سرینگر/۲۹ دسمبر
مرکزی وزارتِ داخلہ نے یونین ٹیریٹری جموں و کشمیر میں ایک جدید ترین فارنسک انسٹی ٹیوٹ کے قیام کے لیے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اے آئی آئی ایم ایس)، جموں کی تجویز کی منظوری دے دی ہے۔
حکام کے مطابق یہ تجویز شواہد کے یکجا اور مؤثر اندراج، سزا کی شرح میں اضافے اور صحت کے شعبے میں بہتر تفتیش اور تشخیص میں معاونت کے لیے بھیجی گئی تھی۔
اے آئی آئی ایم ایس جموں کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور سی ای او پروفیسر شکتی کمار گپتا نے کہا’’جموں و کشمیر میں ایک فارنسک انسٹی ٹیوٹ قائم کیا جا رہا ہے۔ اے آئی آئی ایم ایس نے اس حوالے سے وزارتِ داخلہ کو ایک تجویز بھیجی تھی، جسے منظور کر لیا گیا ہے۔‘‘
گپتا نے بتایا کہ اس منصوبے میں سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ان کاکہنا تھا’’ملک میں فارنسک انسٹی ٹیوٹس کی تعداد بہت محدود ہے۔ یہ ادارہ جموں و کشمیر کے ضلع سانبہ میں قائم کیا جائے گا‘‘۔
پروفیسر گپتا نے مزید کہا کہ مستقبل میں اے آئی آئی ایم ایس اس ادارے کے ساتھ مل کر کام کرے گا، جس سے طبی شعبے میں بروقت تفتیش اور تشخیص میں مدد ملے گی۔
جموں و کشمیر، جو گزشتہ ۳۵ برسوں سے دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے، میں اس وقت دو فارنسک سائنس لیبارٹریاں ‘ ایک جموں اور دوسری سری نگر میں ‘ قائم ہیں، جبکہ ان کا صدر دفتر جموں میں واقع ہے۔ یہ ادارہ ۱۹۶۴ میں محکمہ داخلہ کے تحت قائم کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق جموں کشمیر کا جغرافیائی محلِ وقوع، بین الاقوامی سرحد اور تین ریاستی سرحدوں کے قریب ہونے کے باعث، دہشت گردی، نارکو ٹیررازم اور اسلحہ سے متعلق جرائم کے حوالے سے حساس ہے۔
اے آئی آئی ایم ایس میں فارنسک میڈیسن اور ٹاکسیکولوجی کے پروفیسر اور سربراہ ڈاکٹر دنیش راؤ نے کہا’’مختلف ریاستوں اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مجرموں کی شمولیت کا امکان ہمیشہ رہتا ہے، جو پولیس اور دفاعی افواج کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے، اور یہ حقیقت بخوبی معروف ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ یونین ٹیریٹری ایک جدید ترین فارنسک انسٹی ٹیوٹ قائم کرے، جہاں مذکورہ تمام سہولیات ایک ہی چھت کے نیچے دستیاب ہوں۔
گپتا کاکہنا تھا’’یہ تحقیقاتی ایجنسیوں کے لیے ایک واحد مرکز ہوگا، جہاں شواہد کو محفوظ کیا جائے گا، ان کا معائنہ کیا جائے گا اور مختلف سائنسی لیبارٹریوں کے ذریعے ان کا تجزیہ کیا جائے گا‘‘۔
ڈاکٹر راؤ نے مزید کہا کہ حکومت کی معاونت سے اے آئی آئی ایم ایس خطے میں ایک جدید ترین فارنسک انسٹی ٹیوٹ قائم کر سکتا ہے، جو علاقے میں درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے پولیس اور دفاعی افواج کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔(ایجنسیاں)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک )










