جموں کشمیر کے ضلع بڈگام میں واقع این آئی اے کی خصوصی عدالت نے ہفتہ کے روز پاکستان میں مقیم حزب المجاہدین کے سربراہ محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے جموں و کشمیر پولیس کو ان کی گرفتاری کی ہدایت دی ہے۔
یہ حکم نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) ایکٹ کے تحت نامزد خصوصی جج نے اس مقدمے کی سماعت کے بعد جاری کیا، جو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) اور رانبیئر پینل کوڈ (آر پی سی) کی دفعہ ۵۰۶ کے تحت درج ہے۔ آر پی سی ۲۰۱۹ تک جموں و کشمیر میں نافذ فوجداری قانون تھا، جو انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کے مساوی ہے۔
عدالت نے کہا کہ تفتیشی افسر نے ایسے ٹھوس شواہد اکٹھا کیے ہیں جو بادی النظر میں شاہ کو یو اے پی اے کی دفعات ۱۳‘۱۸‘۲۰؍اور۳۹ کے تحت مختلف جرائم میں ملوث ثابت کرتے ہیں۔ ان دفعات کا تعلق ملک کی خودمختاری کو خطرے، دہشت گردانہ سازش اور دہشت گرد سرگرمیوں میں شمولیت سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ ملزم گرفتاری سے مسلسل فرار ہے، جس کے پیش نظر ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیا گیا ہے اور پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مذکورہ ایف آئی آر کے سلسلے میں شاہ کو گرفتار کرے۔
عدالت نے وضاحت کی کہ دفعہ۷۳ ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) مجسٹریٹ کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کے خلاف وارنٹ جاری کرے جو ناقابلِ ضمانت جرم میں مطلوب ہو اور گرفتاری سے بچ رہا ہو۔
محمد یوسف شاہ ۱۹۹۳ میں پاکستان فرار ہو گیا تھا اور۲۰۲۰ میں حکومتِ ہند نے اسے دہشت گرد قرار دیا تھا۔ وہ اس وقت پاکستان سے سرگرم ہے اور متحدہ جہاد کونسل (یو جے سی) کا سربراہ بھی ہے، جو کئی دہشت گرد تنظیموں کا اتحاد ہے۔
این آئی اے نے ۲۰۲۳ میں شاہ اور اس کے دو بیٹوں سے منسلک جائیدادیں ضبط کی تھیں۔ اس کے بیٹوں کو۲۰۲۱ میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک مقدمے میں گرفتاری کے بعد سرکاری ملازمتوں سے برطرف کر دیا گیا تھا










