت وانی دختر غلام محمد وانی، ساکن ترہگام، ضلع کپواڑہ شامل ہیں۔ تحقیقات نے مذکورہ مقدمے میں درج الزامات اور سازش میں ان کے کردار کی تصدیق کی ہے‘‘۔
بیان کے مطابق’’ملزمان بھارت کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف مواد کی تشہیر میں سرگرم پائے گئے اور دانستہ طور پر جھوٹے اور من گھڑت بیانیے پھیلاتے رہے، جن کا مقصد بھارت کے اتحاد کے خلاف نفرت اور بداعتمادی پیدا کرنا تھا‘‘۔
ترجمان نے کہا’’گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کے بعد ملزمان قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے روپوش ہو گئے اور مفرور ہیں۔ ان کی دانستہ فرار کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے معزز اسپیشل این آئی اے عدالت نے اب ضابط فوجداری کی دفعہ ۸۲کے تحت اشتہاری کارروائی جاری کی ہے اور ملزمان کو ہدایت دی ہے کہ وہ ۳۱جنوری ۲۰۲۶ تک معزز عدالت میں پیش ہوں۔ اس حکم کی تعمیل نہ کرنے کی صورت میں دفعہ ۸۳ضابط فوجداری کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں جائیداد کی ضبطی بھی شامل ہے‘‘۔
بیان میں مزید کہا گیا’’مفرور قرار دیے جانے کے باوجود ملزمان اپنی معاندانہ سرگرمیوں کے لیے بدنام ہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بدستور سرگرم ہیں، جہاں وہ بڑے پیمانے پر تشدد بھڑکانے اور جموں و کشمیر کی یونین ٹیریٹری میں امن و امان کو غیر مستحکم کرنے کے ارادے سے جھوٹا، من گھڑت اور اشتعال انگیز مواد پھیلا رہے ہیں‘‘۔
بیان کے آخر میں کہا گیا’’کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر نے ملک مخالف پروپیگنڈا اور ڈیجیٹل تخریب کاری میں ملوث تمام عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے اپنے عزم کو دہرایا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔‘‘
(ندائے مشرق خبر)










