جموں/۲۹ دسمبر
حکام نے پیر کے روز بتایا کہ جنوبی کشمیر میں قائم بریڈنگ سینٹر میں کشمیر اسٹیگ، جسے عام طور پر ہانگل کہا جاتا ہے، کی آبادی میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں اور حوصلہ افزا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ اضافہ محکمہ وائلڈ لائف پروٹیکشن کی جانب سے جاری مسلسل اور مؤثر تحفظاتی اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، نایاب اور علامتی حیثیت رکھنے والی اس جنگلی حیات کی آبادی ترال میں قائم ہانگل بریڈنگ سینٹر میں بڑھ کر ۳۲۳ ہو گئی ہے، جو ۲۰۰۸ میں۱۲۷ تھی، اور اس طرح اس میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ اس مثبت رجحان کو یہاں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی صدارت میں منعقدہ وائلڈ لائف بورڈ کے چھٹے اجلاس میں اجاگر کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق اجلاس میں بورڈ نے متعدد ترقیاتی منصوبوں کو وائلڈ لائف کلیئرنس فراہم کی اور بعض تجاویز کو حتمی منظوری کے لیے نیشنل بورڈ فار وائلڈ لائف کو بھیجنے کی سفارش کی۔
ان منصوبوں میں ۴جی سیچوریشن، جل جیون مشن، ٹرانسمیشن لائنوں کی از سر نو ترتیب، بارڈر سیکیورٹی پوسٹس کا قیام، باغبانی نرسری کی ترقی اور ایولانچ وارننگ سسٹمز کی تنصیب شامل ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ بورڈ کو محکمہ کی جانب سے تحفظِ فطرت اور مسکن کی بہتری سے متعلق مختلف سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ان میں انسان اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم سے نمٹنے کے اقدامات، ریسکیو مراکز کا قیام اور آبی دلدلی علاقوں کی بحالی کے کام شامل ہیں۔
اس حوالے سے ایک سرکاری ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے پیر کے روز لوک بھون میں جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری کے وائلڈ لائف بورڈ کے چھٹے اجلاس کی صدارت کی۔
بورڈ نے متعدد ترقیاتی منصوبوں کو وائلڈ لائف کلیئرنس فراہم کی اور بعض تجاویز کو حتمی منظوری کے لیے نیشنل بورڈ فار وائلڈ لائف کو بھیجنے کی سفارش کی۔ ان میں۴جی سیچوریشن، جل جیون مشن، ٹرانسمیشن لائنوں کی از سر نو ترتیب، بارڈر سیکیورٹی پوسٹس کا قیام، باغبانی نرسری کی ترقی اور ایولانچ وارننگ سسٹمز کی تنصیب سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔
بورڈ کو محکمہ کی جانب سے تحفظِ فطرت اور مسکن کی بہتری سے متعلق مختلف سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ان میں انسان اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم سے نمٹنے کے اقدامات، ریسکیو مراکز کا قیام اور آبی دلدلی علاقوں کی بحالی کے کام شامل ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے حیاتیاتی تنوع کے پائیدار انتظام اور جنگلی حیات کے مساکن کے تحفظ کو ترجیح دینے پر زور دیا۔
سنہا نے خاص طور پر اسکولی بچوں کے درمیان جمبو چڑیا گھر، ہوکرسر اور گھرانا ویٹ لینڈ جیسے بڑے منصوبوں کے حوالے سے تشہیری سرگرمیوں پر زور دیا۔ انہوں نے ان مقامات تک عوامی ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ ایکو ٹورازم کو فروغ دیا جا سکے۔
اجلاس کے دوران ترال میں ہنگول بریڈنگ سینٹر کے فعال ہونے سے متعلق محکمہ کی کوششوں کو بھی پیش کیا گیا۔ بورڈ نے اطمینان کا اظہار کیا کہ ہنگول کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو ۲۰۰۸ میں۱۲۷تھی اور ۲۰۲۵ کی مردم شماری کے مطابق بڑھ کر ۳۲۳ ہو گئی ہے۔
اجلاس میں جنگلی سور، نیل گائے اور بندروں کی جانب سے زرعی فصلوں کو پہنچنے والے نقصان پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بورڈ نے اس امکان کا جائزہ لینے کی خواہش ظاہر کی کہ جنگلی جانوروں کی وجہ سے کسانوں کو ہونے والے نقصانات کا معاوضہ دیا جا سکے۔
ہوکرسر اور گھرانا ویٹ لینڈ کنزرویشن ریزروز میں بحالی کے کاموں اور ہنگول بریڈنگ سینٹر کے فعال ہونے پر مبنی دستاویزی فلمیں بھی اجلاس کے دوران دکھائی گئیں۔
اس موقع پر محکمہ کی مختلف اشاعتیں بھی جاری کی گئیں، جن میں وائلڈ لائف کیلنڈر ۲۰۲۶؛ جموں و کشمیر کی جنگلی حیات پر مشتمل کافی ٹیبل بْک ’’وائلڈ لائف آف جے اینڈ کے … محفوظ جنگلات کے سفر کی کہانی‘‘؛ ’’دی باؤنٹی آف پیر پنجال… اس کی نباتات و حیوانات کا سفر‘‘ کے عنوان سے کتاب؛ اور جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ ہیج ہاگ کی دریافت سے متعلق رپورٹ شامل ہیں۔
اجلاس میں جل شکتی، جنگلات، ماحولیات و ماحولیاتی تبدیلی اور قبائلی امور کے وزیر شری جاوید احمد رانا؛ اراکین قانون ساز اسمبلی ڈاکٹر دیویندر کمار مانیال اور شری میاں مہر علی؛ چیف سیکریٹری شری اتل ڈولو؛ لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری؛ کمشنر سیکریٹری، جنگلات، ماحولیات و ماحولیاتی تبدیلی محترمہ شیٹل نندا؛ پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹس و ہیڈ آف فاریسٹ فورس شری سریش کمار گپتا؛ پی سی سی ایف/چیف وائلڈ لائف وارڈن جموں و کشمیر شری سرویش رائے؛ آئی جی پی سکیورٹی شری سْجیت کمار؛ ممتاز تحفظِ فطرت کے ماہرین، ماہرینِ ماحولیات، ماحولیاتی کارکنان، فوج اور وائلڈ لائف سے وابستہ این جی اوز کے نمائندگان اور دیگر بورڈ ممبران نے شرکت کی۔ویب ڈسیک/ڈی آئی پی آر










