سرینگر/۳۰دسمبر
بھارتی فوج کیلئے۲۰۲۵ کو بھارت کی انسدادِ دہشت گردی اور ڈیٹرنس حکمتِ عملی کے ایک فیصلہ کن مرحلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جس میں آپریشن سندور پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور سرحد پار جارحیت کے خلاف ایک نمایاں فوجی کارروائی کے طور پر ابھرا۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق مئی۲۰۲۵ میں پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد شروع کیا گیا آپریشن سندور، لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ بھارت کے عزم، درست نشانہ لگانے کی صلاحیت اور بڑھتی ہوئی برتری کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ جموں و کشمیر میں متوازی انسدادِ دہشت گرد کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد دہشت گردوں کا صفایا کیا گیا اور دراندازی کے نیٹ ورکس کو درہم برہم کیا گیا۔
بھارتی فوج کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، آپریشن سندور کو اعلیٰ ترین سطح پر سخت آپریشنل کنٹرول کے تحت تصور، منصوبہ بندی اور عمل میں لایا گیا۔ ملٹری آپریشنز برانچ نے مکمل منصوبہ بندی کا عمل انجام دیا، جبکہ اس کی براہِ راست نگرانی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ملٹری آپریشنز کے آپریشن روم سے کی گئی، جہاں چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور تینوں افواج کے سربراہان موجود تھے۔ تینوں افواج کے درمیان یہ غیر معمولی ہم آہنگی بھارت کے ردِعمل کی سنجیدگی اور بغیر بے قابو تصادم کو جنم دیے قیمت چکوانے کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ کارروائی سرحد پار دہشت گردی کے انفرااسٹرکچر کو ختم کرنے پر مرکوز تھی۔ تیز اور نپی تْلی ضربوں کے ذریعے نو دہشت گرد کیمپ تباہ کیے گئے، جن میں سے سات بھارتی فوج نے زمینی فائر پاور کے ذریعے اور دو بھارتی فضائیہ نے درست فضائی حملوں کے ذریعے تباہ کیے۔
حکام کے مطابق یہ حملے وقت کے تعین کے ساتھ اور خفیہ اطلاعات پر مبنی تھے، جن کا مقصد شہری یا فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ دہشت گردی کے لانچ کی صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا۔ پیغام بالکل واضح تھا: دہشت گرد پراکسیوں کو براہِ راست نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اگلی راتوں میں پاکستان کی جانب سے کی گئی جوابی کارروائی کی کوششوں نے بھارت کی تیاری کو مزید واضح کر دیا۔۷ سے۱۰ مئی کے درمیان پاکستان نے مسلح ڈرونز کے ذریعے فوجی اور شہری اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ ان تمام دراندازیوں کو بھارتی فوج کے فضائی دفاعی یونٹس نے کامیابی کے ساتھ ناکام بنایا، جس سے بھارت کے مربوط انسدادِ بغیر پائلٹ فضائی نظام (یو اے ایس) گرڈ اور کثیر سطحی فضائی دفاعی ڈھانچے کی مؤثریت ظاہر ہوئی۔ کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جو جدید میدانِ جنگ میں فضائی دفاع کی ایک بڑی کامیابی ہے۔
اسی دوران لائن آف کنٹرول کے ساتھ مسلسل کارروائیوں نے دہشت گرد نیٹ ورکس کو ایک اور بڑا دھچکا پہنچایا۔ زمینی ہتھیاروں کے ذریعے ایک درجن سے زائد دہشت گرد لانچ پیڈز تباہ کیے گئے، جس سے دراندازی کے راستے بند ہوئے اور جموں و کشمیر میں شدت پسندی کو تقویت دینے والی لاجسٹک سپلائی لائنز متاثر ہوئیں۔
ان اقدامات نے یونین ٹیریٹری کے اندر انسدادِ دہشت گرد کارروائیوں کی براہِ راست حمایت کی، جہاں سال کے دوران سکیورٹی فورسز نے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور کئی دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا، جس سے مقامی سکیورٹی حالات میں بہتری آئی۔
رپورٹ کے مطابق مسلسل دباؤ کے نتیجے میں پاکستان کی فوجی قیادت کو کشیدگی کم کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ۱۰ مئی کو بھارتی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز سے ان کے پاکستانی ہم منصب نے رابطہ کیا، جس کے بعد لائن آف کنٹرول کے ساتھ فائرنگ اور فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق ہوا۔ تاہم بھارتی حکام نے واضح کیا کہ یہ جنگ بندی ضبط کا نتیجہ نہیں بلکہ حاصل شدہ ڈیٹرنس کا نتیجہ تھی۔
آپریشن سندور نے ۲۰۲۵ میں بھارتی فوج کی وسیع تر تبدیلی کی بھی عکاسی کی، جس کی خصوصیات میں بہتر درست فائر پاور، تیز رفتار فیصلہ سازی اور ٹیکنالوجی کا انضمام شامل ہے۔ اس کارروائی سے حاصل ہونے والے اسباق کو بغیر پائلٹ نظاموں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں اور براہِ راست خفیہ معلومات کے امتزاج کی جانب فوج کی جاری پیش رفت میں شامل کیا گیا، تاکہ انسدادِ دہشت گردی اور انسدادِ دراندازی کی کارروائیاں ردِعمل کے بجائے پیشگی نوعیت کی رہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ فوری تزویراتی کامیابیوں سے ہٹ کر، آپریشن سندور نے بھارت کے اسٹریٹجک پیغام کو مضبوط کیا کہ دہشت گرد حملوں کا جواب اب صرف سفارتی احتجاج تک محدود نہیں رہے گا بلکہ واضح اور قابلِ اعتبار فوجی ردِعمل دیا جائے گا۔ جب بھارتی فوج نے ایک اہم سنگِ میلوں سے بھرپور سال کا اختتام کیا، تو آپریشن سندور کی کامیابی عزم، صلاحیت اور کنٹرول کا ایک واضح مظاہرہ بن کر سامنے آئی، جس نے دشمنوں کو سخت پیغام دیا اور قوم کو یقین دہانی کرائی۔
دہشت گردی کے انفرااسٹرکچر کے کمزور ہونے، دراندازی کے راستوں کے متاثر ہونے اور جموں و کشمیر میں متعدد دہشت گردوں کے خاتمے کے ساتھ،۲۰۲۵ بھارت کی سرحد پار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا ‘ ایک ایسا موڑ جو صرف جوابی کارروائی نہیں بلکہ مستقل ڈیٹرنس سے متعین تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔










