آر ڈی ایس ایس کے تحت زیرو پاور کٹ ٹرائل کی کامیابی کے بعد سرینگر کے مزید ۸۳ علاقے اس زمرے میں آئے :عمرعبداللہ
سرینگر/۲۴ دسمبر
کشمیر میں شدید سردیوں کے باعث بجلی کی کھپت میں نمایاں اضافے اور رسد میں کمی کے باوجود سرینگر کے۱۰۸ علاقوں میں اب چوبیس گھنٹے بلا تعطل بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جس سے تقریباً۲۵ء۱ لاکھ گھرانے مستفید ہو رہے ہیں۔
یہ بات جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز کہی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسے وقت میں جب موسمِ سرما کے دوران بجلی کا دباؤ غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے، سری نگر کے تقریباً ۴۸ فیصد گھروں کو۷x۲۴ بجلی کی فراہمی ایک اہم پیش رفت ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی ڈی سی ایل ) کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ادارے نے مزید ۸۳ علاقوں کو کامیابی کے ساتھ بلا تعطل بجلی کے دائرے میں شامل کیا ہے۔
دفترِ وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر کے مطابق’’وزیر اعلیٰ نے آج کے پی ڈی سی ایل کو مبارکباد دی کہ اس نے ری ویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم (آر ڈی ایس ایس) کے تحت زیرو پاور کٹ ٹرائل کی کامیابی کے بعد سرینگر کے مزید ۸۳ علاقوں کو ۲۴ گھنٹے بجلی کے زونز میں تبدیل کیا‘‘۔
یہ بیان دفترِ وزیر اعلیٰ نے ایکس پر جاری کیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کشمیر میں سردیوں کے دوران ہیٹرز، بلورز اور دیگر برقی آلات کے بڑھتے استعمال کے باعث بجلی کی طلب کئی گنا بڑھ جاتی ہے، جبکہ پن بجلی پیداوار میں موسمی کمی کے سبب رسد محدود ہو جاتی ہے۔ ایسے حالات میں سری نگر کے۱۰۸ علاقوں کو مسلسل بجلی کی فراہمی ایک بڑا انتظامی اور تکنیکی چیلنج تھا، جس پر قابو پایا گیا ہے۔
عمرعبداللہ نے مزید بتایا کہ اسی طرز پر دیگر اضلاع میں بھی بجلی کے نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات جاری ہیں، تاکہ مستقبل میں موسمِ سرما کے دوران بھی۷x۲۴بجلی کی فراہمی کو وسعت دی جا سکے۔
حکام کے مطابق، ری ویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم (آر ڈی ایس ایس)، جس کا آغاز مرکزی حکومت نے جولائی ۲۰۲۱میں کیا تھا، کا مقصد بجلی کی تقسیم کرنے والے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا، تکنیکی اور تجارتی نقصانات میں کمی لانا اور قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
اس منصوبے کے تحت، جسے کے پی ڈی سی ایل اور دیگر ایجنسیاں گرمیوں کے دارالحکومت سرینگر میں نافذ کر رہی ہیں، بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر اپ گریڈیشن کی جا رہی ہے اور اسمارٹ میٹروں کی تنصیب عمل میں لائی جا رہی ہے، تاکہ بجلی کے نقصانات کم ہوں اور سردیوں کے مشکل مہینوں میں بجلی کی بہتر تقسیم ممکن ہو سکے۔
غور طلب ہے کہ جموں و کشمیر میں موسمِ سرما کے دوران بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے تقریباً ۳۰۰۰ میگاواٹ بجلی بیرونی پیداواری کمپنیوں سے درآمد کی جا رہی ہے، کیونکہ دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں کمی کے باعث مقامی پن بجلی پیداوار میں شدید کمی واقع ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، طلب اور رسد کے بڑھتے ہوئے فرق کے نتیجے میں کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ کو وادی کے کئی علاقوں میں بجلی کی کٹوتیاں بھی کرنی پڑ رہی ہیں۔
جموں و کشمیر میں تقریباً ۳۵۰۰ میگاواٹ کی نصب شدہ پن بجلی صلاحیت کے مقابلے میں، موجودہ کم پیداواری دور (لین پیریڈ) کے دوران حقیقی پیداوار کم ہو کر تقریباً ۹۰۰ میگاواٹ رہ گئی ہے۔
اس میں سے صرف۱۰۵ میگاواٹ بجلی جموں و کشمیر کی ملکیت والے بجلی گھروں سے پیدا ہو رہی ہے، جبکہ تقریباً ۸۰۵ میگاواٹ بجلی جموں و کشمیر میں واقع مرکزی شعبے کے منصوبوں سے حاصل کی جا رہی ہے۔باقی ماندہ کمی بیرونی ذرائع سے بجلی درآمد کر کے پوری کی جا رہی ہے، جو پاور ٹریڈنگ ایجنسیوں کے ذریعے انتظام کی جا رہی ہے۔
محکمہ پاور ڈیولپمنٹ (پی ڈی دی) کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا’’یہ لین سیزن ہوتا ہے، جس کے دوران بیرونی ذرائع پر ہمارا انحصار نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ حکومت نے ہدایت دی ہے کہ ضروری بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بجلی خریدی جائے، تاہم فرق بہت زیادہ ہے اور اسے مکمل طور پر پْر کرنا مشکل ہے‘‘۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جموں و کشمیر کے اپنے پن بجلی منصوبوں سے پیداوار۱۱۴۰ میگاواٹ کی نصب شدہ صلاحیت کے مقابلے میں کم ہو کر تقریباً ۱۰۵ میگاواٹ رہ گئی ہے۔
بگلیہار، لوئر جہلم اور اپر سندھ جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ مرکزی شعبے کے منصوبے، جن میں سلّال، دل ہستی، اْڑی اور کشن گنگا شامل ہیں، میں بھی پانی کے بہاؤ میں کمی کے باعث پیداواری سطح صلاحیت سے کہیں کم ہے۔بجلی کی پیداوار میں یہ گراوٹ موسمِ سرما کے دوران کھپت میں تیز اضافے کے ساتھ ہی سامنے آئی ہے۔
عہدیداروں کے مطابق، کشمیر میں بجلی کی طلب ۲۰۰۰میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث کے پی ڈی سی ایل کو خسارے کو سنبھالنے کے لیے کئی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔
کے پی ڈی سی ایل کے ایک عہدیدار نے کہا’’موسمِ سرما میں طلب تیزی سے بڑھنے کے باعث بعض علاقوں میں منصوبہ بند اور غیر منصوبہ بند بجلی کٹوتیاں ناگزیر ہو گئی ہیں۔ ہم لوڈ ریگولیشن کے ذریعے صورتحال سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن نظام پر دباؤ بہت زیادہ ہے‘‘۔
پاور ٹریڈنگ کارپوریشن کے ایک عہدیدار نے کہا کہ بحران سے نمٹنے کے لیے بیرونی ذرائع سے بجلی کی خرید میں اضافہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا’’ہمیں ہدایت دی گئی ہے کہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے مارکیٹ سے اضافی بجلی حاصل کی جائے۔ تاہم، دستیابی اور قیمت بڑے مسائل ہیں، خاص طور پر موسمِ سرما کے عروج کے مہینوں میں، جب پورے شمالی خطے میں طلب بڑھ جاتی ہے‘‘۔
عہدیداروں کے مطابق، صورتحال میں بہتری اسی صورت ممکن ہے جب کیچمنٹ علاقوں میں خاطر خواہ برف باری اور بارش ہو، جس سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوگا اور پن بجلی پیداوار میں بہتری آئے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔










