نئی دہلی، 18 دسمبر (یو این آئی) سابق مرکزی وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر انوراگ سنگھ ٹھاکر نے "وی بی جی رام جی” بل کو غریبوں کے لیے ایک وردان قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ منریگا کا نام تبدیل کرنے پر اعتراض کر رہے ہیں، انہوں نے کبھی مہاتما گاندھی کی پرواہ نہیں کی ہے ۔
مسٹر ٹھاکر نے کل دیر رات لوک سبھا میں ‘وی بی جی رام جی بل’ پر بحث کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ گاندھی جی کے نام پر سیاست کر رہے ہیں اور انہیں لوگوں نے پہلے اسے جواہر روزگار یوجنا کا نام دیا ، اس وقت انہیں گاندھی کی یاد کیوں نہیں آئی۔ انہیں سمجھنا چاہئے کہ بی جے پی "کامدار ہے نامدارتو اپوزیشن کے وہ لوگ ہیں جو الزام لگانے پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ آج اس اسکیم کے نام کی مخالفت کر رہے ہیں انہیں سمجھنا چاہئے کہ ان کی حکومت نے 1989 میں جواہر روزگار یوجنا نام رکھا تھا، اس وقت انہیں مہاتما گاندھی کا نام یاد نہیں آیا۔ اس کے بعد بھی کئی بار نام بدلا گیا اور 2005 میں اس اسکیم کا نام تبدیل کیا گیا لیکن اس وقت بھی انہیں گاندھی جی کا نام یاد نہیں آیا لیکن جب 2009 میں انتخابات ہوئے تو گاندھی جی کی یاد آئی اور کانگریس کی قیادت والی حکومت نے اس اسکیم میں مہاتما گاندھی کا نام شامل کر دیا۔
مسٹر ٹھاکر نے کہا کہ یہ ایک اہم اسکیم ہے اور اس کا نام بدلنے کا الزام لگانا غلط ہے ۔ حکومت یہ بل دیہی علاقوں میں دیہاتیوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے لائی ہے ۔ بی جے پی کے ہی ڈاکٹر نشی کانت دوبے نے کہا کہ حکومت جو بل لے کرآئی ہے اس میں شفافیت ہے جس سے پریشان ہوکر اپوزیشن کی کئی جماعتوں کے لوگ بل کی مخالفت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بل کتنا اہم ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رات کے 1:30 بجے بھی ایوان میں وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان، پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو، پرہلاد جوشی، ارجن رام میگھوال، انوراگ ٹھاکر سمیت کئی دیگر اہم وزراء ایوان میں بیٹھے ہیں۔









