’ان اصلاحات کا مقصد ایک خوشحال اور خود کفیل ہندوستان کی تعمیر ہے ‘
سرینگر/۳۰دسمبر
ہندوستان عالمی توجہ کے مرکز کے طور پر ابھرا ہے ۔ یہ ہمارے لوگوں کے اختراعی جوش و خروش کی وجہ سے ممکن ہوا ہے ۔ آج دنیا ہندوستان کو امید اور اعتماد کے ساتھ دیکھتی ہے ۔ وہ اس طریقے کی تعریف کرتے ہیں جس میں اگلی نسل کی اصلاحات کے ساتھ ترقی کی رفتار کو تیز کیا گیا ہے ، جو بین شعبہ جاتی ہیں اور ملک کی ترقی کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں ۔میں بہت سے لوگوں کو بتاتا رہا ہوں کہ ہندوستان ریفارم ایکسپریس میں سوار ہوا ہے ۔اس ریفارم ایکسپریس کا بنیادی انجن ہندوستان کی آبادی ، ہماری نوجوان نسل اور ہمارے لوگوں کا ناقابل تسخیر جذبہ ہے ۔
ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نریندر مودی نے یہاں جاری ایک مضمون میں کیا۔
مودی نے کہا کہ سال۲۰۲۵کو ہندوستان کے لیے ایک ایسے سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب اس نے ایک مسلسل قومی مشن کے طور پر اصلاحات پر توجہ مرکوز کی ، جس کا احاطہ گزشتہ ۱۱سالوں میں زمینی سطح پر کیا گیا ۔ ہم نے اداروں کو جدید بنایا ، حکمرانی کو آسان بنایا اور طویل مدتی ، جامع ترقی کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ ہم اعلی عزائم، تیزی سے عمل درآمد اور گہری تبدیلی کے ساتھ فیصلہ کن طور پر آگے بڑھے ۔ یہ اصلاحات شہریوں کو وقار کے ساتھ زندگی گزارنے ، کاروباریوں کو اعتماد کے ساتھ اختراع کرنے اور اداروں کو وضاحت اور اعتماد کے ساتھ کام کرنے کے قابل بنانے کے بارے میں ہیں۔
وزیراعظم نے ان اصلاحات کی چند مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات۔ ۵فیصد اور۱۸فیصد کا صاف ستھرا دو سلیب والاڈھانچہ نافذ کیا گیا ہے ۔گھرانوں ، ایم ایس ایم ایز ، کسانوں اور محنت کشوں پر بوجھ کم کیا گیا ہے ۔اس کا مقصد تنازعات میں کمی اور بہتر تعمیل کو یقینی بنانا ہے ۔ اس اصلاح نے صارفین کے جذبات اور مانگ کو تقویت دی ہے ۔ تہواروں کے موسم میں فروخت میں اضافہ ہوا ہے ۔
وزیرا عظم کاکہنا تھا ’’متوسط طبقے کیلئے بے مثال راحت دیتے ہوئے پہلی بار ایسے افراد جن کی سالانہ آمدنی۱۲لاکھ روپے تک ہے ، انہیں کوئی انکم ٹیکس نہیں دینا ہوگا ۔۱۹۶۱کے فرسودہ انکم ٹیکس ایکٹ کو جدید اور سادہ انکم ٹیکس ایکٹ ، ۲۰۲۵سے تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ یہ اصلاحات ایک ساتھ مل کر ایک شفاف ، ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیکس انتظامیہ کی طرف ہندوستان کے اقدام کی نشاندہی کرتی ہیں ۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ دیتے ہوئے’چھوٹی کمپنیوں‘کی تعریف میں توسیع کی گئی ہے اور اس میں ان فرموں کو شامل کیا گیا ہے جن کا کاروبار۱۰۰کروڑ روپے تک ہے ۔ ہزاروں کمپنیوں کے لیے تعمیل کا بوجھ اور اس سے وابستہ اخراجات کم ہو جائیں گے ۔
سو فی صدایف ڈی آئی انشورنس اصلاحات کرکے ہندوستانی انشورنس کمپنیوں میں۱۰۰فی صد ایف ڈی آئی کی اجازت دی گئی۔ اس سے لوگوں کے لیے بیمہ تک رسائی اور تحفظ کو فروغ ملے گا ۔ بہتر مسابقت کے علاوہ یہ لوگوں کے لیے بیمہ کے بہتر انتخاب اور بہتر خدمات کی فراہمی کی پیشکش کرے گا ۔
وزیر اعظم کہا کہ سکیورٹیز مارکیٹ کوڈ بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے ۔ یہ سیبی( ایس ای بی آئی) میں گورننس کے اصولوں کو فروغ دے گا، سرمایہ کاروں کے تحفظ کو بھی بڑھائے گا ، تعمیل کے بوجھ کو کم کرے گا اور وکست بھارت کے لیے ٹیکنالوجی سے چلنے والی سیکیورٹیز مارکیٹ کو بروئے کار لائے گا ۔ یہ اصلاحات کم تعمیل اور دیگر اخراجات کی وجہ سے بچت کو یقینی بنائیں گی ۔
مودی نے کہا کہ پارلیمنٹ کے ایک ہی اجلاس یعنی مانسون اجلاس میں پانچ تاریخی سمندری قوانین یعنی بل آف لیڈنگ ایکٹ، ۲۰۲۵‘کیریج آف گڈز بائی سی بل‘۲۰۲۵‘ کوسٹل شپنگ بل۲۰۲۵‘ مرچنٹ شپنگ بل۲۰۲۵؍اور انڈین پورٹس بل۲۰۲۵منظور کیے گئے ۔’’ یہ اصلاحات دستاویزات سازی کو آسان بناتی ہیں ، تنازعات کے حل کو سہل کرتی ہیں اور لاجسٹک لاگت کو کم کرتی ہیں ۔۱۹۰۸‘۱۹۲۵؍اور۱۹۵۸کے پرانے قوانین کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے ‘‘۔
مودی کہا کہ جن وشواس…جرائم کے دور کا خاتمہ کرتے ہوئے سینکڑوں پرانے اور فرسودہ قوانین کو ختم کر دیا گیا ہے ۔ ریپیلنگ اینڈ امینڈمنٹ بل ۲۰۲۵کے ذریعے۷۱قوانین کو منسوخ کیا گیا ہے ۔کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دیتے ہوئے مصنوعی ریشوں ، سوت ، پلاسٹک ، پولیمر اور بیس میٹلز میں کل ۲۲کیو سی اوز کو منسوخ کر دیا گیا ، جبکہ مختلف اسٹیل ، انجینئرڈ ، الیکٹریکل ، الائے اور کنزیومر اینڈ پروڈکٹ کیٹیگریز میں۵۳کیو سی اوز کو معطل کر دیا گیا ، جس میں صنعتی اور صارف مٹیریئل کے وسیع میدان عمل کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ اس سے ملبوسات کی برآمدات میں ہندوستان کا حصہ بڑھے گا ؛ جوتے ، آٹوموبائل جیسی متنوع صنعتوں میں پیداواری لاگت کم ہوگی ؛ الیکٹرانکس ، سائیکلوں اور آٹوموٹو مصنوعات کے تعلق سے گھریلو صارفین کے لیے کم قیمتیں یقینی بنیں گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سب سے اہم اور تاریخ ساز لیبر اصلاح کرتے ہوئے۲۹الگ الگ قوانین کو چار جدید ضابطوں میں ضم کرتے ہوئے لیبر قوانین کو نئی شکل دی گئی ۔ہندوستان نے ایک ایسا لیبر فریم ورک تشکیل دیاہے ، جو کاروباری ماحولیاتی نظام کو فروغ دیتے ہوئے کارکنوں کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے ۔مودی نے کہا کہ ان اصلاحات میں مناسب اجرت ، اجرتوں کی بروقت ادائیگی ، ہموار صنعتی تعلقات ، سماجی تحفظ اور محفوظ کام کی جگہوں، جیسے معاملات پر خصوصی توجہ مرکوزکی گئی ہے ۔
یہ اصلاحات افرادی قوت میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بناتی ہیں ۔غیر منظم کارکنوں بشمول کنٹریکٹ ورکرز کو ای ایس آئی سی اور ای پی ایف او کے تحت لایا جاتا ہے ، جس سے باضابطہ افرادی قوت کی کوریج میں توسیع ہوتی ہے ۔
مودی نے کہا کہ ہندوستانی مصنوعات کیلئے متنوع اور توسیع شدہ منڈیاں قائم کرتے ہوئے نیوزی لینڈ ، عمان اور برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدے ۔ ان سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا ، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی کاروباریوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوگی ۔ جو عالمی معیشت میں ایک قابل اعتماد اور مسابقتی شراکت دار کے طور پر ہندوستان کی پوزیشن کو مضبوط کرتے ہیں ۔ سوئٹزرلینڈ ، ناروے ، آئس لینڈ اور لیکٹینس ٹائن پر مشتمل آزادی تجارتی ادراے کے ساتھ آزاد تجارتی سمجھوتے (ایف ٹی اے ) کو فعال کر دیا گیا ہے ۔ یہ ترقی یافتہ یورپی معیشتوں کے ساتھ ہندوستان کا پہلا ایف ٹی اے ہے ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ نیوکلیائی توانائی اصلاحات کے ضمن میں شانتی ایکٹ ہندوستان کے صاف ستھری توانائی اور ٹیکنالوجی کے سفر میں تبدیلی لانے والا ایک قدم ہے ۔ نیوکلیائی سائنس اور ٹیکنالوجی کی محفوظ اور ذمہ دار توسیع کے لیے ایک مضبوط فریم ورک کو یقینی بناتا ہے ۔ ہندوستان کو اے آئی دور کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل بناتا ہے ، جیسے پاورنگ ڈیٹا سینٹرز ، ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ ، گرین ہائیڈروجن اور ہائی ٹیکنالوجی انڈسٹریز ۔ صحت کی دیکھ بھال ، زراعت ، خوراک کی یقینی فراہمی ، پانی کے انتظام ، صنعت ، تحقیق اور ماحولیاتی استحکام میں نیو کلیائی ٹیکنالوجیز کے پرامن اطلاق کو فروغ دینا ، جامع ترقی اور زندگی کے بہتر معیار کی حمایت کرتا ہے ۔ نجی شعبے کی شرکت ، اختراع اور ہنر مندی کے فروغ کے لیے نئے راہیں کھولتا ہے ۔ ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے جدید ٹیکنالوجیز اور اگلی نسل کے توانائی کے حل میں قیادت کرنے کے مواقع پیدا کرتا ہے ۔
انھوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاروں ، اختراع کاروں اور اداروں کے لیے ہندوستان کے ساتھ شراکت داری کرنے ، سرمایہ کاری کرنے ، اختراع کرنے اور ایک صاف ستھرا ، پائیدار اور مستقبل کے لیے تیار توانائی کے ماحولیاتی نظام کی تعمیر کا ایک موقع ہے ۔
وزیرا عظم کے مطابق دیہی روزگار کی ضمانت کے ضمن میں ایک تاریخ ساز اصلاح کرتے ہوئے وکست بھارت ،جی رام جی ایکٹ‘۲۰۲۵روزگار گارنٹی فریم ورک روزگار کی گارنٹی کو ۱۰۰سے بڑھا کر۱۲۵دن کر دیا گیا ۔ اس کے نتیجے میں گاؤں کے بنیادی ڈھانچے اور ذریعہ معاش کو مستحکم کرنے کے سبب اخراجات میں اضافہ ہوگا ۔ اس کا مقصد دیہی کاموں کو زیادہ آمدنی اور بہتر اثاثوں کو یقینی بنانے کے لیے ایک ذریعہ میں تبدیل کرنا ہے ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ تعلیمی اصلاحات کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں بل پیش کیا گیا ہے ۔ واحد ، متحد اعلی تعلیم انضباطی نظام قائم کیا جائے گا ۔ وکست بھارت شکشا ادھیشٹھان، یو جی سی ، اے آئی سی ٹی ای ، این سی ٹی ای جیسے متعدد متجاوز اداروں کی جگہ لے گا ۔ اختراع اور تحقیق کو فروغ دینے کے ساتھ ادارہ جاتی خود مختاری کو مستحکم کیا جائے گا ۔
مودی نے کہا ’’ان اصلاحات کا مقصد ایک خوشحال اور خود کفیل ہندوستان کی تعمیر ہے ۔ وکست بھارت کی تعمیر ہماری ترقی کے راستے کی بنیاد ہے ۔ ہم آنے وزیر اعظم نے کہا کہ والے برسوں میں اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل جاری رکھیں گے ۔میں ہندوستان اور بیرون ملک میں ہر ایک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہندوستان کی ترقی کی داستان کے ساتھ اپنے رشتے کو مضبوط بنائیں۔ ہندوستان پر بھروسہ کرتے رہیں اور ہمارے لوگوں میں سرمایہ کاری کرتے رہیں۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)‘‘










